اختصارئےتہمینہ بشیرلکھاری

آزادی کے مہینے میں‌ قائداعظم کے نام ایک خط ۔۔ تہمینہ بشیر

محترم قائد میرا حال سوائے میرے خدا اور خداوند کے کوئی نہیں جانتا۔ آدمی کثرت غم سے سودائی ہو جاتے ہیں۔ عقل جاتی رہتی ہے۔ اگر اس ہجوم غم میں میرے فکر و نظر میں فرق آ گیا ہو تو کیا عجب بلکہ اس کا نہ جتانا غضب ہے۔
پوچھو کہ غم کیا ہے ؟ غمِ رزق ، ہر طرف بے روزگاری ، نہ انسان اور حیوان میں تمیز ، ہر طرف بد انتظامی کے بچھے جال ، جھوٹ دھوکہ ، مفلسی ، وبا ہائے ہائے کیا کیا غم نہیں ہیں کیا بیان کروں کہ آپ ایسے اچھے اچھے لوگ جن کو میں اپنے خوابوں کی تعبیر کا باعث سمجھتی تھی آہ اب نہ رہے بڑے بڑے سانحے ہوئے سوچتی ہوں یہ وہ پاکستان تو نہیں جو آپ نے ہمیں اتنی قربانیاں دے کر دلوایا تھا۔
مفلس و نادار لوگوں کا جب تصور کرتی ہوں کلیجا منہ کو آتا ہے۔ کہنے کو ہر کوئی ایسا کہہ سکتا ہے مگر میں اللہ کو گواہ بنا کے کہتی ہوں کہ ان حالات کے غم میں اور زندوں کے فراق میں عالم میری نظر میں تیرہ و تار ہے۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں اور ایسی کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے کہ روپیہ نہیں دیکھنے کو ۔ یہاں اغنیا اور امرا کے ازواج و اولاد بھیک مانگتے پھریں اور میں دیکھوں۔بس مصیبت کی تاب لانے کو جگر چاہیے۔ اب خاص اپنا دکھ روتی ہوں۔ اس کورونا کی وبا کی وجہ سے پانچ مہینے سے جامعہ کا منہ نہیں دیکھا۔ جیسے کیسے کر کے گھر بیٹھے آن لائن پڑھ کر امتحان دے کے ڈگری مکمل کی ہے۔ اب ایم فل میں داخلہ لینے کے لیے امتحان کی تیاری کر رہی ہوں پڑھتی ہوں پڑھے چلے جاتی ہوں محنت وہ ہے کہ دن رات میں فرصت کام سے کم ہوتی ہے۔ ہمیشہ ایک فکر برابر چلی جاتی ہے۔ انسان ہوں کوئی مشین نہیں بھوت نہیں۔ ان دکھوں کو برداشت کیونکر کروں۔ ایم فل ، پی۔پی۔ایس۔سی ، نوکری کی تلاش۔ اب مجھے دیکھو تو جانو کہ میرا کیا رنگ ہے۔ کوئی دو چار گھڑی بیٹھتی ہوں ورنہ پڑی رہتی ہوں۔
سب سے بڑھ کر جامعہ بند ہے۔ شعبہ جاتی تھی۔ موج مستی کرتی تھی دوستوں سے مل بیٹھ کر باتیں کرتی تھی۔ وہ صورت اب نظر نہیں آتی۔ نہ مقبول ہوں نہ مردود ہوں نہ بے گناہ ہوں نہ گناہ گار ہوں ، نہ مخبر نہ مفسد۔ بھلا اب آپ ہی کہو۔ اگر یہاں جامعہ دوبارہ کھلی اور میں بلائی جاؤں تو وہ حوصلہ کہاں سے لاؤں۔پانچ مہینے دن رات خونِ جگر کھایا اور بمشکل کوئی دو چار مضامین لکھے۔ 14 اگست آنے کو ہے تو اس میں ارادہ اپنی تمام سرگزشت کے لکھنے کا کیا ہے۔ ملک و قوم اور میرے حالات تو ایسے ہیں۔ اچھے کی امید لیے خط آپ کو بھیجتی ہوں تاکہ آپ پڑھیں تو آپ کو پاکستان کے اور میرے حالات کی خبر پہنچے
والسلام
تہمینہ بشیر

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker