اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھااورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتاہے اور وقت کا بہاؤ ان کے جعلی رعب ودبدبے والی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھرہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو نیست ونابودہوتے بھی دیکھا۔
Browsing: امجد اسلام امجد
ایم اے کے بعد وہ ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو کے ساتھ منسلک ہو گئے اور اس کے سربراہ کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ امجد اسلام امجد کا ادبی سفر 50 برسوں پر محیط ہے ۔ انہیں 1979 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے وارث سے لازوال شہرت حاصل ہوئی ۔
مجھے وہ وقت یاد ہے جب میں اور ضیا محی الدین کبڈی کھیلا کرتے تھے، ضیا صاحب نے سرخ رنگ کا جانگیہ زیب تن کیا ہوتا…
امجد اسلام امجد کا ڈرامہ وارث جب پی ٹی وی پر چلتا تھا تو اس وقت پاکستان ہی نہیں بھارت کے شہروں کی سڑکیں بھی ویران…
امجد اسلام کی شخصیت میں ایک اہم بات یہ تھی کہ وہ بے حد محنتی تھا، محفل سازی کے باوجود وہ اپنے اصل کام سے غافل…
کامریڈ جمال الدین بخاری ایک مزدور کانفرنس میں شرکت کیلئے 1945میں احمد آباد گئے تھے تو شانتا نام کی ایک ہندو لیبر ورکر جو خود بھی…
امجد اسلام امجد کی شاعری سے میں بعد میں متعارف ہوا، اس سے پہلے ان کے ڈائیلاگ کو جانا۔ ’اڈ مکھی‘ اور ’سواد آ گیا بادشاہو‘…
نئے سال کے آتے ہی امجد صاحب رخصت ہوئے۔ امجد اسلام امجد ادب کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ اب کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں…
لاہور : نام ور شاعر ، ڈرامہ نگار ، کالم نگار اور ماہر تعلیم امجد اسلام امجد جمعہ کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے لاہور…
اسی کی دہائی کے آغاز میں جب امجد اسلام امجد صاحب کے ’’وارث‘‘ کا بہت چرچہ تھا تو ان دنوں اس ڈرامے کی ایک قسط بھی…
