پنجابکالملکھاریوجاہت مسعود

انسانی حقوق کی ملکہ اور قومی خجالت کے نشان ۔۔ وجاہت مسعود

اللہ تعالی کے احسانات ان گنت ہیں۔ ایک کے بعد ایک دانشور تیر کمان اٹھائے حملہ آور ہوتا ہے۔ ہمارے برادر بزرگ مشرق بعید کی شبینہ رصد گاہوں کے احوال سے جوانوں کا لہو گرمایا کرتے تھے۔ ایکا ایکی ایسی کایا کلپ ہوئی کہ ان کے قلم کی زد میں آیا کاغذ دل عشاق کی طرح سلگ اٹھتا ہے۔ 16 اگست 2014ءکو اسی روزنامہ جنگ میں ’مارچ کرنے والوں کا تعاقب‘ کے عنوان سے ایک کالم باندھا تھا۔ کیا جذبات میں نچڑتا ہوا لمحہ بہ لمحہ احوال قلم بند کیا تھا۔

“11.53۔ کیا معمر لیکن جوان حوصلوں والے عالم دین کے ساتھ سختی کی جائے گی۔ ناشتہ کرنے کی کوشش کی لیکن تین دن کے محصورین کا خیال کرتے ہوئے دل نہ مانا۔ 12:15 …. ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ 12:30…. پی ٹی آئی کا مارچ کہاں رہ گیا ہے؟ مال پر سناٹا ہے۔ پی ٹی آئی کی ایک کارکن فون پر کہتی ہے کہ وہ ماڈل ٹاﺅن کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ دل خوش ہو جاتا ہے۔ کیا عقل جذبات پر غالب آ گئی ہے؟ 12:58…. سکون کا سانس لیتا ہوں کیونکہ پی ٹی آئی کے کچھ موٹر سائیکل سوار دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ نے فتح کا نشان بنایا ہوا ہے۔ لگتا ہے کہ آزادی مارچ ان کے پیچھے امڈا چلا آ رہا ہے۔ اس دوران ڈاکٹر قادری میڈیا پر اپنے انقلاب مارچ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ سفید بالوں والے مصطفی کھر بھی صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ قادری صاحب غریب عوام کے لئے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے لئے اپنے موقف کو انگریزی میں بھی پیش کررہے ہیں۔ وہ عوام کے حقوق اور غریت کے خاتمے کی بات کررہے ہیں۔ ”
اور اب 29 نومبر 2017ءکو معاصر روزنامے میں لکھتے ہیں
“(علامہ خادم حسین رضوی) سے لاکھ اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی آواز کے موثر پن سے انکار ممکن نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پورا کلامِ اقبال، اردو اور فارسی، انہوں نے حفظ کیا ہوا ہے۔ عربی پہ بھی مکمل عبور ہے اور آواز میں چاشنی ہے۔ انہوں نے بریلوی مسلک کے تمام خطیبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے حتیٰ کہ ڈاکٹر طاہرالقادری پہ ایسے تبرے کَسے ہیں کہ خیال اٹھتا ہے کہ اس سارے ہنگامے میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی سیاست ختم نہ ہو جائے۔”
منیر نیازی نے کہا تھا، ’تیز ہے دریائے دل اپنی روانی میں بہت‘۔ پس ثابت ہوا کہ کلام اقبال میں دستگاہ پر سند درکار ہو تو برادر بزرگ سے رجوع کیا جائے۔ برادر بزرگ تو طبیعت کے لات منات ہیں۔ جدھر ڈھلک لیے، چھلک لیے۔ آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا۔ بحر سے خارج غزل کا لطف تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی مجلس میں ہے۔ الیگزنڈر پوپ نے Rape of the Lock میں ایک لائن لکھی تھی۔
At ev’ry word a reputation dies
بس کچھ اسی طور پرویز مشرف کے ہر لفظ سے قومی احترام کا ایک مورچہ منہدم ہو جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن پر فرمایا کہ ’جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی مزاحمت کی ہے…. میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائیوں کا حامی رہا ہوں۔ حافظ سعید سے مل چکا ہوں…. حافظ سعید بھی میرے دلدادہ ہیں‘۔ استاد مومن یاد آگئے، ’یہی ارمان اک مدت سے جی میں تھا، نکل آیا‘۔ ملیحہ لودھی نے مشکل سے حافظ سعید کو فلاحی سرگرمیوں کی قبا پہنائی تھی۔ فلاحی سرگرمیاں غیر سیاسی ہوتی ہیں۔ فلاحی کارکن سرحدی تنازعات میں فریق نہیں ہوتے۔ حافظ سعید ابھی رہا ہوئے ہیں اور پرویز مشرف نے ان کا پیٹا کاٹ لیا۔ اگر ملک کا سابق صدر ریاست کے موقف پر دھول اڑائے گا تو دنیا بھر کے سفارت کار مل کر بھی ہمارا بھلا نہیں کر سکتے۔
اگر کوئی نالہ پرویز مشرف سے بھی کھنچ نہ سکے تو اس میں عمران خان پھونک بھر دیتے ہیں۔ عمران خان کو ملال ہے کہ 126 دن کے دھرنے میں کسی چوہیا سے استعفیٰ نہ لے سکے۔ ادھر علامہ رضوی 20 دن کے دھرنے میں دھومیں مچا گئے۔ اور جو گالیاں شیخ رشید، طاہر القادری، عمران خان اور دیگر زعما کی نذر کیں، وہ لبھاو میں شمار ہوئیں۔ علامہ خادم حسین کا مقام تو اب مہ و خورشید کے قریں ٹھہرا ہے۔ عمران خان کی مجال نہیں کہ خادم رضوی کو نظر بھر کے دیکھ سکیں۔ فرماتے “فیض آباد میں استعمال ہونے والی زبان پر بات نہیں کرنا چاہتا”۔ البتہ علامہ خادم حسین کا تاؤ عاصمہ جہانگیر پہ نکالا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’ڈرون حملوں پر انسانی حقوق کی ملکہ خاموش رہتی ہے‘۔ عمران خان کی جوالا مکھی جوانی اس ملک میں نہیں گزری۔ انہیں کیا معلوم کہ عاصمہ جہانگیر کون ہیں؟ عاصمہ جہانگیر 1952ءمیں پیدا ہوئیں۔ اسی برس عمران خان پیدا ہوئے تھے۔ او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم۔ جون 1971ءمیں عمران خان نے پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ اسی برس اٹھارہ برس کی عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ جا پہنچی تھیں۔ ’عاصمہ جیلانی بنام وفاق پاکستان‘ کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے یحییٰ خان کو غاصب قرار دیا تھا اور بھٹو حکومت کو مارشل لا اٹھانے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان فرماتے ہیں ’میں کرکٹر تھا، کسی عوامی عہدے پہ نہیں تھا‘۔ عاصمہ جہانگیر بھی کبھی عوامی عہدے پر نہیں رہیں۔ ملک کے مفاد میں جدوجہد عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔ 1976ءمیں عمران خان کے نامہ اعمال میں کل ملا کے بیس وکٹیں تھیں ۔ آپ نے پندرہ ڈالر کے جھگڑے پر قومی کرکٹ ٹیم چھوڑ دی تھی۔ تب عاصمہ جہانگیر جمہوریت کے لیے سڑکوں پر تھیں۔ جب عمران خان کرکٹ اور دیگر غیر نصابی کمالات دکھا رہے تھے، عاصمہ جہانگیر جنرل ضیا الحق کے مسلط کردہ حدود آرڈیننس کی مزاحمت کر رہی تھی۔ بحالی جمہوریت کی تحریک میں نظربند ہوئی تھی، نابینا لڑکی صفیہ بی بی کے لئے لڑ رہی تھی۔ عورتوں کی آدھی گواہی کے خلاف جلوس نکالتی تھی۔ بالغ عورت کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے حق کی لڑائی لڑتی تھی۔ عاصمہ جہانگیر سلامت مسیح سے بھٹہ مزدوروں تک، ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہوئی۔ جنہوں نے آج دھرنا دیا ہے، ان کے بھائی بند 1996 میں عاصمہ جہانگیر کے گھر پہ حملہ آور ہوئے تھے۔ ان دنوں عمران خان اپنے اتالیق سے فلاحی سرگرمیوں کا سبق پڑھ رہے تھے۔ صحافت کا گنجفہ حقوق کی لڑائی اور فلسفہ خیرات میں فرق کیا بتاتا؟ عمران خان کی فلاحی سرگرمی کی ایک جھلک 1994 میں نظر آئی تھی جب عبدالستار ایدھی ملک چھوڑ کے لندن چلے گئے تھے اور بیان دیا تھا کہ مجھے عمران خان اور حمید گل کے دباو میں ملک چھوڑنا پڑا۔
عاصمہ اقتدار، استحصال اور عوام دشمنی سے پنجہ آزما رہی ہیں۔ عمران بنیاد پرستی اور قدامت پسندی کے عذر خواہ رہے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ’مغرب کے تمام لبرل لوگ ویتنام جنگ کے خلاف تھے‘۔ عمران خان کے ہم صفیروں نے تو 1992 ءمیں ویت نام دریافت کیا۔ ویت نام جبر کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے۔ لبرل لوگ صرف ویت نام جنگ کی مخالفت نہیں کرتے، اپنے ملک میں آمریت کی بھی مزاحمت کرتے ہیں۔ آمرانہ ریفرنڈم میں مدد گار نہیں بنتے۔ عاصمہ جہانگیر نے طالبان اور ریاست کے گٹھ جوڑ کی مخالفت کی تو سوات آپریشن میں بے گھر ہونے والوں کے لیے بھی آواز اٹھائی۔ اکیسویں آئینی ترمیم کی مخالفت کر کے دہشت گردوں کی حمایت کا الزام سہا۔ ابھی پچھلے برس ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں جا کے بھارتی فوج کی مذمت کی۔ کچھ بہادروں کا یہ عالم ہے کہ کرن تھاپر کے سامنے بیٹھ کر بھی دہشت گردوں کا نام نہیں لے سکتے۔ پاکستان کے لبرل لوگوں نے کسی کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی البتہ ریاست سے مطالبہ کیا کہ غلیل کے مقابلے میں دلیل کی حفاظت کی جائے، درس گاہوں اور عبادت گاہوں پر حملہ آور بندوق برداروں کو روکا جائے۔ وائے کہ اس مطالبے پر لبرل لوگ خونی قرار پاتے ہیں۔ ادھر ٹویٹ اور نوٹیفیکیشن کی مناسبت سے موقف بدلنے والے جمہوریت اور قومی مفاد پر اجارہ مانگتے ہیں
چپ ہو گئے ترے رونے والے
دنیا کا خیال آ گیا ہے

( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker