چمن : صوبہ بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے انھیں پاکستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل افغان علاقے ویش منڈی میں طالبان کی موجودگی کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے بھی نظر آ رہے ہیں۔
ویش منڈی کا علاقہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے جو افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار اور جنوب مغربی صوبوں کو پاکستان سے جوڑتی ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی سرحد کے اُس پار ہونے والی اس نئی پیش رفت کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحدی گزرگاہ ‘بابِ دوستی’ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ اس علاقے میں سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر افغان طالبان اور عام پاکستانی شہریوں کی جانب سے ریلیز کردہ چند ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں ‘باب دوستی’ کے پار افغان علاقے میں موجود سکیورٹی چیک پوسٹ پر طالبان کا جھنڈا لہراتا نظر آ رہا ہے۔بی بی سی پشتو کے نمائندے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کہا کہ طالبان نے ویش منڈی کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور وہاں اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔
بی بی سی پشتو نے اس حوالے سے افغان حکام کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ انھوں نے ویش منڈی کے تاجروں اور عوام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ جلد ہی اس علاقے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی تجارت اور ٹریفک کو بحال کر دیا جائے گا۔
مقامی صحافیوں سے موصول ہونے والی چند ویڈیو میں بعض افراد طالبان کی جانب سے ہونے والی اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم ان ویڈیو کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
چمن کے ایک سینیئر صحافی اصغر اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے آج صبح جب اطلاعات کی حصول کے لیے پاکستان، افغانستان سرحد کی جانب جانے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں اس جانب نہیں جانے دیا۔
انھوں نے کہا کہ علاقے کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور وہاں کسی کو تصاویر بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔حکام کے مطابق ویش منڈی کا کنٹرول طالبان نے منگل کی شب حاصل کیا ہے۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار طالبان ویش منڈی کے علاقے میں آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ایک ویڈیو میں لوگ آپس میں بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ‘کاروان پہنچ گئے۔ سفید جھنڈے والے آ گئے ہیں۔’ ایک ویڈیو میں بچوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں وہ کسی بڑے سے پوچھ رہے ہیں کہ ‘وہ بولدک تحصیل کو لے سکتے ہیں یا نہیں۔’بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ سپین بولدک افغانستان کا چمن کے قریب ایک سٹریٹیجک علاقہ ہے اور یہ ویش منڈی سے شمال میں قندھار کی جانب اندازاً 12 سے 15کلو میٹر کے فیصلے پر واقع ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں ایک شخص چند طالبان کا ‘مجاہد’ کہہ کر تعارف کروا رہا ہے اور پوچھتا ہے کہ ‘یہ کون سا علاقہ ہے’ جس پر ایک مسلح شخص بتاتا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقہ ہے اور ‘اس علاقے کو اللہ پاک نے گذشتہ شب 12 بجے منافقین کے وجود سے پاک کیا ہے۔’
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو پہلے سے طے شدہ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ (آج) چمن جا رہے تھے۔یہ اجلاس ان آٹھ منقسم دیہاتوں میں سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تھا جو کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحد واقع ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ چمن کے راستے ہیں اور ان کا وہاں کے ضلعی حکام سے رابطہ ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارڈر کو مکمل طور پر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کیا گیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

