کالملکھاریوجاہت مسعود

پنجاب یونیورسٹی کی بازیابی : تیشہ نظر / وجا ہت مسعود

ہمارے ملک میں اب بلامبالغہ سینکڑوں یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ ان اداروں میں تدریس اور تحقیق کے معیار میں معمولی اونچ نیچ سے قطع نظر حقیقی قضیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کی جامعات علم کا مقدمہ ہار چکی ہیں ، ادارہ جاتی سطح پر کسی کو کم ہی دلچسپی ہے کہ علم کو ملک کی ترقی کا انجن بنانا ہے۔ ایک خاص وضع قطع اور ذہنی سانچے میں ڈھلے طالب علموں کے لشکر ہر سال برآمد ہو رہے ہیں۔ آج کل کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کامرس کی تعلیم کا غلغلہ ہے۔ چند عشروں قبل ہمیں ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کا ہوکا تھا۔ تعلیم کو بطور ایک تمدنی ادارے کے نظر انداز کیا جا چکا ہے۔ علم نامیاتی سطح پر قومی ترجیحات کا حصہ بنتا ہے تو اس سے سیاست، معاشرت اور تمدن میں ہموار ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ علم کو تجارتی خرید و فروخت کا بندوبست قرار دے دیا جائے تو چند کلیے یاد کر لینے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا التباس پیدا ہوتا ہے، علم کی تخلیق رک جاتی ہے۔ گویا مریض کو مسلسل خون دیا جا رہا ہے لیکن مریض کا جسم خون پیدا نہیں کر رہا۔ یہ کیفیت صحت یابی کی علامت نہیں۔ ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیمی صورت حال کا استعارہ پنجاب یونیورسٹی ہے۔ ملک کے اس قدیم ترین ادارے میں چالیس ہزار سے زائد طلبا تعلیم پاتے ہیں۔ اساتذہ کی تعداد پندرہ سو سے زیادہ ہے۔ تعلیمی معیار کی صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے علمی نقشے پر پنجاب یونیورسٹی کا نشان کہیں نہیں۔ اساتذہ کے بارے میں کوئی رائے دینا میرا منصب نہیں۔ صرف ایک مثال دیکھ لیجیے۔ اب سے کوئی پانچ برس پہلے اس جامعہ کے ایک وائس چانسلر نے چھ سو صفحات پر محیط ایک ضخیم کتاب لکھی۔ یہ کتاب علمی سطحیت، تعصب، تاریخ سے لاعلمی اور تحقیقی اصولوں سے انحراف کا ایسا شرمناک نمونہ ہے کہ اگر اسے علمی دنیا کے سامنے رکھا جائے تو وائس چانسلر مذکور کا تو مزید کچھ بگڑنے سے رہا، ملک کی بہت بھد اڑے گی۔
پنجاب یونیورسٹی میں لائبریری ایک عضو معطل ہے۔ پچھلے ستر برس میں اس درسگاہ نے اوسط سے بھی کم اہلیت رکھنے والے طالب علم پیدا کئے ہیں جنہوں نے انگریزی ادب پڑھا تو اس لیے کہ اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں کامیابی مل سکے۔ اردو ادب پڑھا تو بے معنی تنقیدی مقالے لکھے۔ فلسفہ پڑھا تو پیشہ ورانہ زندگی میں مغلق حوالوں سے مخاطب کو زچ کیا۔ دنیا بھر میں جامعات کا ماحول عبادت گاہوں کی طرح امن کا گہوارہ ہوتا ہے جہاں علمی مکالمہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ کا اصل کام تو اپنے تخصیصی شعبے میں علم کا افق وسیع کرنا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کا حقیقی منصب یہ ہے کہ استاد طالب علموں کو سوال مرتب کرنا سکھاتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں سوال کو مردود قرار دے دیا گیا۔ تشدد، جبر، تنگ نظری، جہالت اور روایت کا اسیر ہونے کا ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کا نام آتے ہی میانوالی جیل، لاہور کے شاہی قلعے، مچھ جیل اور سکھر جیل کا خیال آتا ہے۔ اسی کی دہائی میںپیدا ہونے والے اگر ان مقامات سے واقف نہ ہوں تو عزیزآباد کراچی کے نائن زیرو کا تصور کر لیں۔ ملک کی جس درس گاہ کو قومی ترقی، علمی بلندی اور تحقیق کا نشان بننا تھا وہاں علم پر یہ آزمائش کیوں اتری؟
ہمارے ملک کی آزادی اور دنیا میں سرد جنگ کا آغاز قریب قریب ایک ہی وقت میں رونما ہوئے۔ سرد جنگ دو عالمی طاقتوں میں سیاسی اور معاشی نظام کی کشمکش تھی۔ عالمی بالا دستی کی اس لڑائی کو کچھ خوش نما نعرے دئیے گئے۔ مثال کے طور ہر اسے مذہب اور الحاد کی لڑائی قرار دیا گیا۔ اسے سیاسی آزادیوں اور معاشی ضروریات کا مجادلہ بنایا گیا، یہ نعرے اپنی طفیلی ریاستوں کو برآمد بھی کیے گئے۔ پاکستان میں ریاست نے امریکہ کے سرمایہ دار کیمپ کا جھنڈا اٹھا لیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں جمہوریت کا راستہ روکنے کے لیے قومی سلامتی اور مذہب کا نام استعمال کرنا ریاستی پالیسی قرار پایا۔ نظریہ پاکستان کی مفروضہ اصطلاح کو مذہب کے مترادف قرار دے کر جمہوریت پسند قوتوں کو کچلا گیا۔ 1950ء میں کل تیرہ فیصد شرح خواندگی رکھنے والے ملک میں رائے عامہ کی تشکیل تعلیم یافتہ طبقے کے ہاتھ میں تھی۔ چنانچہ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کی لڑائی کا مورچہ تعلیمی اداروں میں لگا۔ پنجاب یونیورسٹی اس جنگ کا مرکزی محاذ تھی۔ طلبا سیاست بنیادی طور پر سیاسی رویوں کی تربیت اور سیاسی اصولوں کی تعلیم کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں طلبا سیاست کو سیاسی گروہوں کا یرغمالی بنا دیا گیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی 1970ء کے بعد سے ایک خاص سیاسی نقطہ نظر کی اسیر رہی ہے۔ اس میں قتل و غارت کے واقعات بھی ہوئے لیکن اصل سانحہ یہ ہوا کہ پنجاب یونیورسٹی میں علم قتل ہو گیا۔ یونیورسٹی علم کا نہیں بلکہ علم دشمنی کا استعارہ بن چکی ہے۔ یہاں کمرہ جماعت احتسابی عدالت اور ہوسٹل عقوبت خانے ہیں۔
ایسے میں اچھی خبر آئی ہے کہ ڈاکٹر ذاکر ذکریا کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ جس درس گاہ میں ریٹائرڈ جنرل بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں، وہاں ایک حقیقی استاد کا وائس چانسلر بننا بذات خود مثبت قدم ہے۔ ڈاکٹر ذاکر زکریا کے ساتھ ایک مختصر مدت کے لیے تدریسی رفاقت کا شرف اس درویش کو حاصل رہا ہے۔ ان کی علم دوستی کا گواہ ہوں۔ مجھے یہ خبر ملی تو سوچا کہ مل کے دیکھا جائے کہ پروفیسر حمید احمد خان اور علامہ علاؤ الدین صدیقی کی کرسی پر نیا وائس چانسلر کیسا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر ذکریا میں انکسار پایا جاتا ہے جو علم کا پہلا نشان ہے۔ فرماتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو مکمل طور پر غیر جانب دار اور منصف ہونا چاہئے۔ میں نے اتفاق کرتے ہوئے ایک جملہ بڑھا دیا کہ چالیس سال سے جو نظریاتی گروہ یونیورسٹی پہ اجارہ قائم کیے ہوئے ہے، وہ بھی ہمارے بچے ہیں۔ جو پختون اور بلوچ یہاں پڑھنے آئے ہیں وہ بھی ہمارے جگر کے ٹکڑے ہیں۔ اختلاف رائے کوئی جرم نہیں۔ انتظامی غیرجانبداری یہی ہے کہ امن اور رواداری کے ماحول میں رہتے ہوئے ہر طرح کے فکری پھولوں کو کھلنے کا ایک جیسا موقع ملنا چاہئے۔ پستول کی نوک پر اپنی ترجیحات مسلط کرنے کی ثقافت ختم ہونی چاہئے۔ یونیورسٹی مختلف خیالات کی ایک نرسری ہوتی ہے، کھیت نہیں جہاں ایک ہی طرح کی فصل بوئی جائے۔ اس پر ڈاکٹر ذکریا نے گرہ لگائی کہ یونیورسٹی میں امن صرف یہ نہیں ہوتا کہ کہیں تصادم نہیں ہو رہا۔ یونیورسٹی میں امن کا مفہوم یہ ہے کہ اختلاف رائے کے احترام کی ثقافت پروان چڑھے۔ ڈاکٹر ذکریا یونیورسٹی کا علمی معیار بلند کرنے کے لئے تدریسی جوابدہی کی بھی بات کرتے ہیں۔ ایک لفظ وائس چانسلر صاحب نے استعمال کیا، مکمل علمی آزادی (Complete Academic Freedom)۔ یہاں میں نے اپنی خوش گمانی کو لگام دی کیوںکہ میں سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر علم کو روایت، تقلید اور پیوستہ مفاد سے آزاد کرنا کسی ایک وائس چانسلر کے بس کا کام نہیں، یہ وہ نصب العین ہے جس پر پورے ملک کی سیاسی اور تمدنی قیادت کو فیصلہ کرنا ہو گا۔
خواہش تو یہی ہے کہ ڈاکٹر ذاکر ذکریا کی آرزو پوری ہو اور پنجاب یونیورسٹی پاکستان کی علمی پسماندگی کی بجائے علمی ترقی کا استعارہ بنے۔ یہ ملک میں انتخابات کا سال ہے۔ گھاگ سیاسی رہنما سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے نام پہ لوگ ووٹ نہیں دیتے کیونکہ تعلیم پر اٹھنے والے مصارف کا نتیجہ کسی سڑک یا کارخانے کی طرح چھ مہینے میں سامنے نہیں آتا۔ خوش قسمتی سے پنجاب میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں جن کی علم نوازی ضرب المثل ہے۔ کیا اچھا ہو کہ ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر شاہد صدیقی، ڈاکٹر ذاکر ذکریا اور دوسرے ماہرین تعلیم سے ایک جامع تعلیمی پروگرام مرتب کرایا جائے، اسے انتخابات میں لوگوں کے سامنے رکھا جائے، پاکستان کے لوگ ایسے کم عقل نہیں کہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کے فوائد نہ سمجھتے ہوں۔ پنجاب یونیورسٹی میں اعلیٰ علمی معیار کی بحالی دراصل ملک میں علم کی بازیابی کا استعارہ بن سکے گی۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker