زرنج : افغانستان کے جنوب مغربی صوبے نمروز کے مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔حالیہ برسوں میں یہ افغانستان کے کسی صوبے کا پہلا دارالحکومت ہے جس پر طالبان قابض ہوگئے ہیں۔ جمعے کو کئی مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ زرنج پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔دوسری جانب جمعے کو افغان مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ لڑائی بند کر کے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں۔
افغانستان کے دیگر صوبائی دارالحکومت جہاں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے ان میں مغرب میں ہرات اور جنوب میں لشکر گاہ شامل ہیں۔
نمروز پر طالبان کا قبضہ
ایران کے ساتھ سرحد کے قریب واقع زرنج ایک اہم تجارتی شہر ہے۔ اس کے ارد گرد کے اضلاع پر قابض ہونے کے بعد طالبان اس شہر پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل حملے کر رہے تھے۔نمروز کی نائب گورنر گل خیرزاد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زرنج ’مزاحمت کے بغیر‘ طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔اُن سمیت دیگر حکام نے مرکزی حکومت کی جانب سے اضافی نفری نہ بھیجنے کی شکایت کی ہے۔
گل خیرزاد نے کہا کہ ’شہر کو کچھ عرصے سے خطرہ تھا لیکن مرکزی حکومت میں سے کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی۔‘
اس سے پہلے نمروز پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے اضافی نفری نہیں بھیجی گئی جس کی وجہ سے طالبان شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اس سے پہلے آخری بار سنہ 2016 میں طالبان کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضۃ کرنے میں اس وقت کامیاب ہوئے تھے جب انھوں نے ایک مختصر عرصے کے لیے شمالی شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق صوبہ نمروز کے دارالخلافہ زرنج پر طالبان نے حملہ کیا تھا اور جمعرات کی رات شہر میں داخل ہو گئے تھے۔ تاہم صوبائی کونسل کے سربراہ باز محمد ناصری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کے پاس اب بھی شہر کا کنٹرول ہے اور طالبان کی یہاں موجودگی کی اطلاعات میں حقیقت نہیں ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے شہر کے ائیرپورٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں لوگوں کو سرکاری عمارتوں میں لوٹ مار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
زرنج پر قبضے کو طالبان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پہلے ہی امریکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے ملک کے طول و عرض میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔طالبان نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان کمانڈر نے کہا ہے کہ ’یہ آغاز ہے اور دیکھیے گا کہ کس طرح دوسرے صوبے بھی جلد ہی ہمارے قبضے میں ہوں گے۔‘
بعض اطلاعات کے مطابق طالبان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سرکاری حکام کو اپنے خاندانوں سمیت ایران فرار ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

