پنجابتجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : تخت پنجاب کا معرکہ، عثمان بزدار کا جانشین کون ہوگا؟

پاکستانی سیاست میں خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ یہ تو ضروری نہیں ہے کہ یہ طوفان کسی غیر متوقع تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو لیکن اس پراسرار خاموشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے یقینی، ملکی معیشت کے لئے مہلک اورحکومت کی فیصلہ سازی میں رکاوٹ کا سبب بھی رہے گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے ڈیووس کے ہنگامہ خیز دورہ سے واپسی کے فوری بعد لاہور اور کراچی کا دورہ کیا ہے اور ناراض سیاسی عناصر کو ’حوصلہ‘ دینے اور مسائل حل کرنے کی امید دلائی ہے۔ حتی کہ کراچی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے ملاقات میں انہوں نے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر کلیم امام کا تبادلہ کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کی ہے جو عمران خان جیسے منتقم مزاج سیاست دان کے طریقہ کار سے متضاد رویہ ہے۔ سندھ حکومت کلیم امام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہی تھی لیکن مرکزی حکومت نے سندھ حکومت کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ عمران خان مسلم لیگ (ن) کو حقیقی سیاسی خطرہ سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے اس سے قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی کوئی مفاہمانہ طرز عمل اختیارکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ اس وقت چاروں صوبوں میں پیدا ہونے والے سیاسی طوفان سے نمٹنے کے لئے انہوں نے مراد علی شاہ کا مطالبہ مان کر پیپلز پارٹی کے لئے نرمی اختیار کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
اس سے قبل دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے علاوہ ناراض ارکان پنجاب اسمبلی سے بھی ملاقات کی۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران عمران خان نے سیاسی مطالبات سنے اورگلے شکوے دور کرنے اور انتظامی امور میں ارکان اسمبلی کی شکایات رفع کرنے کی ہدایت کی۔ یہ اقدام بھی وزیر اعظم کے ماضی کے طریقہ کے برعکس کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس سے پہلے وہ عثمان بزدار کو دیانت دار اور بہترین صلاحیتوں کا حامل وزیر اعلیٰ قرار دے کر ان کے خلاف سامنے آنے والی کسی شکایت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ خبروں کے مطابق لاہور کی ملاقاتوں میں اگرچہ وزیر اعظم نے دبے لفظوں سے یہ کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ کون لوگ عثمان بزدار کو ہٹانا چاہتے ہیں لیکن اس پر زیادہ کھل کر بات نہیں کی۔ بلکہ ایک خبر کے مطابق عمران خان نے حاضرین کو بتایا کہ اگر اس موقع پر عثمان بزدار کو ہٹایا گیا تو شاید نیا وزیر اعلیٰ پندہ بیس دن بھی نہ نکال سکے۔
یہ بیان دراصل وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تحریک انصاف اب پنجاب میں سیاسی لحاظ سے اس قدر مضبوط نہیں ہے جتنی 2018 میں عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ منتخب کرواتے وقت تھی۔ یہ اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ناراض ارکان اور پریشان حلیفوں کو خوش کرنے کے لئے عمران خان پنجاب کا وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں تو پارٹی کے لئے اپنا نیا امید وار منتخب کروانا آسان نہ ہو۔ ایک تو اس عہدے کے لئے پارٹی کے اندر بھی سخت کھینچا تانی سامنے آسکتی ہے ، اس کے علاوہ ایسی صورت میں مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوانے کے لئے ہر ممکن سیاسی ہتھکنڈا استعمال کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) بھی تحریک انصاف کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لئے مسلم لیگ ( ق) کے ساتھ شدید اختلاف کے باوجود چوہدری پرویز الہیٰ کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ اگرچہ یہ قابل فہم نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) چوہدری پرویز الہیٰ جیسے آزمودہ اور ماضی کے کامیاب وزیر اعلیٰ کی سیاسی حمایت کا فیصلہ کرکے صوبے میں اپنی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔
عمران خان کو پنجاب میں اصل خطرہ اپنے حامیوں سے ہی ہے۔ اب ملک کے عوام کی طرح ارکان اسمبلی بھی صرف اس نعرے پر گزارہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ سابقہ بدعنوان حکومتوں نے خزانہ خالی کردیاتھا اور حکومت نے معیشت کو درست راستے پر گامزن کردیا ہے، ایک دو سال میں معاشی ترقی کے ثمرات سامنے آنے شروع ہوجائیں گے۔ ارکان اسمبلی کا فوری مسئلہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں زیادہ سے زیادہ وسائل کا حصول ہے تاکہ وہ اپنے علاقے میں کچھ کارکردگی دکھا کر آئیندہ انتخابات میں کامیابی کی امید کرسکیں۔ تاہم ارکان اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اقتصادی لحاظ سے مشکل ہونے کے علاوہ آئی ایم ایف کے طے کردہ رہنما اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ عمران خان کی حکومت کے ہاتھ کئی طرح سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس لئے اس وقت تک عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ رکھنے پر اصرار کیا جائے گا جب تک صوبائی اسمبلی میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی باقاعدہ تحریک سامنے نہیں آجاتی۔ اس صورت میں مسلم لیگ کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بننے کا موقع دینے کی بجائے، تحریک انصاف چوہدری پرویز الہیٰ کو متبادل کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ البتہ سیاسی بداعتمادی کے ماحول کو جاری رکھنے کی صورت میں ایسا وقت آنے پر تحریک انصاف مکمل طور سے بے بس بھی ہوسکتی ہے۔
سیاسی ناراضی صرف سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت یا پنجاب میں پارٹی ارکان اور حلیف جماعتوں کی شکایات تک ہی محدود نہیں ہے۔ خیبر پختون خو امیں وزیر اعلیٰ محمود خان کے خلاف ’بغاوت‘ کرنے والے تین صوبائی وزیروں کو کابینہ سے نکال دیا گیا ہے۔ صوبے میں سیاسی طوفان پر قابو پانے کا کام وزیر دفاع اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ لیکن صوبائی کابینہ کے تین اہم وزیروں کو بے دخل کرنے کے بعد سیاسی رفو گری کا کام انضباطی کارروائی کی دھمکیوں سے پورا نہیں ہوسکے گا۔ خاص طور سے جب باقی صوبوں میں بھی تحریک انصاف کی حکومتوں کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف بھی سیاسی محاذ گرم ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے تحریک انصاف کی مرکزی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ تحریک انصاف کے وزیر اور لیڈر سندھ میں سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں بھی کرتے رہے ہیں۔ باقی تینوں صوبوں میں تحریک انصاف اپنی ہی حکومتوں کو سیاسی طور سے مستحکم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت کسی ایک صوبے میں بھی اگر تحریک انصاف کی گرفت کمزور پڑتی ہے تو مرکز میں اس کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوگا۔ عمران خان دراصل اب اسی مشن پر روانہ ہیں کہ کسی طرح صوبوں میں ناراضگی اور سیاسی چپقلش کو دور کیا جائے تاکہ وہ خود مرکز میں سامنے آنے والے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی خاموشی اور درپردہ مقتدر حلقوں سے مفاہمت کی صورت میں درپیش ہے۔
اس حوالے سے میڈیا میں نت نئی خبریں بھی حکومت کی سیاسی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ سب خبریں درست نہ ہوں اور ان میں سے کافی قیاس آرائیوں پر مبنی ہوں لیکن تحریک انصاف ایک طرف ڈیڑھ پونے دو سالہ حکمرانی کے دوران سیاسی ہم آہنگی اور مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف اس کے معاشی و سفارتی اہداف بھی واضح نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ان دونوں شعبوں میں کسی قسم کی مثبت کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں آٹے اور چینی جیسی بنیادی اجناس نایاب ہوجائیں اور بجلی، گیس اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہو، وہاں پر حکومت صرف سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرا کر یا ہمسایہ ملک کی طرف سے درپیش اندیشوں کے نام پر اپنی مقبولیت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ تحریک انصاف ملک کی پہلی سیاسی پارٹی نہیں ہے جسے معیشت ’دگرگوں‘ حالت میں ملی ہے لیکن یہ ایک ایسی پہلی حکومت ضرور ہے جو مالی عدم منصوبہ بندی کا الزام سابقہ حکومتوں پر عائد کرکے اس کی قیمت عوام کو ادا کرنے پر مجبور کررہی ہے۔
اس سال کے شروع میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے سامنے آنے والے سیاسی اتفاق رائے کو اگرچہ جمہوری روایت کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا تھا لیکن ایک قانون پر پارلیمنٹ کی تین بڑی پارٹیوں کے اتفاق رائے سے یہ امید بھی پیدا ہوئی تھی کہ ملک میں سیاسی انتشار اور کھینچا تانی کی صورت حال ختم ہوسکے گی۔ لیکن پہلے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے رویے اور بعد میں ان کے وزیروں و مشیروں کے بیانات نے خوش فہمی کے اس غبارے سے ہوا نکال دی۔ فیصل واوڈا نے جس طرح اس معاملہ میں فوج کو ملوث کرنے کی کوشش کی، اس سے ملک کی سیاست اور موجودہ حکومت کی صحت پر اثرات مرتب ہونا لازم ہے۔ اس بیان سے درحقیقت ایک پیج کے نام سے بیان کی جانے والی ہم آہنگی پر براہ راست حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن عمران خان اس کا ادراک کرنے اور کوئی مناسب سیاسی اقدام کرنے میں ناکام رہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ حکمران پارٹی کو صرف اپوزیشن کی خاموشی سے ہی سازش کی بو نہیں آتی بلکہ ہر خبر میں ان عناصر اور ’مافیا‘ کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے جو موجودہ حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ اپوزیشن کو سیاسی طور سے بدحواس اور خستہ حال حکومت کے خلاف کسی ’ منصوبہ بندی ‘ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ خود ہی اپنے آشیانے میں چنگاریوں کو ہوا دے رہی ہے۔ بدنصیبی البتہ یہ ہے کہ اس کا کفارہ ملک کے غریب عوام ، ملکی معیشت اور سفارتی ساکھ کو ادا کرنا پڑے گا۔
( بشکریہ : کاروا ن ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker