تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آرمی چیف کی تقرری: نظر ثانی کی جذباتی درخواست ۔۔ سید مجاہد علی

حکومت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری یا توسیع کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔ عدالت نے گزشتہ ماہ کے آخر میں حکم دیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر اس معاملہ پر قانون سازی کی جائے۔ جنرل باجوہ کو اس مدت میں عبوری توسیع دی گئی تھی۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں حکومتی اقدام کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی اور آئینی نقائص ہیں ۔ وفاقی حکومت نے ان نقائص کی درستی کے لئے نظر ثانی اپیل دائر کی ہے‘۔ حکومت کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ عوامی مفاد میں عدالت سے نظر ثانی کی درخواست کی جائے۔
فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو کار حکومت میں عدالت کی ناروا مداخلت قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حکومت کے پاس اب بھی پارلیمنٹ میں قانون سازی کا آپشن موجود ہے۔ تاہم حکومت نے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کی تیس روزہ مدت ختم ہونے کے دو روز قبل یہ درخواست دائر کرکے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملہ پر قانون سازی سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ حکومت آرمی چیف کی تقرری کے معاملہ پر پارلیمانی مباحث کو بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ یہی وجہ ہے کہ نظرثانی کی درخواست میں بھی سابقہ فیصلہ کو مسترد کرنے کی درخواست کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملہ کی سماعت ان کیمرا یعنی خفیہ طور سے ہونی چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نظر ثانی کی درخواست پر غور کے دوران میڈیا میں اس کی تشہیر نہیں چاہتی تاکہ عام لوگ اس بحث کے خد و خال آگاہ نہ ہوسکیں۔
سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے 28 نومبر کو ایک مختصر حکم میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی جانے والی تین سال کی توسیع کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حکومت یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کس قانونی اختیا رکے تحت یہ توسیع دی گئی ہے۔ عدالت نے جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی تھی اس حوالے سے قانونی سقم دور کیا جائے اور آئین کی شق 243 کی وضاحت کرتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری اور مراعات کے بارے میں قواعد وضع کئے جائیں۔ عدالت نے حکم دینے سے پہلے اٹارنی جنرل سے یہ یقین دہانی حاصل کی تھی کہ حکومت اس معاملہ پر چھ ماہ میں قانون سازی کرے گی۔ تاہم اب انہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وزیر قانون فروغ نسیم کی مشاورت سے نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ایک غیر معروف وکیل ریاض راہی کی غیر متوقع طور سے دائر کی جانے والی پٹیشن کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ درخواست میں اگست میں کئے گئے وزیر اعظم کے ایک حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے ذریعے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں تین سال کی توسیع کردی گئی تھی۔ درخواست دہندہ نے اس حکم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی تاہم جب سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 26 نومبر کو اس درخواست پر سماعت شروع کی تو ریاض راہی خود تو عدالت میں پیش نہیں ہوئے لیکن ایک تحریری درخواست میں پٹیشن واپس لینے کی استدعا کی۔ سپریم کورٹ کا بنچ اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشتمل تھا۔ بنچ نے ابتدائی سماعت میں ہی ریاض راہی کو پٹیشن واپس لینے سے روک دیا اور اس معاملہ کو اہم قانونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کی سماعت جاری رکھی۔
تین روز تک جاری رہنے والی سماعت میں اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وکالت کرنے والے فروغ نسیم عدالت کے سامنے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وزیر اعظم نے کس اختیار کے تحت آرمی چیف کو مزید تین سال کی توسیع دی تھی۔ اس دوران سرکاری نوٹی فیکیشن کے نقائص بھی سامنے آئے اور اٹارنی جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا یا یہ کہ وزیر اعظم جسے چاہے آرمی چیف مقرر کرسکتا ہے۔ اس کھینچا تانی کے آخر میں عدالت اس نتیجہ پر پہنچی کہ آرمی چیف کی تقرری اور مراعات کے حوالے سے کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس لئے حکومت 6 ماہ کے اندر قانون سازی کرے۔ اسی مدت کے لئے عدالت نے جنرل باجوہ کو کام کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
عام خیال تھا کہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے بعد حکومت اس معاملہ کو عدالت کی خواہش کے مطابق مناسب قانون سازی کے ذریعے حل کرلے گی لیکن اب حکومت نے عدالت کے فیصلہ کو نقائص سے پر قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔ عدالتی پریکٹس کے مطابق نظر ثانی کی اپیل میں زیر بحث معاملہ کے نئے قانونی پہلو اور شواہد سامنے آنے کی صورت میں ہی کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔ بصورت دیگر عام طور سے نظرثانی کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔ بعض معاملات میں نظر ثانی کی اپیل پر غور غیر معینہ مدت تک تاخیر کا شکار بھی رہتا ہے۔ جیسا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس سال فروری میں سامنے آیا تھا لیکن اس کے خلاف تحریک انصاف اور آئی ایس آئی کی نظر ثانی کی درخواستوں پر ابھی تک غور نہیں ہوسکا۔ آرمی چیف کی تقرری کے حکم پر نظر ثانی کی درخواست کے ساتھ بھی اگر وہی سلوک کیا گیا تو حکومت کو اس تعطل سے نکلنے کے لئے بہر حال پارلیمنٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔
26 صفحات پر مشتمل نظر ثانی کی درخواست کے حوالے سے بعض پہلو دلچسپ اور قابل توجہ ہیں۔ ایک تو درخواست میں سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کے دائرہ کار میں مداخلت کی شکایت کی گئی ہے لیکن نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے والوں میں صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل ہیں حالانکہ وہ حکومت کا براہ راست حصہ نہیں ہیں بلکہ ایک ’سرکاری ملازم ‘ ہیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملکی دفاع کے لئے تاریخ ساز خدمات انجام دی ہیں اور اقدامات کئے ہیں۔ ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کے فیصلہ کا وسیع طور پر خیر مقدم کیا گیا تھا۔ اس کے لئے مظاہرے کئے گئے اور سیمینار منعقد ہوئے۔ ان حالات میں ان کی دوبارہ تقرری مناسب ترین فیصلہ تھا۔ انہوں نے خود کبھی توسیع کی خواہش نہیں کی‘۔
اس طرح ایک طرف درخواست میں یہ کہا جارہا ہے کہ جنرل باجوہ خود اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ وزیر اعظم نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت انہیں توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن دوسری طرف نظر ثانی میں جنرل باجوہ کو مدعی اور فریق بنا کر اس بیان کی خود ہی تردید کردی گئی ہے۔ جنرل باجوہ وہ پہلے آرمی چیف ہوں گے جو اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کے لئے اب عدالت کا حکم حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
نظر ثانی کی درخواست میں قانونی نکات اور دلائل کا سہارا لینے کی بجائے دشمن کے رد عمل اور ففتھ جنریشن وار کے خطرے کا ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ تنازعہ کا شکارہونے پر پاکستان کے دشمن خوش ہوئے۔ پاکستان کو اس وقت ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے۔ پلوامہ سانحہ کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے واضح کیا کہ جنرل باجوہ کی قیادت میں مسلح افواج مستعد و تیار ہیں۔ ان کی سرگرم قیادت میں پاکستان کے لئے صحت مند فوجی عالمی تعلقات بہتر ہوئے اور حمایت حاصل ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ اس لئے ملک کے دو نمایاں اداروں یعنی مسلح افواج اور عدلیہ کا تحفظ صحت مند جمہوریت، قانون کی بالادستی اور اندرونی و بیرونی خطروں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے‘۔
حکومت ایک ایسے فیصلہ پر جذباتی طور سے اصرار کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے بارے میں وہ نومبر کے دوران ہونے والی سماعت میں دلائل دینے میں ناکام رہی تھی۔ اٹارنی جنرل یا فروغ نسیم نے نومبر میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم کے اختیار میں مداخلت کا نکتہ نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کس طرح پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم دے سکتی ہے۔ بلکہ اس وقت تو اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کی خواہش کے مطابق قانون سازی کا وعدہ کررہے تھے۔ اب یہی دو نکات نظر ثانی کی درخواست میں بنیادی دلیل کے طور پر پیش کئے گئے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ عدلیہ قانون سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور نہ ہی متوازی قانون ساز اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتی ہے۔ عدالتیں صرف غیر آئینی یا غیرقانونی صورت حال سے بچنے کے لئے مقننہ کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔ لیکن عدلیہ، مقننہ کو کسی روائیتی طریقہ کار کو قانون میں تبدیل کرنے کا حکم جاری نہیں کرسکتی‘۔
چیف جسٹس (ر) آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے چند روز بعد نظر ثانی کی درخواست دائر کرکے حکومت دراصل یہ امید لگا بیٹھی ہے کہ نئے چیف جسٹس حکومت کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے ہوئے اس معاملہ میں اس کی اعانت کریں گے۔ سپریم کورٹ اگر ایک بار پھر دیرینہ ’نظریہ ضرورت ‘ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ہی حکم کو تبدیل کرنے پر ’مجبور‘ نہ ہوگئی تو اس درخواست میں کوئی ایسی نئی دلیل موجود نہیں ہے جو نظر ثانی کے میرٹ پر پورا اترتی ہو۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker