”مرثیہ “ اردوشاعری کا عظیم ورثہ ہے ۔ اس صنف کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اردو زبان خود۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اردو مرثیہ کی تاریخ واقعہ کربلا سے جڑی ہے ، یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔ واقعہ کربلا اور مرثیہ ، مرثیہ نگاری کا ایک حوالہ ضرورہے مگر اس پسِ منظر میں دیکھا جائے تو مرثیہ کی مندرجہ ذیل اقسام بھی سامنے آتی ہیں :
رسمی مرثیہ : یہ مرثیہ کی وہ قسم ہے جس میں بالعموم اپنے قوی رہنماﺅں یا فدیانِ ملت کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
شخصی مرثیہ نگاری: اپنے عزیزوں ، دوستوں یا اپنے پیاروں کی وفات پر لکھے جانے والے مرثیے، جیسے مرزا غالب کا لکھا ہوا ”عارف کا مرثیہ“ اقبال کی وہ نظم جو انھوں نے ” والدہ مرحوم کی یاد“ میں لکھی ، وہ اپنے موضوع اور اندازِ بیان سے مرثیہ بن گئی یا اقبال کا اپنے استاد داغ کو خراجِ تحسین کرتے ہوئے ، مرثیہ ”کا روپ ۔ ان تمام اقسام میں سب سے معتبر قسم ”کربلائی مرثیہ“ کی ہے ۔ یہ مرثیہ کی وہ قسم ہے جو اکسٹھ ہجری میں عراق کی سر زمین ” کربلا“ کے مقام پر برپا ہونے والے سانحے کے پس منظر میں لکھا جاتا ہے ۔
اردو مرثیہ کاآغاز دکن سے ہوا جہاں کی ریاستیں بیجا پور اور گولکنڈہ تھیں ۔ یہاں مرثیہ کو اس لیے بڑی پذیرائی ملی کہ ان علاقوں کے فرماں رواخودشیعہ تھے۔ مرثیہ کے حوالے سے قلی قطب شاہ ،وجہی اور خواصی نمایاں نام ہیں ۔ دلی میں آبرو، قائم چاند پوری ، میر ، سودا ، مصحفی اور نظیر اکبر آبادی نے اچھے مرثیے لکھے ہیں ۔ لیکن مرثیہ کا مرکز ”لکھنو“ قرار پایا کیونکہ لکھنو کے فرماں رواا بھی اہل تشیع تھے اور انھوں نے مرثیہ کی صنف کی بہترین انداز میں سر پرستی کی اور ایک ہی جست میں مرثیہ کو زبردست عروج نصیب ہوا ۔ یہاں کے مرثیہ نگاروں میں خلیق ، ضمیر اور انیس و دبیر ، مرثیہ نگاری کی تاریخ کے درخشندہ ستارے ٹھہرے ۔ میر انیس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ:
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں
میر انیس کا یہ شعر اس بات کا غماز ہے کہ مرثیہ نگاری آپ کے خاندان کی میراث ہے ۔ میر انیس ہو یا مرزا دبیر انھوں نے اردو مرثیہ نگاری کو جو معائر بخشے ہیں اس کی نظیر آج بھی اردو مرثیہ نگاری میں نہیں ملتی بل کہ ان کے بعد آنے والی مرثیہ نگاری زیادہ ترانھی کے تتبع میں ہو رہی ہے ۔ ایک بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ”اردو مرثیہ نگاری“کی عظمت کے عقب میں مذہب یا عقیدے کا عمل دخل نہیں بل کہ وہ اسالیب اور جذبہ ہے جو اس صنف کو امر بنا رہا ہے ۔ ان اسالیب اور جذبات نگاری میں بنیادی اہمیت اعلیٰ انسانی قدروں کو حاصل ہے ۔ در اصل مراثیوں کی عظمت کا سبب مذہب اور عقائد ہیں ۔ عالمی ادب کے ان عظیم رزمیوں کی عظمت کا سبب ان کے لکھنے والوں کے عقائد تھے ۔ عظمت ان واقعات سے جڑے جذبے ، اعلیٰ انسانی قدروں اور ان المیوں میں پنہاں ہے جو عظیم شخصیات سے وابستہ ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ”المیہ“ ہمیشہ بڑے آدمی کا ہوتا ہے ۔ کربلائی مرثیے اس لیے بڑے معیارکے ٹھہرے ہیں کہ ان کی نسبت خانوادہ رسول سے ہے ۔ عالمی کلاسیک میں وہی اصناف اور موضوع امر ہوئے ہیں جن کی نسبت عظیم شخصیات اور ناقابلِ فراموش واقعات سے تھی۔
فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو اردو مرثیہ نے اپنے فن میں کئی مدارج طے کیے ہیں ۔ مثال کے طور پر اس صنفِ سخن نے ہیئت کا طویل سفر طے کیا ہے ۔ آغاز میں مرثیے کی کوئی ہیئت طے نہیں تھی ۔ دکن میں جو مرثیے لکھے گئے وہ غزل کی طرح مفرد اشعار پر مبنی تھے ۔ فارسی میں بھی مرثیے کی یہی روایت تھی کہ وہ غزل کے انداز پر لکھے جاتے تھے اور ان کے اشعار میں کوئی اندرونی ربط نہیں ہوتا تھا ۔ لوگ مجالسِ عزا کے لیے مرثیے لکھتے اور ان کا مقصد ثواب حاصل کرنا تھا ۔ واضح ہے کہ جس کا لکھنا ، پڑھنا اور سننا ، سب ہی ثواب میں داخل ہو تو ایسے لوگ بس اسے لکھنے لگیں گے جو فن شعر گوئی سے واقف نہیں ہیں ۔ اس لیے فنی اعتبار سے جومرثیے کو کم تر مانا جاتا تھا ۔ لوگ بلا جھجک جس طرح چاہتے مرثیے لکھتے اور زبان و بیان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی ۔ مذہبی عقیدت میں چوں کہ غلطیوں پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا ۔ اس لیے ان کے مصائب پر پردہ ہی پڑا رہتا تھا ۔ مگر جب مرثیہ نے اپنے ارتقائی منازل طے کیں تو اس کی ہیئت ، زبان و بیان اور اسالیب بھی مقرر ہو گئے ۔ اگرچہ یہ صنف ہیئتی نہیں تھی بلکہ یہ موضوعاتی صنف تھی جس کا رثائی اظہار کسی بھی شعری صنف میں کیا جا سکتا تھا ۔ اب بھی بعض اوقات غزلیہ اور نظمیہ شاعری میں رثائی موضوعات پیش ہو جاتے ہیں مگر مخمس اور مسدس کی ہیئتیں اردو مرثیہ کے لیے مستحکم ہو چکی ہیں ۔ مسدس مرثیوں کا آغاز شمالی ہندسے ہوا ۔ دہلی سے ادبی مرکز کے لکھنو منتقل ہو نے پر وہاں کی سرزمین مرثیے کو بہت راس آئی ۔ خلیق و ضمیر نے اس کے فنی خدوخال کو درست کیا اور مرثیے کو مضبوط فنی بنیادیں فراہم کیں ۔ میرانیس اور مرزا دبیر نے مرثیے کی ظاہری ہیئت ہی کی تکمیل نہیں کی بل کہ زبان و بیان اور اسلوب و اظہار کی جو خوبیاں بھی ہو سکتی تھیں وہ سب مرثیے میں پیدا کر دیں ۔ انیس و دبیر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے مرثیے میں غزل کی دل کشی ، قصیدے کا طمطراق ، مثنوی کی سبک روی اور جذبات نگاری ، رزمیے کا شان و شکوہ اور داستان کا تجسس پیدا کر کے اس صنف کو عالمی کلاسیک کا ایک کا درجہ عطا کر دیا ۔ انیس و دبیر کے بعد آنے والے مرثیہ نگاروں نے انھی دو عظیم مرثیہ نگاروں کی روایت پر اپنے اپنے مرثیوں کی بنیاد رکھی ہے ۔ جوش ملیح آبادی اس کی ایک بڑی مثال ہیں ۔
”مرثیہ “ کا مجموعی مزاج حزینہ ہے اور یہیں سے ” المیہ“ کا تصور جنم لیتا ہے۔ مرثیہ کو عزاداری سے سننا اور قرطاس سے پڑھنا ” تزکیہ نفس“ کا سبب بنتا ہے جو انسان کے اندر ایک خاص قسم کا گداز اور سوز پیدا کر کے اسے آدمیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے ۔ یہ رثائی ادب ہی ہے جس نے ہمیں سلیقے سے رونا سکھایا ہے۔ ہمیں مظلموں اور بے کسوں سے محبت کرنے کا درس دیا ہے ۔
وادی سندھ کا مرکز ملتان بر صغیر میںرثائی شاعری کی جنم بھومی ہے ۔ یہیں سے مرثیہ پورے ہندوستان بطور خاص لکھنو میں پہنچا ۔ اور پھر اتنی مقبولیت حاصل کی کہ آج تک شاید ہی کوئی شاعر ہو گا جس نے کسی نہ کسی شکل میں مرثیہ نہ لکھا ہو ۔ مرثیہ میں فکروخیال اور اسالیب میں جو تنوع دکھائی دیتا ہے اس کے پس منظر میں وادی سندھ کے وہ تمام دکھ موجود ہیں جن کی مماثلتیں واقعہ کربلا کے شہدا کے دکھوں سے ملتی ہیں ۔ یہاں پر اجتماعی قبروں ، گھروں کو آگ لگانے ، خواتین اور بچوں کو قید کرنے اور یہاں کی املاک کو تباہ و برباد کرنے کے واقعات موجود ہیں یہی وجہ ہے ۔ کہ یہاں پر لکھا جانے والا رثائی ادب منظر نگاری ، جذبات نگاری اور واقعات کی پیش کش میں یوں دکھائی دیتا ہے جیسے یہ واقعہ وادی سندھ میں ہی وقوع پذیر ہوا تھا بل کہ یہاں کے رثائی ادب میں سماجی ، معاشرتی ، ثقافتی اور تہذیبی واقعات کی پیش کش مقامیت کے رنگ میں دکھائی دیتی ہیں ۔ اس طرح واقعہ کربلا بڑی وسعت اختیار کر کے بلا امتیاز اور بلا تفریق عقائد کاسب کا سانجھا بن جاتا ہے ۔ حسینی بھانبڑاس کی عظیم مثال ہیں۔ بر صغیر کے لوگ وہ جس بھی مذہب کے ہوں ، حسین ؑ سب کا سانجھا اور اپنا ہے۔عالمی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا وقعہ ہو ، جیسا کربلا کا ہے جس نے عالمی ادب،تاریخی ، سیاسی و سماجی بیانیہ کو متاثر نہ کیا ہو ، اس کی بڑی وجہ ہمارے مرثیہ نگارہیں جنھوں نے خانوادہ رسول کے دکھوں کو اپنی ” مقامیت“ کے ساتھ جڑت دے کر پوری انسانیت کو ” خانوادہ رسول“ کے دکھوں سے آشنا کر دیا ہے اور یہ دکھ اس کلاسیکی اداسی کو جنم دیتے ہیں جو احترام آدمیت ، کسی بڑی تخلیق اور اعلیٰ ترین قدروں کے فروغ کا سبب بنتی ہے ۔ اسی لیے تو کیا گیا ہے کہ نواسہ رسول کے قتل سے ہماری آنے والی تمام صدیاں اداس ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بڑا دکھ ہماری اجڑی ، ویران اور بے ترتیب زندگیوں کو کوئی مثبت سمت دے سکتا ہے یا کہ نہیں ؟ آج کے عصر بے چہرہ میں یہ ایک بڑا سوال ہے۔
فیس بک کمینٹ

