تجزیےلکھاریمظہر خان

کیا عمران خان عثمان بزدار کی قربانی دینے والے ہیں ؟ ۔۔ مظہر خان

پاکستان میں یوں تو جب بھی کوئی حکومت جمہوریت کے نام پر بنتی ہے اس کے چند ماہ بعد ہی سیاسی تجزیہ کار ، عوام ، اشرافیہ بلکہ ہر طبقہ فکر ہی اس کے جانے کی پیش گوئیاں شروع کر دیتا ہے، اور حکومت ان پیش گوئیوں کے زور پکڑنے پر طرح طرح کے طریقے اپنا کر جتنا بھی وقت میسر آتا ہے پورا کرتی ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پیش گوئیاں کرائی جاتی ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ یہ ہمارے تجزیہ کاروں، صاحب علم افراد سے لے کر عام طبقے تک سب کا عمومی مزاج بن چکا ہے، ہم جلد ہی اکتاہٹ کا شکار ہو کر مختلف قلابے ملانا شروع کر دیتے ہیں، اس میں کچھ حقائق ہوتے ہیں اور کچھ کو توڑ مروڑ کر حقائق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بہرحال وجہ جو بھی بنتی ہو ایک بات تو واضح ہے کہ پاکستان میں ہر حکومت کے دن گننے اور اس کے خاتمے کی وجوہات کو ٹھوس بنیادیں فراہم کرنے کے لیے ادھر ادھر کی باتوں، اہم شخصیات کی حرکات و سکنات تک کو بھی زیر بحث لانے کا غلط رواج اب بھرپور روایت بن چکا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو ، ماضی میں کئی حکومتیں مدت پوری کیے بغیر اور ٹھوس وجوہات کے بغیر فارغ کی گئیں، 1947 میں بننے والے ملک میں 2008 کے الیکشن کے نتیجے میں بننے والی پہلی جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی، اس دوران بھی کافی پیش گوئیاں ہوتی رہیں لیکن ایک وزیراعظم کی قربانی دے کر پانچ سال کا عرصہ مکمل کر لیا گی۔
2013 کے الیکشن میں بننے والی حکومت نے بھی اپنی مدت مکمل کی لیکن قربانی پھر بھی دینا پڑی، 2018 کے الیکشن کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور عمران خان وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے، ابھی حکومت کو کام کرتے دو سال مکمل نہیں ہوئے لیکن تقریبا ًایک سال سے ہی پیش گوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے کہ عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ ناراض ہے، حکومت کی معاشی پالیسی درست نہیں، نئے الیکشن ہو سکتے ہیں ، ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے، جہانگیر ترین سے وزیراعظم کی دوری حکومت کے خاتمے کی وجہ بن جائے گی، پنجاب حکومت کی نااہلی پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کو بھی ہلا دے گی، شہباز شریف اندرون خانہ پرویز الٰہی سے رابطہ کر چکے ہیں، پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
ایسی کئی تھیوریز اس وقت زور پکڑ چکی ہیں، تجزیہ کار، سیاسی پنڈت، اینکرز اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے اپوزیشن رہنماؤ ں سمیت آج کل ہر شخص ہی حکومت جانے کی تاریخ پر تاریخ دے رہا ہے، لیکن اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو حکومت کے حالات اتنے بھی خراب نہیں جتنے بتائے جا رہے ہیں، معاشی چیلنجز تو اپنی جگہ اب تو کرونا کے خلاف جنگ بھی جاری ہے، عمران خان اور حکومت کی کئی غلطیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن ان حالات میں حکومت سنبھالنے والا لیڈر ہی نظر نہیں آ رہا، ان ہاؤس تبدیلی میں پہلے دن سے مخدوم شاہ محمود قریشی کا نام سامنے آتا رہا ہے لیکن کیا وہ اکیلے پی ٹی آئی کا مکمل کنٹرول سنبھال پائیں گے اور کیا وہ اتنی اہلیت کے حامل ہیں کہ موجودہ معاشی ، کرونا وائرس اور قوم کے نفسیاتی مسائل کا حل نکال پائیں گے؟ ویسے بھی مخدوم شاہ محمود قریشی زیادہ پنجاب کی وزرات اعلی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
رہی بات مسلم لیگ ن کی تو وہاں پارٹی کے اندر کھچھڑی پک رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ میاں نواز شریف کو واپس لائے گی نہیں اور شاید میاں نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی کو اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے کے لیے گرین سگنل ہی نہ دیں کیونکہ ان مشکلات میں کوئی کیونکر حکومت سنبھالنا چاہے گا، اس طرح پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں حکومت ہے، وہ اس کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کرونا وائرس کے دوران اپنی کارکردگی سے ناقدین کے منہ بند کیے ہیں اور وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کو ٹف ٹائم دیا ہے، فی الحال وہ سندھ کو ہی سنبھالنے کی کوشش کریں گے اور بڑے پنگے سے بچ کر پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیں گے، ان سب حالات اور سوالات کا اسٹیبلشمنٹ بھی بغور جائزہ لے رہی ہو گی اور ان حالات میں شاید وہ بھی کوئی بڑی تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا نہ کریں، اس موقع پر چوہدری شجاعت کا وہ بیان بھی یاد آ رہا ہے جو انہوں نے چند ماہ قبل ہی دیا تھا کہ اگر ملک کے حالات یہی رہے تو تین ماہ بعد کوئی شخص پاکستان کا وزیراعظم بننے کا خواہشمند نہیں ہو گا، اس وقت اس بیان کی اہمیت کھل کر سامنے آ چکی ہے ، ایک بار پھر اگر اسٹیبلشمنٹ کے آپشنز پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ یہ تو ضرور چاہیں گے کہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر بنائے لیکن فی الحال کوئی ایڈونچر نہیں ہو سکتا، اس لیے فی الوقت پی ٹی آئی اور ان کے چیئرمین عمران خان کے پاس ابھی وقت باقی ہے، لیکن انہیں اس وقت میں اپنی سلیکشن کو بہتر نہیں بلکہ بہترین ثابت کرنا ہو گا تاکہ تھرڈ آپشن کا آپشن باقی رہے بصورت دیگر اس قوم کو واپس دو آپشنز پرہی آنا پڑ ے گا۔ سب سے اہم سوال اب یہی ہے کہ عمران خان کا کتنا وقت باقی ہے اور جو لوگ بزدار کی قربانی کا مشورہ دے رہے ہیں کیا عمران خان کو اپنی حکومت بچانے کے لئے عثمان بزدار کی قربانی دے دینی چاہئے اور کیا وہ واقعی یہ قربانی دینے والے ہیں؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker