تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : دائرے میں گھومتی پاکستانی سیاست اور سی پیک کا قضیہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بعد اب وزیر اعظم عمران خان نے بھی سی پیک پر امریکی تنقید کو فضول یا احمقانہ قرار دیا ہے۔ یہ سوال اہم نہیں ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی نہ کسی بہانے پاک چین اقتصادی معاہدے پر کی جانے والی تنقید جائز ہے یا غلط، بلکہ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اور عوام تک پہنچانا ضروری ہے کہ پاکستان چین سے مالی اور سفارتی امداد لیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کیسے توازن قائم کرسکتا ہے۔
پاکستان کے دورے پر آنے والی امریکی سفارت کار ایلس ویلز نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک کے علاوہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان کے لئے ان کا پیغام یہ تھا کہ یہ منصوبہ قرضوں کا ایسا جال ہے جس سے نبرد آزما ہونا پاکستانی معیشت کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ اسی طرح انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس منصوبہ میں ایسی چینی کمپنیاں بھی ملوث ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے بلیک لسٹ کیا ہؤا ہے۔ ایلس ویلز کے یہ الزامات نہ تو ان کے ذاتی نظریات پر مبنی تھے اور نہ ہی نئے تھے۔ وہ جنوبی ایشیا کے لئے امریکی وزارت خارجہ کی اہم سفارت کار ہیں اور اس حیثیت میں وہ پہلے بھی سی پیک کے خلاف ایسی ہی باتیں کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی سی پیک مخالف بیان دے چکے ہیں۔
ایلس ویلز کے تازہ بیان پر زیادہ قضیہ اس لئے سامنے آیا ہے کیوں کہ انہوں نے یہ باتیں اسلام آباد کے دورہ کے دوران کہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ الزامات کو دہرایا ہے لیکن جب ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار پاکستان آکر سی پیک پر تند و تیز یا بے لاگ گفتگو کرتی ہیں تو اس کا سادہ سایہ مطلب ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستانی حکومت کو پیغام دیاجارہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں سی پیک سے متعلق معاملات رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ چینی وزارت خارجہ نے ایلس ویلز کے الزامات کو پرانا قصہ قرار دے کر مسترد کردیا اور پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان وہی فیصلہ کرے گا جو اس کے مفاد کے مطابق ہوگا۔
اب وزیر اعظم نے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سی پیک پر امریکی تنقید کو احمقانہ قرار دیا ہے۔ کسی ملک اور خاص طور سے امریکہ جیسی بڑی طاقت کے ’پالیسی‘ بیان کو مسترد کرنے سے معاملات طے نہیں کئے جاسکتے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی طرف سے امریکہ کے تحفظات دور کرنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے اور سی پیک کے حوالے سے جو الجھنیں یا ابہام موجود ہے اسے دور کیا جائے۔ لیکن پاکستان میں دیگر سب مباحث کی طرح اس معاملہ کو بھی لذت بیان کے لئے استعمال کرکے بات ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح سی پیک کی راہ میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں دور نہیں ہوں گی۔
تند و تیز بیان بازی کسی بھی مسئلہ کا سفارتی حل نہیں ہوتا۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری رہنے والی معاشی جنگ کے باوجود چین نے امریکہ کی تنقید کے جواب میں بیان دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ ہر سطح پر امریکہ کے ساتھ مواصلت کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر ایک ایسے سمجھوتے پر اتفاق کرلیا گیا جو دونوں ملکوں کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ سی پیک کے معاملہ پر بھی اسی قسم کا کوئی حل تلاش کرنا ناممکن نہیں ہے۔ تاہم اس کے لئے ٹھوس سفارتی کوششوں اور امریکہ کے ساتھ وسیع تر افہام و تفہیم پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس اہم معاشی معاملہ پر پبلک مقامات پر کی جانے والی تقریروں اور ٹی وی انٹرویوز میں الزام اور جوابی الزام کی صورت حال پیدا نہ ہو اور دونوں ملکوں کے سفارت کار اور ماہرین مل جل کر کوئی قابل قبول حل تلاش کرلیں۔
شاہ محمود قریشی کے اس بیان کی طرح کہ ‘پاکستان سی پیک کے سوال پر اپنے مفاد کے مطابق فیصلے کرے گا‘ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان کہ امریکی تنقید ’احمقانہ‘ ہے، اس اہم اور پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے میں معاون نہیں ہوسکتا۔ سب جانتے ہیں کہ ہر ملک اپنے مفادات اور ضرورتوں کے مطابق ہی سفارتی، معاشی اور سیاسی فیصلے کرتا ہے۔ اس لئے وزیر خارجہ کے اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ کمزور اور چھوٹا ملک ہونے کے طور پر پاکستان کو بڑے ملکوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت سی جائز و ناجائز خواہشات کو پورا بھی کرنا ہوتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سعودی عرب کی ناراضی کے خوف میں وزیر اعظم کے ملائشیا کانفرنس میں شرکت سے انکار کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ سعودی عرب کی ناراضی اسلام آباد کی فیصلہ سازی پر اس حد تک اثر انداز ہوئی کہ عمران خان اس منصوبہ سے ہی دستبردار ہو گئے جسے انہوں نے ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ترک صدر طیب اردوان کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔ تو سوچا جاسکتا ہے کہ اگر امریکہ نے سی پیک کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا تو پاکستان کی سفارت کاری اور معیشت کے لئے کتنی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
دلچسپ ہونے کے علاوہ پریشان کن امر یہ بھی ہے کہ ایلس ویلز نے ایک ایسے وقت میں اسلام آباد کی ایک تقریب میں سی پیک کے خلاف سخت بیان دینا ضروری سمجھا جب ڈیووس میں عمران خان صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کررہے تھے۔ اور شاہ محمود قریشی اس ملاقات کو پاک امریکہ تعلقات کے سنہری دور کی علامت بنا کر پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس مختصر اور غیر رسمی ملاقات کو اس قدر غیر معمولی اہمیت دینے کی کوشش کی کہ یوں ظاہر ہونے لگا کہ صدر ٹرمپ نے گویا پاکستان کا دورہ کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔ حالانکہ سچائی محض اتنی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اگلے ماہ بھارت کے دورے کے ساتھ پاکستان آنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ اس کی تصدیق اب پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی کردی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے سوال پر امریکی صدر کے وعدوں کا ذکر بھی کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس سلسلہ میں پاکستان کی مدد کرے گا۔ حالانکہ ایف اے ٹی ایف کے 39 رکن ممالک ہیں جن میں امریکہ بھی ایک رکن ہے۔ اگر یہ درست ہے کہ امریکہ کو سپر پاور ہونے کے ناتے کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کی طرح اس ادارے میں بھی اثر و رسوخ حاصل ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے وقت بھارت کے اعتراضات اور مخالفت پر بھی غور کرے گا۔ اس مسئلہ کا آسان حل تو یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے ان اقدامات کی فہرست پاکستان کو فراہم کی ہے جو ملکی معیشت کو دہشت گردوں کا آلہ کار بنانے سے بچانے کے لئے ضروری ہیں۔ ان پر عمل درآمد کرکے پاکستان خود ہی اپنی مدد کرسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سی این بی سی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی تنقید کو مسترد کیا اور تفصیل سے چین کے پاکستان پر ’احسانات‘ کا ذکر کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ چین نے ایسے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی جب ملکی معیشت زمین بوس ہوچکی تھی۔ یہ قرار دینا کہ پچاس ساٹھ ارب ڈالر کے سی پیک منصوبے چین نے صرف پاکستان کو معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے شروع کئے تھے تو اسے معاشی، سفارتی اور سیاسی امور سے ناشناسائی ہی کہا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان کو اس منصوبہ کے ذریعے سرمایہ کاری میسر آرہی ہے تو متعدد چینی کمپنیوں کو بھی اس منصوبہ میں ٹھیکے دے کر معاشی فوائد حاصل کئے گئے ہیں۔ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ دنیا کے ڈیڑھ سو ملکوں کو مواصلاتی لحاظ سے ایک دوسرے سے ملائے گا۔ اس مقصد کے لئے چین نے پاکستان میں ہی نہیں ایشیا اور افریقہ کے متعدد ملکوں میں بھی کثیر سرمایہ کاری کی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور گوادر کی قدرتی بندرگاہ کی وجہ سے سی پیک کو اس روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ سی پیک پر تنقید کرنے والے متعدد ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان نے چینی سرمایہ کاری کے دھوکے میں اسے بہت زیادہ مراعات دی ہیں۔ جن میں گوادر بندرگاہ پر اجارہ داری کے علاوہ سخت شرائط پر چینی کمپنیوں سے کام کروانے کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے کبھی بامقصد مباحث کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ ہی سی پیک منصوبوں کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر عام گفتگو کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ حتی کہ پارلیمنٹ میں بھی اس سوال پر بحث نہیں ہوئی جس کا ملک کے سفارتی، سیاسی اور معاشی معاملات پر دوررس اثر مرتب ہوگا۔
سی پیک پر جذبات سے لبریز زوردار بیانات دینے کی بجائے اس معاملہ پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے اور دنیا کے علاوہ پاکستانی عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اس وقت سی پیک کے سب سے بڑے وکیل تو بنے ہوئے ہیں لیکن اقتدار میں آنے سے پہلے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہی اس پر سب سے زیادہ اعتراض اٹھارہی تھی۔ امریکہ ہی نہیں ملک کے تینوں چھوٹے صوبوں کو اس منصوبہ کے حوالے سے تحفظات ہیں جنہیں سیاسی مکالمہ کے ذریعے دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
پاکستان کسی ٹھوس حکمت عملی کے بغیر اس مشکل سے نہیں نکل سکتا۔ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر قومی اتفاق رائے پیدا کرکے ہی سفارتی طور سے پاکستانی پوزیشن مستحکم کی جاسکتی ہے۔ ایسے معاملات میں رازداری اور بیان بازی کافی نہیں ہوسکتی۔ عمران خان کی حکومت البتہ قومی اتفاق رائے کو اپنے ’کرپشن مکاؤ‘ سلوگن کے لئے زہر قاتل سمجھتی ہے۔ قومی سیاست میں دائروں کے اس سفر سے باہر نکلے بغیر سی پیک کا تنازعہ پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی بجائے مزید مشکلات اور رکاوٹوں کا سبب بنتا رہے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker