کالملکھاریوجاہت مسعود

فواد چوہدری کا عزم جواں اور خبر پہ اختیار کا موسم۔۔تیشہ نظر/ وجاہت مسعود

ہرگاہ کہ اقبال کا مصرع اولیٰ پڑھنا دریں حالات ناخوشگوار نتائج کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، معمولی تحریف سے مصرع ثانی ہماری مطلب براری کر سکتا ہے۔ مغرب میں مگر (اصول) مشین بن جاتے ہیں۔ بانگ درا کے اس فکاہیہ قطعے کے دوسرے حصے میں شاعر مشرق نے کیا پتے کی بات کہی ہے۔ رہتا نہیں یاں ایک بھی پلے اپنے، واں ایک کے تین بن جاتے ہیں۔ مغرب اور مشرق میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وہاں فرد کی نیک نیتی، ذہانت اور معجزاتی صلاحیت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اختیارات کی علیحدگی کا اصول اپنایا گیا ہے۔
دستور بناتے ہیں تو پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ کا سہ شاخہ نمونہ مرتب کرتے ہیں۔ ایک شعبے کے اختیار کو دوسرے شعبے کے احتساب سے توازن دے کر ممکنہ شخصی عزائم کی باگ کھینچ لیتے ہیں۔ نظام عدل تشکیل دیتے ہیں تو تفتیش (تھانہ)، سماعت (عدالت) اور عمل درآمد (جیل) کی حد بندی کر دیتے ہیں۔ معیشت کو ترقی دینا مقصود ہو تو یونیورسٹی کو تحقیق گاہ قرار دیتے ہیں۔ تحقیق کو پیداوار میں ڈھالنے کے لئے کارخانہ بناتے ہیں۔ پیداوار سے محصولات جمع کرنے کا محکمہ الگ ہے۔
صحافت ہی کو لیجیے۔ خبر اور تجزیے کی اپنی دنیا ہے۔ نامہ نگار اپنی خبر کو یوں سینے سے لگائے رہتا ہے جیسے بندریا اپنے بچے کو بازوؤں میں سمیٹے ڈال ڈال پھرتی ہے۔ خبر کو پرکھنے کے لئے مدیر کا منصب موجود ہے۔ مدیر اپنی کرسی پر گویا کوہ گراں ہے۔ پرے کہیں سرمایہ کاری کرنے والا سیٹھ بھی موجود ہے لیکن خبر کی تلاش اور قبول و استرداد سے اسے سروکار نہیں، اس کا کام ادارے کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال ہے۔ اختیار کی علیحدگی کے اس اصول میں باہم ربط قائم رہتا ہے لیکن مداخلت اور تجاوز کا امکان کم سے کم ہو جاتا ہے۔
ادھر ہمارے ہاں یکجائی کا شوق فراواں ہے۔ حساس مقامات تو خیر شارع عام نہیں ہیں، فلم ہی کو لیجیے۔ واللہ، نصف صدی میں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ہماری فلم میں ہدایت کار اور فلمساز میں امتیاز کیوں نہیں۔ ایک صاحب شام کو مشہدی لنگی میں ملبوس لکشمی چوک میں چائے سڑکتے ہوئے فلمساز کے بہروپ میں نظر آتے ہیں۔ اگلی صبح وہی حضرت ایک آنکھ میچ کر کیمرے میں نقب زنی کرتے ہیں اور ہدایت کار کہلاتے ہیں۔ پچاس کی دہائی کے اوائل میں کسی اداکارہ نے کہیں کوئی انٹرویو دیا ہو گا، الیاس رشیدی سے عاشق چوہدری تک اسی انگور سے کشمش بناتے رہے ہیں۔ تین جملے تو اس سخن ناآشنا کو بھی ازبر ہو گئے۔ ( 1 ) مجھے کسی فلم میں اندھی بھکارن کا کردار ادا کرنے کی خواہش ہے۔ ( 2 ) میں شادی کے بعد فلموں میں کام نہیں کروں گی۔ ( 3 ) میں ہدایت کاری کے میدان میں اپنے جوہر دکھانا چاہتی ہوں۔
جوہر دکھانے کی اچھی کہی۔ ایک جملہ مخدوم طالب المولیٰ مرحوم کا اس ضمن میں برمحل تھا لیکن فساد خلق کا مضمون ہے۔ اپنے منو بھائی کو یاد کر لیتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں فلم سنسر بورڈ کے رکن بنا دیے گئے۔ ایک آنے والی فلم کا بہت شہرہ تھا لیکن خبر نکلی کہ سنسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عوام الناس میں اشتیاق پھیل گیا کہ کس نعمت نظارے سے محروم کیے گئے ہیں۔ منو بھائی سے دریافت کیا۔ بے نیازی سے فرمایا۔ ’کچھ خاص نہیں۔ صورت حال پر روشنی کچھ زیادہ پڑ گئی تھی‘۔
تو صاحبو، جوہر دکھانے والے بہرصورت اپنی ہوا باندھ لیتے ہیں۔ ہوا بندھ جائے تو توقع جنم لیتی ہے اور پھر بات صدر مملکت محترم عارف علوی تک جا پہنچتی ہے۔ کراچی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شادی اور الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے ایک جیسے ہوتے ہیں، کچھ پورے ہو جاتے ہیں اور کچھ پورے نہیں ہوتے۔ پہلی بات تو یہ کہ اس ارفع منصب پر پہنچنے کے بعد صدر مملکت کسی سیاسی وابستگی سے ماورا ہو چکے۔ انہیں ہلکے پھلکے موڈ میں بھی اپنی سیاسی جماعت کی کارکردگی کا دفاع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسرے یہ کہ یہ جملہ سیاسی اخلاقیات کے اعتبار سے ساقط ہے۔ کیا صدر مملکت واقعی ایسا سمجھتے ہیں کہ مبالغہ آمیز وعدوں کی مدد سے زندگی کی رفاقت کا بندھن استوار کرنے میں حرج نہیں؟ نیز یہ کہ سیاسی جماعت کو انتخابی مہم میں ایسے وعدوں کی اجازت ہے جن کے بارے میں پورا ہوم ورک نہ کیا ہو؟ سیاسی رہنما کے ہر لفظ بلکہ اشارے میں بھی فکری شفافیت درکار ہوتی ہے۔ محترم فواد چوہدری ہی کو لیجیے۔ قریبی دوستی کا دعوی تو نہیں البتہ وزارت کا قلمدان سنبھالنے سے پہلے درویش انہیں برادر عزیز کہتا تھا۔ وزارت کے منصب میں بھائی چارہ نہیں ہوتا۔ بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے۔ کراچی ہی کے ایک سیمینار میں رونق افروز ہوئے۔ منجملہ دیگر فرمودات کے یہ گلہ بھی کیا کہ ہمارا سوشل میڈیا پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات کا کام خبر کی ترسیل میں سہولت کاری ہے۔ خبر پر اختیار کی خواہش سے تو اکتوبر 2016 کی ناخوشگوار یاد وابستہ ہے۔ جب ہم نے وفاقی وزیر اطلاعات کو اس الزام میں سبکدوش کر دیا تھا کہ وہ خبر کی اشاعت روکنے میں ناکام رہے۔
اوپر کی سطروں میں ربط اور مداخلت، حد بندی اور تجاوز نیز احتساب و اختیار کا کچھ ذکر ہوا تھا۔ اسی استدلال کو لے کر چلیں تو معلوم ہو گا کہ جمہوری نظام اور خبر میں براہ راست تناسب پایا جاتا ہے۔ اگر خبر کی نشر و اشاعت مفلوج ہو جائے تو جمہوریت کے شجر پر پتے نہیں نکلتے۔ مشکل یہ ہے کہ آج کل پت جھڑ کے دن ہیں، برگ و گل کی فکر کسے ہو، یہاں تو احتساب کا کلہاڑا چل رہا ہے۔ احتساب کا یہ عمل صحافت کے روایتی سرچشموں تک پہنچتا ہے تو اشتہار اور زبانی ہدایت کے آزمودہ نسخوں کا رخ کرتا ہے۔
نئے میڈیا کی بات ہو تو ٹوئٹر یا فیس بک کی انفرادی آزادیوں پر کج بحثی کی جاتی ہے۔ کیا ہمارے صاحبان بصیرت واقعی نہیں جانتے کہ پیلے مسطر پر ہاتھ سے کتابت کا زمانہ گزر چکا۔ اب ایڈیٹر کی میز پہ خبریں کاٹ کر صفحہ جوڑنے کی قینچی اور گوند کی شیشی نہیں رکھی جاتی۔ دنیا بھر میں مستند اشاعتی ادارے سائبر لہروں کے دوش پر موبائل فون کی جیبی اسکرین کا رخ کر رہے ہیں۔ خبر کی دنیا ایک بڑے عبوری عہد سے گزر رہی ہے۔
اقتدار کے عالمی مراکز میں خبر سے مخاصمت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کہیں فیک نیوز کی طرف انگلی اٹھائی جا رہی ہے تو کہیں پوسٹ ٹروتھ کا دعوی ہے۔ کہیں خبر کے راستے میں سد سکندری حائل کرنے کا زعم ہے تو کہیں انٹرنیٹ کی رفتار کم کر کے اطلاع کا راستہ مسدود کیا جا رہا ہے۔ مشکل اس میں یہ ہے کہ خبر کی ترسیل اور معیشت کے تحرک میں ناگزیر رشتہ قائم ہو چکا ہے۔ اگر کوئی حکومت معیشت کو ترقی دینا چاہتی ہے تو اسے آرٹیکل 19 کے تحفظ کا بیڑا اٹھانا پڑے گا۔
آرٹیکل 19 خبر کی ترسیل اور خبر تک رسائی کے حق سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں قومی تاریخ کے ان سیاہ منطقوں کی بازآفرینی سے کیا حاصل جب ہم نے خبر روک کر گمان کیا کہ واقعے کی حقیقت کو مٹایا جا سکتا ہے۔ ہمارا یہ تجربہ اچھا نہیں رہا۔ واقعہ خبر کا محتاج نہیں، خبر واقعے کو سانحے میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔ اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کیے جانے کے بعد سے تو قبلہ گاہی خادم حسین رضوی بھی آزادی اظہار کے مشروط علمبردار ہو گئے ہیں لیکن ان کی دنیا الگ ہے۔ خبر اور اختیار میں کشمکش کا حقیقی علاج اس شفافیت میں ہے جہاں حکومت کا اختیار شہری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور شہری کی آزادی ذمہ دار انتخاب کا منطقہ متعین کرتی ہے۔ لیجیے علی افتخار جعفری یاد آ گئے
سر بچے یا نہ بچے، طرہ دستار گیا
شاہ کج فہم کو شوق دو سَری مار گیا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker