تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : توہین وزیر نے کی ، سزا و تعزیر صحافی پر

آزادی صحافت کے نام پر کسی بھی صحافی یا نشریاتی ادارے کی غیر مشروط حمایت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی پر کسی سرکاری ادارے کو صحافی اور ٹی وی پروگرام کے خلاف کارروائی کا حق بھی نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لئے پیمرا کی طرف سے کاشف عباسی اور ان کے پروگرام پر ساٹھ روز کی پابندی قابل قبول نہیں ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی حکومت کا زیر نگیں نہیں بلکہ ایک خود مختار ادارہ ہے جس میں صحافیوں اور میڈیا مالکان کو بھی نمائیندگی حاصل ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران پیمرا نے حکومتی مفادات کے تحفظ کے لئے جس طرح آزادانہ رائے کو دبانے، پروگرام رکوانے اور میڈیا مالکان کو ایک خاص بیانیہ کی ترویج پر آمادہ کرنے کے لئے کردار ادا کیا ہے، اس کی روشنی میں اس نے خود ہی اپنی خودمختار حیثیت کو پامال کیا ہے۔ ہر حکومت اپنی مرضی سے پیمرا چئیرمین مقرر کرتی ہے اور سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سربراہ کو فارغ کردیا جاتا ہے۔ اسی سے اس ادارے کی حیثیت جانبدارانہ ہوجاتی ہے۔
کسی ادارے میں من پسند عہدیداروں کی تقرری کا مقصد ہی حکومتی مفادات کی حفاظت ہوتا ہے۔ جب پیمرا کو یوں سرکاری کنٹرول میں لایا جائے گا تو کوئی افسر میڈیا کی حفاظت کی بجائے اسے حکومت وقت کے سامنے سرنگوں کرنے کا فریضہ ہی سرانجام دے گا۔ یہی کام اس وقت پیمرا بھی کررہا ہے۔ اسی لئے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی اور ان کے خلاف سراسر جھوٹے بیان جاری کرنے پر پیمرا قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن جب بھی سرکاری بیانیہ یعنی نام نہاد ففتھ جنریشن وار ، حکومتی عہدیداروں یا عسکری اداروں کے حوالے سے کسی غیر ذمہ داری کامظاہرہ ہو تو پیمرا غیر معمولی سخت اقدام کرکے اپنی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پیمرا کا بنیادی کام میڈیا سنسر شپ نہیں بلکہ میڈیا اور اینکرز کی آزادی کا تحفظ ہے۔ اسے یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ کسی بھی نشریاتی ادارے کو مالی دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جاسکے ۔لیکن پیمرا اس معاملہ میں آج تک ایک بیان جاری کرنے کا روادار بھی نہیں ہؤا۔ ماضی قریب میں جیو اور ڈان ٹی وی کی نشریات کو متعدد علاقوں میں بند کیاجاتا رہا ہے۔ یا کیبل آپریٹرز کے ذریعے سامعین تک ان کی رسائی محدود کرنے کا اہتمام کیا گیا اور دیگر سرکاری ہتھکنڈوں کے ذریعے ان اداروں کو مجبور کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن پیمرا اس قسم کی کسی قانون شکنی پر کبھی فریق نہیں بنا۔
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری میڈیا کو نکیل ڈالنے کے متعدد منصوبوں کی بات کرتے رہتے تھے۔ معلومات کی موجودہ معاون خصوصی حتی کہ وزیر اعظم بھی ناپسندیدہ نشریات اور میڈیا کے بارے میں اپنی ناراضی دھمکی آمیز انداز میں سامنے لاتے رہے ہیں لیکن پیمرا کے نزدیک یہ معمول کی سیاسی سرگرمی ہے جو اس کے دائیرہ کار میں نہیں آتی۔ حکومت کے اسی طرز عمل کی وجہ سے میڈیا کو سنگین حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ اینکرز کو ضابطہ اخلاق کے نام پر سنسر کیا جاتا ہے یا مالکان کو ناپسندیدہ صحافیوں اور اینکرز سے نجات حاصل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن پیمرا کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ البتہ جیسے ہی کسی پروگرام میں سرکاری گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کا شبہ ہوتا ہے تو مناسب انتظامی یا قانونی کارروائی کے بغیر اینکر اور ٹی وی چینل کو سزا دینے اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طرح پیمرا دراصل حکومت وقت کے مفادات کا محافظ ادارہ بن چکا ہے۔ اس کا ملکی میڈیا کو تحفظ اور سپیس فراہم کرنے سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
کسی بھی اینکر پر پابندی اور اس کے پروگرام کو طویل مدت کے لئے آن ائیر جانے سے روک دینے کا مطلب، اس کے لئے معاشی صورت حال کو سنگین بنانا ہوتا ہے۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے کوئی بھی اینکر اور میڈیا ہاؤس وہی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہوگا جو مقتدر حلقوں کی خواہش کے عین مطابق ہو۔ اس طرح خودمختار اور آزادانہ رائے کی ترسیل کا راستہ روکا جارہاہے جو پیمرا کے اپنے نصب العین سے متصادم ہے۔ بدقسمتی سے میڈیا کے بعض سربرآوردہ لوگ اور ملکی عدالتیں میڈیا کے حوالے سے شکایات کے ازالے کے لئے پیمرا کو ہی باختیار بنانے کی بات بھی کرتی رہی ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ادارہ ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لئے کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انتہائی ادب کے ساتھ یہ کہنا مقصود ہے کہ سرکاری انتظام میں، سرکاری وسائل کے ساتھ چلنے والا کوئی ادارہ کبھی بھی آزاد، ذمہ دار اور متوازن صحافت کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ ملک کے صحافیوں کو اگر اپنی صفوں میں سے ’کالی بھیڑوں‘ کو نکالنا ہے اور عوام کا اعتماد ٹی وی نشریات اور لکھے حرف کی صداقت و سچائی پر بحال کرنا مقصود ہے تو انہیں خود ہی اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ ذمہ داری قبول کرنے کا پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ ملک کا صحافی اور اینکر خواہ وہ کسی قدر مقبول ہو، اس مقبولیت کو ذاتی اثر و رسوخ اور مفاد کے لئے استعمال کرنا بند کرے اور خود کو ملکی قوانین کا اسی طرح پابند سمجھے جس طرح ہر عام شہری پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کرنے کے بعد صحافی و اینکر عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں اور فلمی اداکاروں کی طرح اپنی مقبولیت ’کیش‘ کروانے کے ہتھکنڈوں سے گریز کریں۔
اس حوالے سے دوسرا اہم کام یہ ہے کہ صحافی اور میڈیا ورکر مل کر میڈیا ہاؤسز میں میڈیا مالکان کے ’حق ادارت‘ کے خلاف آواز اٹھائیں۔ کوئی میڈیا کبھی بھی اس وقت تک مکمل طور سے آزاد نہیں ہوسکتا جب تک اس کے مالکان ہی اس کی ادارتی پالیسی طے کرنے کے مجاز رہیں گے۔ پاکستانی میڈیا ہاؤسز میں یہ بری روایت راسخ کی گئی ہے کہ مالکان ہی اشاعت و نشریات کے ایڈیٹر ہوتے ہیں۔ اس لئے جب بھی ان کے معاشی مفاد پر زد پڑتی ہے تو وہ ایڈیٹر کے طور پر صحافیوں کی سرزنش یا اصلاح کا کام شروع کردیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو قبول کرنے کی وجہ سے ملکی صحافت کا اعتبار اور خود مختاری متاثر ہورہی ہے۔ تیسرے نمبر پر خود احتسابی کا ایک مؤثر نظام ملکی صحافتی اداروں میں متعارف کروانے اور کوئی ایسا خود مختار ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو حکومت اور مالکان کی بجائے صرف صحافیوں کے کنٹرول میں ہو۔ حکومت سمیت کوئی بھی متاثرہ فریق اس ادارے سے رجوع کرسکے اور اس کا فیصلہ صحافی، ادارے اور متاثرہ فریق کو قبول ہو۔ تاہم خوداحتسابی کے عمل کو باقاعدہ ادارے کی شکل دینے سے قبل، ملک کے صحافیوں میں اپنی غلطیاں پرکھنے اور تسلیم کرنے کا رویہ فروغ دینا ضروری ہوگا۔
میڈیا کی اصلاح احوال کے لئے اس بحث سے قطع نظر زیر غور پروگرام کے اینکر کاشف عباسی اور ان کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ پر پابندی کے لئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے پروگرام کے دوران ایک فوجی بوٹ نکال کر میز پر رکھا اور اینکر نے اسے منع نہیں کیا۔ حالانکہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کسی اینکر یا صحافی کے پاس کون سے فوجداری اختیارات ہوتے ہیں جن کے تحت وہ کسی شریک بحث شخص اور خاص طور سے میڈیا دشمن حکومت کے وزیر کو کسی غیر اخلاقی حرکت سے منع کرسکے۔ قانون کی عالمگیر تفہیم کے مطابق ہر بالغ شخص اپنے فعل کا خود ہی ذمہ دار ہوتا ہے لیکن پیمرا کے فیصلہ کے مطابق جس پر فوری طور سے عمل درآمد ہوگا ، ایک وزیر کی غیراخلاقی اور گھٹیا حرکت کی سزا ایک اینکر کو دی گئی ہے۔
پروگرام کے دوران کاشف عباسی کا طر زعمل مثالی نہیں تھا۔ انہوں نے ایک ذمہ دار صحافی ہونے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن ملکی ادارے کو بدنام کرنے کا ذمہ دار بہر صورت اینکر نہیں بلکہ فیصل واوڈا تھے۔ کیا پیمرا نے کوئی ایسا بیان، بریف اور رپورٹ حکومت کے لئے بھی تیا رکی ہے جس میں وزیروں کی بدکلامی اور غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی نشاندہی کی گئی ہو۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے وزیر اعظم عمران خان جو سیاست و صحافت میں مغربی ملکوں کی روایات کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور ڈیڑھ سالہ حکومتی دورانیہ میں مدینہ ریاست کے نام سے اعلیٰ اخلاقی اور سماجی اقدار متعارف کروانے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اپنے وزیروں کی کسی غیر اخلاقی اور ناجائز حرکت پر انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس پر زیر لب مسکراتے ہیں اور موقع ملنے پر مخالفین کے بارے میں گفتگو کے ایسے معیار قائم کرتے ہیں جو وزیروں و مشیروں کو اس سے ایک قدم آگے بڑھ حملہ آور ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔
فیصل واوڈا نے اسٹوڈیو کی میز پر فوجی بوٹ رکھتے ہوئے دراصل اپوزیشن پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بارے میں یہ کہا تھا کہ انہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے نہیں بلکہ فوج کے ’حکم ‘ پر کی تھی۔ واوڈا کے اس پیغام سے اپوزیشن کی توہین کا مقصد تو نہ جانے کس حد تک پورا ہؤا لیکن عسکری اداروں کے بارے میں ایک وزیر نے پبلک نشریات میں یہ اعتراف کیا کہ ملکی سیاسی فیصلوں میں عسکری ادارے پوری طرح ملوث ہیں۔ سرکاری طور پر کبھی اس حقیقت کی تصدیق نہیں کی گئی اور اگر واقعی ایسا ہؤا ہے تو حکومت کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اس نے اپنے زیر نگیں اداروں کو کس طرح ملک کی سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کی اجازت دی؟ آئینی ضرورتوں کی مبینہ خلاف ورزی کا جواب دہ کون ہوگا؟ فیصل واوڈا ان سوالوں کا جواب تو نہیں دے سکتے لیکن اپوزیشن پر چلاّ کر اپنا سیاسی قد بلند کرنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں۔
ایک پروگرام میں کی گئی الزام تراشی پر پیمرا کی طرف سے اینکر اور پروگرام کے خلاف تیزی سے کی گئی کارروائی کا مقصد دراصل اس سیاسی نقصان کا ازالہ کرنا ہے جو فیصل واوڈا کی فوج پر الزام تراشی کی وجہ سے حکومت کو پہنچا ہے۔ عمران خان نے اس اہم حکومتی معاملہ میں ہمیشہ کی طرح کمزوری کا مظاہرہ کیا اور بروقت فیصل واوڈا کی جواب دہی کرنے یا انہیں وزارت سے معطل کرنے کا اقدام کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی بجائے پیمرا کے ذریعے ایک صحافی کو سزا دے کر کہیں اور لگی آگ بجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
وزیر کی حماقت اور غلطی کی سزا اینکر کو دینے سے البتہ معاملات کو درست سمت میں رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ سیاسی بصیرت کی کمی کے علاوہ ایسے ساتھی عمران خان کی کمزوری بنے ہوئے ہیں جو ان کے خیال میں، ان کے سیاسی دشمنوں سے حساب برابر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی رویہ عمران خان پر بھاری پڑے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker