طاہر سرور میرکالملکھاری

طاہر سرور میر کا کالم : شوکت علی، کھلی اور طاقتور آواز کے مالک فنکار جن کا تکیہ کلام ’بسم اللہ بسم اللہ‘ تھا

شوکت علی کو پنجاب کی آواز کہا گیا۔ اپنی کھلی اور طاقتور آواز سے جس طرح انھوں نے 1965 کی جنگ کے دوران ساتھیوں اور ’مجاہدوں‘ کو پکارا وہ پکار، صدا اور للکار حب الوطنی کے لافانی نعرے کے طور پر فضاؤں میں آج بھی گونج رہی ہے۔
شوکت علی کے آباؤ اجداد گجرات سے لاہور آباد ہوئے اور پھر ہمیشہ کے لیے زندہ دلان ہو گئے۔ یہ زندہ دلی شوکت علی کی طبیعت کا ’برانڈ سمبل‘ تھا ۔ ’بسم اللہ بسم اللہ‘ ان کا تکیہ کلام تھا۔ جس کسی سے بھی ملتے یا مخاطب ہوتے ’بسم اللہ‘ گفتگو کا آغاز اور انجام رہتا۔
شوکت علی کی پیدائش اندرون لاہور بھاٹی میں ہوئی۔ ابھی دو سال کے تھے جب ان کے والد میاں فقیر محمد دنیا سے چل بسے۔
والد ٹیلر ماسٹر تھے اور پہلوانی کا شوق بھی رکھتے تھے لیکن ان کا سایہ بہت جلد بچوں کے سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد یتیم بچوں کی ماں نے ہی اپنا اور والد دونوں کا کردار نبھایا۔
شوکت علی کے پہلے گیت پر حکومت نے پابندی عائد کیوں کی؟
وہ فنکار گھرانے میں پیدا ہوئے اور سُر اور تال ان کے خون کی تاثیر تھی۔ اپنے بڑے بھائیوں عنایت علی اور عاشق علی سے گانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ پھر 60 کی دہائی میں موسیقار ایم اشرف نے فلم ’تیس مار خان‘ میں ایک گیت گوایا جس کی استھائی یوں تھی ’پگڑی اتار چورا، پگڑی اتار چورا‘۔
فلم میں یہ گیت اس وقت کے سپرسٹار علاؤالدین پر فلمبند ہوا اور مشہور ہو گیا۔ حکومت کی طرف سے اس گیت پر فوراً پابندی عائد کرنے کے احکامات دیے گئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں میں پگڑی کسی صاحب اختیار کے پہناوے کا مستقل حصہ تھی لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا اور شوکت علی کی مقبولیت کا آغاز ہو چکا تھا۔
’ساتھیو، مجاہدو جاگ اٹھا ہے ساراوطن‘
شوکت علی نے اپنے کرئیر میں ریڈیو، ٹی وی، فلم، تھیٹر کے ساتھ ساتھ میلوں ٹھیلوں میں بھی گایا۔ اپنی ہنس مکھ، ملنسار اور عاجزانہ طبیعت کے باعث دوستوں کے حلقے میں بڑے مقبول تھے۔
سنہ 1964 کے آخری دنوں میں یہ گیت ’ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘ شوکت علی اور مسعود رانا نے گایا تھا۔ یہ گیت فلم ’مجاہد‘ کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا جسے لکھا حمایت علی شاعر نے تھا اور اس کی دھن ترتیب دینے والے موسیقار خلیل احمد تھے جو ملی نغموں تیار کرنے کے ماہر تھے۔
ستمبر65 کی جنگ میں یہ فلمی گیت ملی ترانے کی حیثیت اختیار کر گیا۔
لگ بھگ 28 فنکاروں کے ہمراہ جی ایچ کیو کے زیر اہتمام آل پاکستان میوزک کانفرنس میں شامل فنکاروں نے جنگ کے دوران پاکستانی افواج کے حوصلوں کو بلند رکھنے میں اپنی کاوشیں پیش کیں اور شوکت علی اس سلسلے میں نمایاں رہے۔
شوکت علی اور خالد عباس ڈار نے ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لاہور سیکٹر میں فوجی دستوں کے سامنے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
اعلان ہوا کہ زاہدہ پروین ایک ملی نغمہ پیش کریں گی اور اسی اثنا میں ایک فوجی جوان کی خون میں لت پت لاش لائی گئی۔
وہاں پر موجود فنکار یہ دیکھ کر سہم گئے تو ایک کرنل نے فوجی کی لاش کو سفید چادر سے ڈھاپنتے ہوئے کہا کہ ’وطن کی حفاظت کیلیے جان قربان کرنا ہمارا ایمان اور فرض ہے، آپ پروگرام کو آگے بڑھائیں‘۔ اس کے بعد زاہدہ پروین نے ملی نغمہ پیش کیا۔
فوجی جوانوں اور افسروں نے انھیں سیلوٹ کر کے روانہ کیا
شوکت علی کے بیٹے عمران شوکت نے روتے ہوئے بتایا کہ والد صاحب (شوکت علی) گذشتہ 18 دن سے لاہور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج تھے اور جمعرات کو ان کی وفات ہو گئی۔
عمران شوکت نے کہا کہ شوکت علی نے وطن اور فوج سے محبت کے گیت گائے تھے آج جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو فوجی ہسپتال (سی ایم ایچ) سے جوانوں اور افسروں نے انھیں سیلوٹ کر کے روانہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ شوکت علی جگر کے عارضے میں مبتلا تھے لیکن ان کی موت دل کے دورے سے ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سرکاری طور پر شوکت علی کے جگر کے ٹرانسپلانٹ (پیوند کاری) کے احکامات صادر فرمائے تھے اور انھیں گمبٹ کے ہسپتال میں لے جایا گیا لیکن ان کی کمزور حالت کے باعث آپریشن نہ ہو سکا۔
خالد عباس ڈار اور شوکت علی کی دوستی مثالی رہی
معروف اداکار و فنکار خالد عباس ڈار اور شوکت علی کی دوستی مثالی تھی۔ خالد عباس ڈار نے کہا کہ شوکت علی میرا ایک حصہ تھا اور آج دنیا سے چلے جانے کے بعد میں نا مکمل ہو گیا ہوں۔
خالد عباس ڈار نے بتایا کہ میں گورنمنٹ کالج میں پڑھا کرتا تھا اور شوکت علی وہاں مجھے ملنے آیا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ شوکت علی گورنمنٹ کالج میں اتنی کثرت سے آتے تھے کہ وہ ’راوین‘ (گورنمنٹ کالج سے پڑھنے والے طلبا کو راوین کہا جاتا ہے) مشہور ہو گئے تھے۔
انڈین پنجاب اور بالی وڈ میں شوکت علی کی مقبولیت
انڈیا کے پدم شری ایوارڈ یافتہ گلوکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پنجاب سے اہم رکن ہنس راج ہنس نے کہا کہ دنیا پر ایک مشکل وقت چل رہا ہے اور اچھے لوگ یہاں سے جا رہے ہیں۔
ہنس راج نے کہا کہ ہمیشہ یوں لگا کہ شوکت علی پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا کے بھی آرٹسٹ تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ 70 کی دہائی کے وسط میں ’جب مجھے موسیقی کی شُد بُد ہوئی تو میں نے دیکھا شوکت علی کا نام انڈین پنجاب میں گونج رہا تھا۔ میرے استاد پورن شاہ کوٹی، میاں محمد بخش کا کلام سیف الملکوک گاتے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ بھیرویں راگ میں شوکت علی نے پاکستان میں گایا تھا۔‘
ہنس راج نے بتایا کہ نوازشریف دور میں جب انڈیا اور پاکستان میں دوستانہ تعلقات قائم ہو رہے تھے تو شوکت علی، عنایت حسین بھٹی اور پرویز انھیں واہگہ اٹاری باڈر پر لینے آئے تھے۔
’لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں میری پرفارمنس اچھی ہو گئی تو شوکت علی نے پنجابی میں کہا ’ایہدے تے چدر پا دئیو کدھرے نظر نہ لگ جاوے‘۔ (اس پر چادر اوڑھ دیں کہیں اسے نظر نہ لگ جائے)۔’بہت کھلے دل کے انسان تھے، اپنے سے چھوٹے کی بھی دلجوئی کرتے تھے۔‘
انڈین گلوکار دلیر سنگھ مہدی نے بھی دکھی لہجے میں کہا کہ شوکت علی پنجاب کے لاڑھے (دولھا ) تھے۔ ان کے چلے جانے سے پنجابی موسیقی کی مانگ اجڑگئی ہے۔
انڈین گلوکار جس بھیر سنگھ جسی نے کہا کہ شوکت علی دونوں اطراف کے پنجاب کے بادشاہ تھے اور ہم انھیں سن کر گلوکار بنے ہیں۔
انڈین گلوکار جسپیندر نیورولا کو عورتوں کی شوکت علی کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وہ بچپن سے شوکت علی کی پرستار رہیں اور شوکت علی کی طرح ہی باجے کی پہلی سپتک سے تیسری سپتک تک گاتی رہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب پنجاب جاتے تھے تو وہاں لاہور ٹی وی کی مدھم سی نشریات دکھائی دیتی تھیں جس پر ٹرانسمیشن کی لائنیں بھی ہوتی تھیں۔ ’شوکت علی کی محبت میں ہم اس دھندلے ٹی وی کو دیکھ کر گرفتار ہوئے تھے۔‘
انھوں نے کہا شوکت علی کھلی آواز کے مالک فنکار تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سُریلے بھی اتنے ہی تھے۔
ممبئی سے نامور ڈھول نواز رمضان رمزو نے کہا کہ شوکت علی نے انڈین پنجاب کے آرٹسٹس کا رزق لگایا تھا اور گرداس مان، آسا سنگھ مستانہ، کلدیپ مانک اور جیزی بی سمیت بہت سے فنکار ان کے گائے گیت گاتے رہے۔
پاکستانی فلموں کے مصنف محمد پرویز کلیم نے بتایا کہ منیر نیازی، حسن نثار اور شوکت علی کے ہمراہ جالندھر گئے تو وہاں گرداس مان اور ہربجھن مان کو ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے دیکھا۔
’اگلے دن شوکت علی کے ساتھ ان انڈین فنکاروں کے مہمان بنے تو اوسان خطا ہو گئے۔ ہربجھن مان سنگھ کا گھر ایک محل کی طرح تھا اس لمحے دل میں خیال آیا کہ شوکت علی کو گانے والے انڈیا میں محلوں میں رہتے ہیں اور شوکت علی پاکستان میں چھوٹے سے مکان میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker