رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : افغانوں کو جہاز سے گرکے مرنے میں کیا سہولت ہے ؟

افغانستان میں خوف و ہراس ہے ، افراتفری ہے ، بھگدڑ کا عالم ہے ۔ ایسے جیسے سب کی جان پر بنی ہو ، لوگ خوف کے عالم میں اڑتے طیاروں کے پہیوں سے گر کر مرنا قبول کر رہے ہوں تو آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ برسر اقتدار آنے والوں کے ہاتھوں مرنا کتنا اذیت ناک ہو گا ۔ قاتلوں ، لٹیروں ، اور سمگلروں کا جو ٹولہ بر سر اقتدار آیا ہے بد قسمتی سے ہمارے ہاں انہیں آئیڈیل سمجھا جاتا ہے ۔ یہ لوگ اسلا م کا نام لے کر لڑتے ہیں ، مرتے بھی ہیں اور مارتے بھی ہیں ۔ یہ اپنے عقائد پر سختی سے کاربند رہنے والےکٹھ ملا خود کو اسلام کا اصل چہرہ کہتے ہیں اور مسلک کی بنیاد پر دوسروں کو واجب القتل سمجھتے ہیں ۔
افسوس صرف اس بات پر ہے ان کے برسر اقتدار آنے پر وطن عزیز میں بعض لوگ شادیانے بجا رہے ہیں ۔ میرے دوستوں نے سوال کیا کہ لوگ طالبان کی کامیابی پر خوش کیوں ہیں ؟
میرا جواب یہ تھا کہ لوگوں کی خوشی ہمارے اجتماعی شعور کی عکاسی کرتی ہے ۔ ہمیں یہ قاتل تبدیل شدہ طالبان دکھائی دے رہے ہیں جن کے بارے میں ہمیں گمان ہے کہ وہ امریکہ کو شکست دے کر آئے ہیں اور امریکہ ان کے خوف سے راتوں رات دم دبا کر بھاگ گیا ۔ ہمیں خوشی یہ ہے کہ بھارت اس وقت تلملا رہا ہے اور اسے وہاں منہ کی کھانا پڑی ہے ۔
ہم سقوطِ کابل کو سقوطِ ڈھاکہ کا جواب سمجھ رہے ہیں اور عین بھارت کے یوم آزادی اور جلال آباد کے ناکام فاتح حمید گل کی برسی والے دن طالبان کی فتح پر ہماری خوشی ہم سے سنبھالی ہی نہیں جا رہی اور خوشی کے ان لمحات میں ہم بھول گئے ہیں کہ یہی طالبان جب سوات تک پہنچ گئے تھے تو ہم کس قدر خوفزدہ تھے اور پھر ہم نے 2008 میں ملا برادر سمیت ان میں سے کئی طالبان کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ پھر اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح رائج ہوئی تھی اور ہم نے اپنے پسندیدہ قاتلوں کو اچھے قاتل اور ناپسندیدہ کو برے قاتل قرار دیا تھا ۔ یہ اچھے برے کا کھیل اسی روز سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔
اور یہ اس سے بھی پہلے کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اس وقت کی عسکری ضرورتوں اور دفاعی حکمت عملی کے تحت ان قاتلوں کو اپنے بیٹے قرار دیا تھا اور پھر کفارے کے طور پر آخر کار انہی بیٹوں کے ہاتھوں خود بھی جان کی بازی ہاری تھیں ۔
طالبان کے حامی ہمارے دوست بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی طالبان ہیں جو خواتین کو کوڑے لگاتے ہیں اور جب ان کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو اسے پراپیگنڈہ قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ وہی طالبان ہیں جو بامیان کے تاریخی مجسموں کو تباہ کرتے ہیں ، جو نجیب اللہ کو پھانسی دے کر اس کی کرین سے لٹکتی لاش کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔
افغانستان پر امریکہ اور روس کی مدد سے دوبارہ قابض ہونے والے وہی تو ہیں جنہوں نے ہمارے ملک میں بموں سے حملے کیے جنہوں نے اے پی ایس میں ہمارے بچے قتل کیے ۔ یہ وہی تو ہیں جنہوں لڑکیوں کے سکول تباہ کیے اور بچیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کرنے والی ملالہ یوسف زئی کو نشانہ بنایا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو پولیو ورکرز پر حملے کرتے ہیں اور خواتین پر تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں ۔
اشرف غنی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا انٹرویو اگر کسی کو بی بی سی ٹی وی پر دیکھنے کا اتفاق ہو ا ہو تو اسے معلوم ہو گیا ہو کہ طالبان کو ظالمان بلا وجہ نہیں کہا جاتا ۔ رنگینہ حمیدی سمیت افغانستان میں موجود تمام خواتین اس وقت خوف کے عالم میں گھروں پر محصور ہو چکی ہیں ۔ بچیوں کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں ۔ ملازمت پیشہ خواتین کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ۔ اور رنگینہ حمیدی کہتی ہیں کہ میں نے ایک خوبصورت افغانستان کے لیے صدر غنی کا ساتھ دیا تھا لیکن یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایسے ملک چھوڑ جائیں گے۔ مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔وہ کہتی ہیں میں اب ہر قسم کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ اور مجھے اندازہ ہے کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے ۔
افغانستان میں افراتفری کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہاں دیگر مسالک پر زندگی تنگ ہو چکی ہے محرم الحرام کی مجالس ختم ہو گئی ہیں اور گھروں اور دکانوں سے علم اتارے جا چکے ہیں ۔ طالبان ابھی خود کو تبدیل شدہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں لیکن اگر ان کے عقائد میں کسی کا قتل عین ثواب ہے تو وہ ثواب کے حصول سے بھلا کیسے باز رہ سکتے ہیں ۔ ایسے میں لوگ جہاز کے پہیوں سے گر کر مرنے کو زیادہ آسان اور عزت والی موت سمجھ رہے ہیں ۔
پاکستان میں اس حوالے سے کچھ لوگوں کی خوشی کم از کم میرے لیے تو حیران کن ہے ۔ جرائم پیشہ افراد کو آئیڈیلائز کرنے والے خود کسی احساس کمتری کا شکار ہیں یا ان کے اندر کوئی مجرم چھپا بیٹھا ہے ؟ اس سوال کا جواب آپ خود تلاش کیجیے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker