Uncategorized

ڈاکٹر اعجاز تاثیر : عزم و حوصلے کی مثال : گونج / ڈاکٹر اعجاز تاثیر

آپ نے زندگی بدلنی ہے تو زندگی کو تیسری آنکھ سے دیکھنا شروع کردیں۔ میڈیکل کی دنیا میں اسے Cortical Sight کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کی یہ آنکھ بند ہوجائے تو میڈیکل کی کتابیں لکھتی ہیں کہ ڈاکٹر اور مریض دونوں کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو بائیس سال سٹیج کے پردے اٹھاتا اور گراتا رہا ۔ اس شخص کا بظاہر کام صرف اتنا تھا کہ وہ کوئی بھی منظر یعنی سین ختم ہونے کے بعد پردہ گرادیتا اور جب نیا سین تیار ہوتا تو وہ پردہ اٹھا دیتا۔وہ بائیس سال لندن کے ان ڈراموں کے کرداروں کے مختلف روپ اور اس پر مجمع کے تاثرات دیکھتا رہا۔سین ختم ہونے کے بعد پردے کے پیچھے کیا ہوتا تھا، کس طرح اداکار ایک سے دوسرا روپ لیتے تھے،ان کو مایوس ہوتے، ایک دوسرے سے لڑتے،ہنسی مذاق کرتے ،وہ یہ سب کئی سال دیکھتا رہا۔ اس سب سے متاثر ہوکر اس کو بائیس سال بعد خیال آیا اور اس نے اپنے ان تمام مشاہدات کے زیر اثر 39 ڈرامے تحریر کیے، تاریخ ان ڈراموں کو شاہکار سے بڑھ کر کرشماتی اہمیت کا حامل قرار دیتی ہے۔ان ڈراموں کی خصوصیت یہ تھی کہ ان میں روزِ ازل سے آج تک کا ہر کردار مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ دنیا اس شخص کو تاریخ کا بہترین ڈرامہ نگار، شاعر اور اداکار کے نام سے جانتی ہے۔ اس شخص کا نام ولیم شیکسپئیر ہے۔ Hamlet سمیت اس کی لکھی کئی تحریریں تب سے آج تک ہمہ وقت یورپ کے کسی نہ کسی تھیٹر کی زینت ہوتی ہیں، اور ان پر لاکھوں کی تعداد میں اداکار ایکٹنگ کرتے رہتے ہیں۔ کہنے کو یہ شخص صرف 52 سال کی عمر میں23 اپریل 1616ءکو انتقال کرگیا، مگر صرف اس کی Cortical Sight یعنی تیسری آنکھ کی جاگ اسے امر کرگئی۔ واصف علی واصف لکھتے ہیں آپ نے اپنے سامنے کا نظارہ بدلنا ہے تو آپ اپنی نظر بدل دیں، شیکسپئیر کا کمال بھی بس یہی ہے۔ وہ پانی جو تالاب میں کیچڑ ہے، بادل میں ابرِ رحمت ہے، سانپ کے منہ میں زہر ہے تو ماں کے پیٹ میں زندگی، سمندر میں موت کا سامان ہے تو پھول کی پتی پر شبنم۔ صرف جگہ اور تیسری آنکھ ،سب بدل دیتی ہے،وقعت، حیثیت اور مقدر۔ مجھے ملتان کے ڈاکٹر اعجاز الحق تاثیر یاد آگئے۔ ان کی شہرت شیکسپیئر جیسی نہیں تھی، مگر زندگی میں کیا کمال، کچھ ایسا ہی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز ساٹھ کی دہائی میں ملتان پیدا ہوئے، وہیں محنت، نشتر میڈیکل کالج لے آئی اور 1983ءمیں ڈاکٹر بن گئے۔ یہ سب عام آدمی کی سی زندگی تھی۔ پھر ان کو اس وقت کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر حیات ظفر نے صلاحتیں بھانپتے ہوئے، پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل میں تعینات کرلیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب پاکستان میں تحقیق کا شعبہ بہت کمزور تھا۔ تحقیق شروع کی اور جگر کے کینسر کے 200 مریضوں پر ریسرچ کرڈالی۔ اس دوران لیبارٹری میں کام کرتے، کالا یرقان کا مرض لاحق ہوگیا، ڈاکٹر اعجاز اپنے شہر میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انٹرفیرون یعنی ٹیکوں کے ذریعے یرقان کا علاج کرایا، اس دوران ان پر ایک جنون سوار ہوگیا کہ وہ جگر کے ڈاکٹر بنیں گے، چنانچہ کامیاب علاج کے بعد،1997ءمیں معدہ و جگر میں سپیشلائیزیشن مکمل کرلی۔ اس شخص کی کہانی میں شیکسپیئر کی زندگی کی جھلک تب آئی ،جب ان کو 2013ءمیں معلوم ہوا کہ وہ خود جگر کینسر کے عارضے میں مبتلا ہوچکے ہیں، کینسر ابتدائی سٹیج سے آگے بڑھ چکا تھا، مگر یہ شخص گلاس کو آدھا خالی نہیں دیکھ رہا تھا، ذاتی طور پر راقم القلم کی جب بھی ان سے بات ہوئی ،انہوں نے ایک لمحے بھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ انہیں وہ موذی مرض لاحق ہے کہ جس پر وہ تاریخ کی سب سے بڑی تحقیق کر چکے ہیں اور شاید زندگی تھوڑی ہے۔ صرف اپنی بیٹی کو مسلسل تعلیم کی طرف متوجہ رکھنے کے لیے یہ شخص بیماری کو زندگی سمجھ کر اس سے لڑتا رہا۔ حتی کہ یہ سفر چین کے شہر تیانجن جگر کی پیوندکاری تک پہنچ گیا۔ جگر تبدیل کرالیا گیا، اور اس شخص کی نظر زندگی کو ہمیشہ زندگی کی طرح دیکھتی رہی۔ میڈیکل کالج میں پڑھنے والی بیٹی عائشہ نے ایم بی بی ایس میں گھر کے اسی مثبت سائے میں تیرہ میڈل حاصل کیے کہ جس میں چار گولڈ میڈل تھے۔ ڈاکٹر اعجاز کو 2017 ءمیں معلوم ہوا کہ 2013ءمیں ہی ان کا کینسر پھیلنے کے عمل میں تھا،اور جگر تبدیل کرانے کے باوجود کینسر ہڈیوں میں پھیل چکا ہے۔ اس شخص کی زندگی کے آخری دنوں میں نشتر میڈیکل کالج سے یونیورسٹی بن گیا، انہیں ریسرچ یعنی تحقیق کا ڈائیریکٹر بنا دیا گیا اور وہ اپنی وفات سے چند دن پہلے تک صرف اس یونیورسٹی کے تحقیقی جریدے کے اجرا ءکے سلسلے میں یونیورسٹی آتے رہے۔ میری ان سے آخری بات ،ان کی وفات سے صرف ایک ہفتہ قبل ہوئی ،اور آخری جملہ تھا، ابھی چیزیں چل رہی ہیں، میں بھی چل رہا ہوں، زندگی کا کیا ہے، یہ رک جائے، میرا کام نہیں رکنا چاہیے۔ یہ صرف نظرکا کمال تھا، وہ نظر کہ جس سے وہ شخص اپنی موت میں بھی زندگی دیکھتا رہا۔ کینسر کی تشخیص اور پھیلنے کے باوجود ،وہ شخص آخری وقت تک بیماری سے لڑتا رہا اور اپنی اتنے سال کی تحقیق کے پھل کے لیے جہد کرتا رہا۔ چند دن پہلے یونیورسٹی کے کمیونیٹی ہیلتھ اور تحقیقی شعبے کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر نسرین قیصر کی سربراہی میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے اسی شخص کی بے پناہ محنت کے بعد جرنل آف این ایم یو کا افتتاح کیا اور اس جرنل کو اس شخص کے نام کردیا گیا۔ اس شخص کی زندگی سے جڑا ایک اور واقعہ اس شخص کے امر ہونے کا ثبوت ہے ، کہ جب احمد پور میں آئل ٹینکر کے تیل سے کئی افراد کی ہلاکت اور جھلسنے کا سانحہ رونما ہوا،تو یہ شخص جگر کی پیوندکاری کے باوجود کہ جس میں انسان کو قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے ایسے مریضوں سے دور رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے، دن رات ان کی جانیں بچانے کے لیے ملتان برن سنٹر کام کرتا رہا۔ ڈاکٹر اعجاز اکثر ڈاکٹر نسرین کو کہا کرتے تھے کہ میں نے جینا آپ سے سیکھا ہے، مگر میں بس جلتا ہوا ایک بجھتا چراغ ہوں، مگر مجھے جلنا ہے۔ زندگی میں صرف مثبت آنکھ سے دیکھنے کا زاویہ کس قدر کمال کرسکتا ہے، وہ یقینا حیران کن ہے۔ انسان کی اصل زندگی اس کی اس تیسری آنکھ کے تابع ہے، جو بظاہر نظر نہیں آتی ، مگر انسان کی دونوں آنکھیں سب اسی کے زاویے سے دیکھتی ہیں۔ یہ اگر منفی ہوجائے تو مخمل کی خواب گاہوں میں بادشاہوں کی زندگی کو جہنم بنا دے اور اگر مثبت ہوجائے تو چٹیل پتھروں پر بھی غریب کی کٹیا میں ابدی سکون کی نیند لے آئے۔ ضروری نہیں کہ ہر بار یہ آنکھ شیکسپیئرکو ہی جنم دے،یہ معاشرے میں ڈاکٹر اعجاز تاثیر جیسے لوگوں کو بھی جنم دے سکتی ہے، جو اپنے تمام میڈل نسلوں کو عطیہ کرجاتے ہیں۔ آپ آج سے زندگی کو زندگی کی عینک سے دیکھنا شروع کردیں، آپ کے سامنے موت بھی شکست کھاتی نظر آئے گی، آپ نظر بدل دیں ، نظارہ خود بدل جائے گا۔آخر میں ڈاکٹر اعجاز کی تاثیر کی اہلیہ ڈاکٹر شاہینہ ملک کا مجھے بھیجا وہ آخری شعر سب کی نذر کرتا ہوں جو مجھے ڈاکٹر اعجاز تاثیر اکثر بھیجا کرتے تھے۔
ہم تو چراغِ اول شب ہیں
اول شب بجھ جائیں گے
تم ہی یارو آخر شب تک
دیپ سے دیپ جلائے رکھنا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker