افسانےطلعت جاویدلکھاری

بڑے خانصاحب ۔۔ ( 2 ) طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ)
نادر کو کوئی اور کام نہ ملا تو اس نے خود کو بڑے خانصاحب کا منیجر بنا لیا اور ان کے لیے پروگرام تلاش کرنے لگا۔ زمانے کی نظروں میں خانصاحب کی جو توقیر تھی وہ نادر نے کم نہیں ہونے دی تھی۔ پروگرام اگرچہ کم ملتے مگر نادر معاملات ٹھیک سے طے کر لیتا تھا۔ پروگرام سے کئی روز قبل دیسی مرغیاں، دیسی گھی، پھل فروٹ اور بہت سے لوازمات بڑے خانصاحب کے نام پر معاہدہ کی ایک شق کے مطابق طلب کر لیے جاتے تھے جن میں سے معمولی خوراک بڑے خانصاحب کو بھی مل جاتی جبکہ پورے خاندان کے وارے نیارے ہو جاتے تھے۔ نادر نے بڑے خانصاحب کی خوش خوراکی کی ایسی ایسی داستانیں گھڑ رکھی تھیں کہ ان کی عمومی صحت اور حالت زار کے باوجود ”پارٹیوں“ کو تسلیم کرتے ہی بنتی۔ پرانے موسیقی کے دلدادہ لوگ تو یہ مطالبات تسلیم کر لیتے تھے مگر نئی پارٹی صاف انکار کر دیتی۔
دراصل بڑے خانصاحب کے مداح اب کچھ گنے چنے خاندان ہی رہ گئے تھے اور انہی کی بدولت گھر کا دسترخوان چلتا تھا۔ کبھی کسی شوقین مداح سے نادر فواکہات کی فہرست میں ایک دو بوتلیں بھی شامل کرا لیتا تھا جس کی بھنک بھی بڑے خانصاحب کے کان تک نہ پہنچتی تھی اور ان دنوں نادر تنہا جام پر جام لنڈھاتا نظر آتا۔
نادر کی ایک فرمائش پروگرام سے پہلے خانصاحب کو لینے کے لیے نئے ماڈل کی پُرتعیش کار کی دستیابی ضرور ہوتی تھی۔ پروگرام کے بعد یہی کار خانصاحب کو واپس بھی لے کر آتی۔ اگرچہ بڑے خانصاحب کے گھر کا راستہ ایسی کاروں کے لیے ہرگز مناسب نہ تھا مگر سال میں تین چار بار ان کے محلے میں اس نوع کے ذرائع آمد و رفت کی رونمائی ضرور ہوتی اور آس پاس کے محلوں میں بڑے خانصاحب کی توقیر قائم رہتی تھی۔ بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ گھر میں بڑے خانصاحب کا رہن سہن نہایت سادہ بلکہ غریبانہ ہے۔ نادر نہایت ہوشیاری سے گھر میں بڑے خانصاحب کا معیارِ زندگی بہتر کیے بغیر باہر کی دنیا کی نظر میں ان کا بھرم قائم رکھتا تھا۔ گھر میں ملاقات کے لیے آنے والے افراد کو بیٹھک میں نشست دے کر بڑے خانصاحب کو ان کی صحن والی جھلنگا چارپائی سے اس قدر اہتمام کے ساتھ مہمانوں کے سامنے لایا جاتا تھا کہ بادی النظر میں یوں محسوس ہوتا جیسے بڑے خانصاحب کسی پُرتعیش حجلے سے نکل کر آئے ہیں۔ ایک ایرانی فرغل جو کسی زمانے میں بڑے خانصاحب کو ایران کے دورہ میں تحفتہً دی گئی تھی اس مقصد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ میلے کرتے اور پاجامے کے اوپر یہ فرغل زیب تن کر کے بڑے خانصاحب ایک باوقار شخصیت کا روپ دھار لیتے تھے۔ نادر کے تمام بچے اس طرزِ تقریب کے اہتمام میں اس قدر تاک تھے کہ فنکاری کا شائبہ تک نہ ہونے دیتے تھے بلکہ اپنے دادا کو مہمانوں کے سامنے یوں پیش کرتے جیسے کسی بادشاہ کی دربار میں آمد ہو رہی ہو۔
مہمانوں کی حسب موقع آؤ بھگت ہوتی۔ پروگرام کی تفصیلات اور دام طے کیے جاتے۔ ایڈوانس کی رقم بڑے خانصاحب کو دلوائی جاتی اور توقیر کے پیش نظر بڑے خانصاحب کو جلد واپس بھیج دیا جاتا۔ بڑے خانصاحب کے اٹھتے ہی نادر مہمانوں کے کان میں سرگوشی کرتا اور مہمان مسکراتے ہوئے جیب سے کچھ فالتو رقم خانصاحب کی موج مستی کے لیے نادر کے حوالے کر دیتے۔ ادھر بڑے خانصاحب کے دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی نادر کا کوئی چابکدست فرزند اپنے دادا سے ایڈوانس میں لی ہوئی رقم وصول کر کے نادر کے حوالے کر دیتا تھا۔ یہ سب کچھ جیسے کسی پروگرام کے مطابق سالہاسال سے طے تھا۔ لہٰذا کبھی بڑے خانصاحب کے ہونٹوں پر شکایت کا ایک لفظ نہ آیا تھا۔ وہ بلا کی تیزی سے باہر نکلتے، جھبر جھالا اتار کر کھونٹی پر ٹانگ دیتے اور صحن میں اپنی نشست پر حقہ تازہ کرنے لگ جاتے تھے۔
کبھی کبھی بڑے خانصاحب کو شدت سے احساس ہوتا کہ نادر ان کا خیال نہیں رکھتا، گھر میں نادر کی بیگمات اور بچے ان کو اہمیت نہیں دیتے۔ انہیں گھر کا فرد نہیں سمجھتے۔ ان سے خوش گپیاں نہیں کرتے۔ بڑے خانصاحب کی دلی خواہش تھی کہ نادر کے بچے بھی گائیکی کا فن سیکھ لیں مگر وہ پلہ ہی نہ پکڑاتے تھے وہ چلاتے رہتے:
”ارے مورکھو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے نہیں تو گیلے ہی کر لو۔“
دو وقت کی روٹی اور سال میں دو جوڑے کپڑوں کی فراہمی۔ کئی سال سے یہی معمول تھا۔ ایک بیش قیمت لباس تیار کرایا گیا تھا جو صرف پروگرام کے لیے استعمال ہوتا تھا، موتیوں والا کرتا اور چوڑی دار پاجامہ، دوپلی کی موتیوں والی ٹوپی اور دو عدد مختلف رنگ کے انگرکھے پروگرام سے پہلے مہیا کر دیئے جاتے تھے۔ بڑے خانصاحب دن میں چند گھنٹے شاگردوں کو موسیقی کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ ﷲ بخش طبلے پر سنگت کے لیے آ جاتا تھا۔ شاگردوں سے کیا معاوضہ ملتا تھا اور ﷲ بخش کو کیا ادائیگی ہوتی تھی ان معاملات کا حساب اور اختیار نادر کے پاس تھا۔ اس بیٹھک میں بڑے خانصاحب کی ریاضت بھی ہو جاتی تھی۔
بڑے خانصاحب کو گزرے ہوئے دن بہت یاد آتے تھے جب تمام معاملات خود ان کے ہاتھ میں تھے۔ وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتے اور اخراجات کے لیے اپنی بیگم کو وافر رقم دینے کے بعد کافی رقم پس انداز بھی کر لیتے تھے۔ مگر اب تو یہ سب اختیار نادر نے سلب کر لیا تھا۔ اب ان کا کام صرف نادر کے طے ہوئے پروگرام کرنا تھا۔ وہ کبھی کبھار خود کو آلاتِ موسیقی کا ایک حصہ سمجھتے تھے جنہیں جب چاہا استعمال کر لیا۔ ایک دو بار بڑے خانصاحب کی نادر کے ساتھ اس معاملے پر بحث بھی ہوئی۔ نادر کا کہنا تھا کہ:
”مَیں اگر پروگراموں کے لیے بھاگ دوڑ نہ کروں تو کوئی آپ کو پروگرام نہیں دے گا۔ یہ ڈسکو کا زمانہ ہے کلاسیکل راگ کون سنتا ہے بابا جی۔ کہاں کہاں خجل خوار ہوں گے اس عمر میں؟“
اور بڑے خانصاحب کو نادر کی رائے تسلیم کرنا ہی پڑتی۔ گھر میں نہ سہی نادر باہر کی دنیا میں تو بڑے خانصاحب کی تکریم پر آنچ نہیں آنے دیتا تھا۔
مارگریٹ اور روی پچھلے ایک ہفتے سے پاکستان آئے ہوئے تھے اور ہوٹل انٹرکانٹینینٹل میں مقیم تھے۔ دونوں BBC کے نمائندے تھے اور برصغیر پاک و ہند میں کلاسیکل موسیقی کی ترویج کے لیے ایک ڈاکومنٹری تیار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے نامور گلوکاروں اور موسیقاروں سے انٹرویو کر چکے تھے۔ ان کا رابطہ نادر سے ہوا تھا جس نے انٹرویو اور نادر تصاویر بنانے کی اجازت کے عوض ایک خطیر رقم کا تقاضا کیا تھا اور نصف رقم وصول بھی کر لی تھی۔ اب کئی روز سے نادر لاپتہ تھا اور ان دونوں کی روانگی کے دن قریب آ رہے تھے لہٰذا وہ مزید انتظار نہ کر سکتے تھے۔ ایک روز وہ بڑے خانصاحب کی تلاش میں خود ہی نکل آئے۔ ہوٹل سے باہر آئے اور ایک تانگے والے سے اپنی مشکل بیان کی۔ وہ بڑے خانصاحب کی رہائش گاہ کے بارے میں تو نہ جانتا تھا مگر اسے اندازہ تھا کہ بادشاہی مسجد کے پہلو میں مخصوص آبادی کے رہائشی ضرور بڑے خانصاحب کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ لہٰذا وہ انہیں لے کر روانہ ہوا۔ سرکلر روڈ سے ایک سڑک بادشاہی مسجد کے عقب سے اوپر جاتی ہے۔ مارگریٹ اور روی کے لیے یہ انوکھا سفر تھا۔ گنجان آبادی میں تانگہ مکانوں اور دکانوں کے بیچ گامزن تھا۔ سڑک کے دونوں جانب چائے خانے، نانبائی کے تنور، نہاری اور سری پائے کے ڈھابے۔ پھول والوں کی دکانیں، گرم حمام، حکیموں کے دواخانے جن میں شربت کی رنگین بوتلیں سجی ہوئی تھیں۔ سبزی اور گوشت کی دکانیں تھیں۔ خوانچے والوں نے راستہ اور بھی تنگ کر دیا تھا۔ مارگریٹ تو یوں بھی یورپین تھی اور روی کے لباس سے بھی غیرملکی ہونے کی عکاسی ہوتی تھی۔ جوں جوں تانگہ بھرے بازار میں داخل ہو رہا تھا سب کی نگاہیں ان دونوں پر جمی ہوئی تھیں۔ ذرا آگے موسیقی کے آلات اور ان کی مرمت کی دکانیں آ گئیں۔ موسیقی کے آلات کی مرمت کی دکانوں میں سے ہلکی پھلکی موسیقی کی آواز پورے بازار میں سنائی دے رہی تھی۔ مارگریٹ اپنے کیمرے سے تصاویر بنا رہی تھی اور روی اپنے ٹیپ ریکارڈر کے کل پرزے درست کر رہا تھا۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ بڑے خانصاحب یہیں قریب ہی کہیں رہتے ہیں۔ ایک دکاندار سے بڑے خانصاحب کے گھر کے بارے میں پوچھا تو اس نے دکان میں کام کرنے والے ملازم بچے کو تانگے میں ساتھ بٹھا دیا۔ تانگہ اب کشادہ سڑک سے نکل کر تنگ گلیوں میں داخل ہو گیا تھا۔ ذرا سی دیر میں تانگہ بڑے خانصاحب کی حویلی کے سامنے کھڑا تھا۔ مارگریٹ ان پرانے طرز کی عمارات سے بے حد متاثر دھڑادھڑ تصاویر بنا رہی تھی۔ روی نے صدر دروازے پر دستک دی۔ دوپہر کا وقت تھا، نادر گھر پر موجود نہیں تھا اور اس کی دونوں بیگمات بھی گھر سے باہر تھیں۔ بڑے بچے اسکول گئے ہوئے تھے اور چھوٹے کھیل کود میں مصروف تھے۔ جب کئی بار دستک دینے کے باوجود دروازہ نہ کھلا تو روی نے بڑے خانصاحب کا نام لے کر آواز دی۔ بڑے خانصاحب صحن میں چولہے پر اپلے جلا رہے تھے۔ میلے کپڑے زیب تن تھے۔ ہاتھ میں چلم پکڑے دروازہ کھولا تو مارگریٹ کیمرہ فوکس کیے کھڑی تھی۔ بڑے خانصاحب نے استفسار کیا تو انہوں نے راستہ چھوڑ دیا۔ روی نے بڑے خانصاحب کو معمولی ملازم سمجھ کر ”بڑے خانصاحب“ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کمال سادگی میں اپنا تعارف کرایا اور گھر میں داخل ہونے کی دعوت دے دی۔ اپنی جھلنگا سی چارپائی کے قریب پہنچ کر انہیں اندازہ ہوا کہ مہمانوں کو تو بیٹھک میں لے جانا چاہیے تھا۔ لہٰذا انہیں لے کر وہ خود ہی بیٹھک کی طرف چل دیئے۔ اس اثناءمیں مارگریٹ صحن، گھر اور بڑے خانصاحب کی بیسیوں تصاویر بنا چکی تھی۔ مہمانوں کو بیٹھک میں بٹھا کر بڑے خانصاحب نے برآمدے میں لٹکائی ہوئی فرغل اوڑھی اور بچوں کو آوازیں دینے لگے۔ اسی دوران افرادِ خانہ بھی اکٹھے ہو گئے۔ نادر کا کچھ پتہ نہ تھا اور مہمانوں کو ٹالا بھی نہ جا سکتا تھا۔ لہٰذا گھر میں میسر اشیاءسے آؤ بھگت کی گئی۔ اس روز پہلی بار بڑے خانصاحب نے بلا روک ٹوک اپنے سادہ اسلوب میں انٹرویو دیا۔ وہ نادر کی غیرموجودگی میں یک گونہ خوشی محسوس کر رہے تھے۔ روی کو ان کی سادہ بیانی پسند آئی۔ مارگریٹ نے ڈھیروں تصویریں بنائیں۔ بڑے خانصاحب نے پرانے گیتوں کے ریکارڈ بھی بجائے جو روی نے اپنے ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیے۔ مارگریٹ نے گھر کی خواتین سے سوال کیے جن کے جواب نادر کی بیگمات نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں دیئے۔ روی نے بچوں سے خوش گپیاں کیں اور بڑے خانصاحب کو ان بچوں کے جلو میں بٹھا کر تصویر بنائی۔ نادر کی دو بیگمات ہونے کا انکشاف مارگریٹ کے لیے حیران کن تھا۔ اس نے ان دونوں کو ساتھ بٹھا کر ان کی تصویر بھی بنائی اگرچہ ان کا اصرار تھا کہ وہ تیاری کے بغیر تصویر نہ بنوائیں گی۔ روی اور مارگریٹ بڑے خانصاحب کی خانگی زندگی کے تہلکہ خیز شواہد لے کر باہر نکلے تو ابھی نادر گھر واپس نہ آیا تھا۔ جاتے ہوئے روی نے ایک خطیر رقم بڑے خانصاحب کو ادا کی اور انکشاف کیا کہ یہ نصف معاوضہ ہے جبکہ نصف رقم نادر کو ادا کر دی گئی ہے۔
نادر گھر واپس آیا تو اس نے بے حد ناراضی کا اظہار کیا کہ اس کی اجازت کے بغیر BBC کے نمائندوں کو گھر میں کیوں داخل ہونے دیا گیا۔ نادر کی بیگمات نے خوب مرچ مصالحہ لگا کر بابا جی کی ان غیرملکیوں کے ساتھ گفتگو کی داستان سنائی تو نادر بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
”بابا جی! آج تو آپ نے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ اب یہ فلم بی بی سی پر چلے گی تو ہماری اوقات دو ٹکے کی رہ جائے گی۔“
نادر غصے میں بولا۔ مگر بڑے خانصاحب ایک خاص طرح کی طمانیت محسوس کر رہے تھے۔ اُس روز پہلی بار خانصاحب کو اپنی زندگی کا حقیقی رُخ دکھا کر تسکین مل رہی تھی۔ وہ شہر کی جانب چھوٹی دیوار کے پاس کھڑے زیرِ لب کوئی راگ گنگنا رہے تھے۔ انہوں نے ایک فاتح جرنیل کی مانند دونوں ہاتھ شہر کی جانب پھیلائے اور مسکراتے ہوئے نادر کی جانب دیکھتے ہوئے بولے:
”نادر اَج مز آ گیا اے۔“
نادر پاؤ ں پٹختا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بڑے خانصاحب نے اپنا مستقبل تاریک کر لیا ہے۔ آئندہ اس ”ٹکے ٹوکری“ شخصیت کو اس دور میں کون پیسے دے گا؟ بڑی تگ و دو کے باوجود نادر کو BBC کے نمائندے ہوٹل میں نہ ملے۔ وہ اسی روز برطانیہ واپس چلے گئے تھے۔ نادر کا خیال تھا کہ وہ کچھ معاوضہ ادا کر کے انٹرویو اور تصویروں میں مناسب ردوبدل کرا لے گا تاکہ مجموعی طور پر بڑے خانصاحب کا امیج متاثر نہ ہو۔
موسیقی کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تو آرٹس کونسل والوں نے بڑے خانصاحب کو خصوصی طور پر مدعو کیا۔ انہیں کانفرنس کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرنا تھا۔ نادر بیحد خوش تھا کہ اس کانفرنس کے بعد بڑے خانصاحب کو کچھ اور اچھے پروگرام مل جائیں گے۔ اس کی خواہش تھی کہ بی بی سی کا پروگرام اس کانفرنس کے بعد نشر ہو تاکہ بڑے خانصاحب کا تاثر مجروح نہ ہو پائے۔ گھر میں بڑے خانصاحب کی پھر سے آؤ بھگت شروع ہو گئی تاکہ وہ کانفرنس تک صحت مند اور ہشاش بشاش رہیں کیونکہ ایک خطیر رقم کی ادائیگی متوقع تھی اور نادر انتظامیہ سے آدھی کی بجائے پوری رقم ایڈوانس حاصل کرنے کا خواستگار تھا۔ بڑے خانصاحب موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے اور آرٹس کونسل والے ان کی ناراضی برداشت نہ کر سکتے تھے۔ لہٰذا اصول و ضوابط کو پس پشت رکھتے ہوئے نادر کے بقول بڑے خانصاحب کی یہ خواہش بھی پوری کر دی گئی۔
بڑے خانصاحب بڑی شدومد سے موسیقی کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ ہارمونیم کے کل پرزے کسوائے گئے۔ آواز کے زیر و بم پر قابو پانے کی مشق جاری تھی۔ ﷲ بخش کی سنگت کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا۔ نادر بیحد خوش تھا کہ موسیقی کانفرنس کے اثرات تادیر قائم رہیں گے اور خانصاحب کو نئے نئے پروگرام ملیں گے۔ خانصاحب کی خوراک بھی بہتر کر دی گئی تھی۔ ان کا پروگرام کے لیے نیا لباس سِل کر آ چکا تھا اور وہ ہر طرح سے آرٹس کونسل کے پروگرام کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ کانفرنس سے ایک روز قبل بڑے خانصاحب کو اپنی طبیعت گری گری سی محسوس ہوئی۔ ہلکی کھانسی اور زکام کی شکایت تھی تھوڑی سی حرارت بھی تھی۔ نادر گھر پر موجود نہ تھا۔ بڑے خانصاحب کو کانفرنس کی فکر لاحق تھی۔ محلے کے حکیم کو بلا بھیجا اور تیز دوا دینے کی تلقین کی۔ حکیم نے اپنے تئیں بہت سے شربت اور خمیرہ جات تو دے دیئے مگر رات تک بڑے خانصاحب کی طبیعت نہ سنبھل پائی۔ سینے میں درد ہونے لگا اور تیز بخار نے آن لیا۔ کھانسی شدید ہو گئی۔ نادر رات گئے گھر آیا تو بڑے خانصاحب سخت علیل تھے۔ نادر بے حد مایوس ہوا اور خانصاحب پر برسنے لگا۔
”بابا جی! آپ کو بھی شہر کا نظارہ کرنے کا بڑا شوق ہے۔ ٹھنڈ لگوالی ہے نا اب آرٹس کونسل والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟“
بڑے خانصاحب کراہتے ہوئے بولے:
”نادر تو انکار کر دے یار بندہ بیمار شیمار ہو ہی جاتا ہے ایسی کیا بات ہے کوئی اور مہمانِ خصوصی بلا لیں گے، میرے اندر اتنی طاقت نہیں کہ پروگرام کر سکوں۔“
نادر خونخوار نظروں سے بڑے خانصاحب کو گھورتے ہوئے بولا:
”انکار؟ بابا جی پیسے مارے جائیں گے۔ اچھی بڑی رقم ہے۔ تم ہمت کرو کل تک ٹھیک ہو جاؤ گے …. مَیں ابھی ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں۔“
نادر کسی صورت وصول شدہ رقم واپس کرنے کے حق میں نہ تھا۔ وہ پیر پٹختا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔ ذرا سی دیر میں محلے کے ڈاکٹر کو ہمراہ لے کر آیا تو بڑے خانصاحب بری طرح کراہ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے سٹیتھوسکوپ لگایا، حرارت چیک کی اور نادر سے بولا:
”میرا خیال ہے بڑے خانصاحب کو نمونیہ ہو گیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ انہیں ہسپتال لے چلیں ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جائیں گے۔“
”ایک ہفتے میں؟ ڈاکٹر صاحب بڑے خانصاحب کا کل پروگرام ہے۔ موسیقی کانفرنس ہو رہی ہے۔ یہ مہمانِ خصوصی ہیں اور ان کا ایک آئیٹم بھی ہے۔ مہربانی کریں انہیں کل شام تک ٹھیک کر دیں۔“ نادر گڑگڑایا۔
”نہیں نہیں یہ خطرہ مت مول لیں ان کی زندگی کا سوال ہے۔“
ڈاکٹر بیگ اٹھا کر چلنے لگا۔
”ڈاکٹر صاحب …. ذرا رکیے۔“ نادر بولا ”کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ان کو طاقت کے انجکشن دے دیں تاکہ یہ کل کا پروگرام کر لیں پھر ان کا مکمل علاج کرا دیں گے، دراصل مَیں ایک بڑی رقم پکڑ بیٹھا ہوں جس کی واپس ممکن نہیں۔ آپ مہربانی کریں آپ کو منہ مانگی فیس ادا کریں گے۔“
ڈاکٹر کے قدم رک گئے ……..
”یہ دوائیں لے آئیں …. بہت مہنگی ہیں یہ مشکل سے ملیں گی Life Saving ادویات ہیں، مَیں کوشش کرتا ہوں۔“
ڈاکٹر نے نادر کی دی ہوئی نوٹوں کی گڈی کوٹ کی جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا:
” ﷲ مہربانی کرے گا۔“
”دراصل اس موقع پر بڑے خانصاحب کو ہسپتال داخل کرایا گیا تو بات پورے شہر میں پھیل جائے گی اور یہ پروگرام ہاتھ سے نکل جائے گا۔ آپ میرے گھر کو ہسپتال سمجھ لیں۔“ نادر بولا۔
نومبر کی خنک شام تھی۔ بارش چھاجوں برس رہی تھی۔ بڑے خانصاحب کی تیاری آخری مراحل میں تھی وہ بظاہر تندرست نظر آ رہے تھے مگر وقفے وقفے سے ان کا جسم کانپنے لگتا اور وہ زرد ہو جاتے تھے۔ ان کی کیفیت اس قیدی جیسی تھی جسے پھانسی گھاٹ لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہو۔ پروگرام کے مطابق انہیں ایمبولینس میں ”ڈین ٹورز“ کے دفتر تک لے جانا تھا اور وہاں سے تھوڑی سی مسافت پر کرایہ پر حاصل کی گئی مرسیڈیز میں آرٹس کونسل پہنچنا تھا۔ تمام مراحل نادر کے منصوبے کے مطابق ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر ہمراہ تھا اور وقفے وقفے سے طاقت کے انجکشن لگا رہا تھا۔ اب بڑے خانصاحب کوئی مزاحمت نہ کر رہے تھے۔ بلکہ روبوٹ کی مانند نادر کے احکامات کی بجاآوری کر رہے تھے۔ آرٹس کونسل کے دروازے پر انتظامیہ نے ان کا استقبال کیا۔ نادر بڑے خانصاحب کو سہارا دے کر سٹیج پر لے گیا اور پروگرام کئی گھنٹے جاری رہا۔ نادر کو ڈر تھا کہ بڑے خانصاحب موسیقی والا آئٹم شاید نہ کر پائیں …….. مگر انہوں نے راگ ملہار شروع کیا تو نہ بارش بند ہو رہی تھی اور نہ ان کے آنسو …….. سامعین بھی سسکیاں بھر کر روتے رہے۔
اگلے روز تمام اخبارات کی سرخیوں میں بڑے خانصاحب کی موسیقی کی خدمت کے دوران جان جانِ آفریں کے سپرد کر دینے کی خبر جلی حروف میں چھپی۔ کئی روز PTV پر اور ریڈیو پاکستان پر پروگرام چلتے رہے اور اخباری ایڈیشن چھپتے رہے۔ بی بی سی کا پروگرام جس روز نشر ہوا اس روز بڑے خانصاحب کا سوئم تھا اور ان کی ڈاکومنٹری فلم جب ریلیز ہوئی تو ان کا چہلم بھی ہو چکا تھا۔
نادر خوش تھا کہ تمام کام بخیر و خوبی سرانجام پا گئے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker