ادبطلعت جاویدلکھاری

ذکر ایک مسیحا کا – ڈاکٹر کلیم ارشد(2)۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
ڈاکٹر کلیم ارشد کا کمرہ سادہ مگر بےحد صاف ستھرا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب ایک درمیانے سائز کی میز اور سامنے تین پرانے طرز کی بیت والی کرسیاں اور ادویات سے مزین دوائیاں بنانے والا میز تھا۔ بائیں جانب مریض کے لیے ایک کرسی اور اس کی پشت پر معائنے کے لیے کاؤچ تھا۔ پیچھے رکھی میز پر بہت سی کتابیں، ایمرجنسی لیمپ، تپائی پر ساتھ رکھا ہوا ٹیلیفون، سامنے میز پر دھرا ہوا کیلنڈر، بلڈ پریشر جانچنے والا آلہ، تھرمامیٹر اور مریضوں کے لیے بنائے جانے والے خالی کارڈ رکھے رہتے تھے۔ دیوار کے ساتھ بنے ہوئے کارنس پر سکاؤٹ بچوں کا گروپ فوٹو جس میں بشمول ڈاکٹر کلیم ارشد بہت سے سکاؤٹ بچے قائدِاعظم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ یہ تصویر یقینی طور پر ڈاکٹر صاحب کی یادوں کا ایک قیمتی سرمایہ تھی۔ سامنے والی کھڑکی میں پٹ کاٹ کر ایک پرانا ائرکنڈیشنر نصب کیا تھا۔ سطح برابر کرنے کے لیے باہر چند اینٹیں رکھ دی گئی تھیں۔ کھڑکی کے آگے کمرے میں ایک پرانی طرز کا سیٹر Seater رکھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے کمرے کا فرنیچر دیکھ کر تصاویر میں دیکھا ہوا قائداعظم کا قدیم ذاتی فرنیچر یاد آ جاتا تھا۔ انتقال سے چند برس قبل ڈاکٹر صاحب نے خاص طور پر نئے رنگ روغن اور تبدیلیوں کی طرف توجہ دلائی اور تذکرہ کیا کہ مریضوں کے لیے سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
کئی بار ایسا ہوا کہ ہم مشورہ کے لیے وقت نہ لے سکے۔ ڈاکٹر صاحب سے ٹیلیفون کر کے پوچھا تو انہوں نے وہ وقت دے دیا جب انہیں کلینک بند کر کے گھر جانا ہوتا تھا۔ وہ خود تکلیف برداشت کر کے ہمارے لیے وقت نکالتے تھے۔ بعض اوقات زیادہ موثر دوا حاصل کرنے کے لیے ہم اپنی تکلیف کے بیان میں مبالغہ آرائی بھی کر جاتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب کی توجہ اور تشفی سے گویا آدھا مرض دور ہو جاتا۔ قیصر کو آواز دے کر کسی دوا کا نام لیتے وہ پاؤڈر کی ایک پڑیا بنا کر ڈاکٹر صاحب کے حوالے کر دیتا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے پڑیا ہماری طرف بڑھاتے اور چند لمحوں میں ہمیں مسیحائی کی تاثیر روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی اور ہم خود کو بھلا چنگا محسوس کرتے۔ دوا کی ابتدائی خوراک نہایت زود اثر ہوا کرتی تھی۔ خاکی لفافے میں دوا کی قلیل مقدار دیکھ کر کبھی کبھار مایوسی ہوتی۔ چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی ڈبیاں، وہ بھی کبھی صرف ایک اور چند ایک کھانے والی پڑیاں، چھوٹی چھوٹی گولیوں پر بقدر اشک بلبل دوا کا تریڑا دیا ہوا، مگر چند ایک خوراکیں لینے کے بعد افاقہ محسوس ہونے لگتا اور کبھی تو بچی ہوئی دوا آئندہ کے استعمال کے لیے رکھ لی جاتی۔

کئی برس سے ڈاکٹر کلیم ارشد اپنی ایک کتاب کے مسودے پر کام کر رہے تھے جو آج ہمارے سامنے
HOMOEOPATHY MADE EASY کے نام سے موجود ہے اور وہ اس کی تکمیل سے قبل مسلسل اس کی اصلاح اور ترمیم کرتے رہے۔ وہ اس کی جلد اشاعت کے لیے بیقرار تھے مگر شومئی قسمت یہ ان کے انتقال کے بعد منظرعام پر آئی۔
بیماری کے باعث ڈاکٹر کلیم ارشد کی زندگی کے آخری چند ماہ بہت تکلیف میں گزرے۔ بہت دفعہ مَیں نے انہیں آکسیجن سلنڈر لگائے کلینک میں مریضوں کا معائنہ کرتے دیکھا ہے۔ ان کے دل میں مریضوں کی تکلیف کا احساس بہت بڑھ گیا تھا۔ اکثر ڈاکٹر کلیم ارشد ایسے مریضوں کا ذکر کرتے تھے جنہیں بیحد قابل ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا مگر وہ ان کی ادویات سے روبصحت ہو گئے۔ ان کے مریضوں میں ملک بھر کے معروف ڈاکٹر حضرات اور ان کے خاندان بھی تھے جو ہومیوپیتھی طریقہ علاج پر یقین رکھتے ہوئے درپردہ ان سے علاج کراتے تھے۔
ڈاکٹر کلیم ارشد کے انتقال سے چند ماہ قبل ان کے صاحبزادے نعیم ارشد کی اچانک وفات نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ مَیں تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا تو وہ آکسیجن سلنڈر لگائے صوفے پر تشریف فرما تھے اور فرطِ غم سے گھٹی گھٹی سسکیوں میں اپنے بیٹے کو یاد کر رہے تھے۔ مجھے بے طرح چند برس قبل اس گھر میں ہونے والی ایک تقریب یاد آ گئی جب ڈاکٹر کلیم ارشد نے رات کے پُر تکلف کھانے اور محفلِ غزل کا اہتمام کیا تھا۔ شاید ڈاکٹر صاحب کے لیے وہ دن دوبارہ آنے والے نہ تھے۔
بہت سے ہومیوپیتھک معالجوں کے برعکس ڈاکٹر کلیم ارشد کی یہ خوبی تھی کہ وہ مریضوں کو ان کے زیرِ استعمال ادویات کے بارے میں بتا دیتے تھے۔ خود مجھے چھوٹے چھوٹے عارضوں کے لیے چند ایک PATENT ادویات لکھ کر دی تھیں کہ فوری استعمال کے لیے گھر میں رکھ لی جائیں۔ ان کی کتاب خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عام قاری کو بھی ہومیوپیتھی کا علم سکھانا چاہتے تھے۔
ڈاکٹر کلیم ارشد جیسی نابغہ روزگار ہستیاں اپنی موجودگی کے لحاظ سے زندگی اور موت کے دائروں کی پابند نہیں ہوتیں وہ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی تادیر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker