2018 انتخاباتکالملکھاریوسعت اللہ خان

ایک اول جلول گفتگو: دل کی بات / وسعت اللہ خان

آمر ہو یا دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت، دونوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اگر خود غرض ہوں تو آسانی سے من مانی کر سکتے ہیں اور اپنے اپنوں میں ریوڑیاں بانٹ سکتے ہیں۔اگر خود غرض نہ ہوں تو ملک و قوم کو تیز رفتار ترقی کے ڈھرے پر ڈالنے اور اپنے منشور یا پروگرام پر عمل درآمد کے لیے موثر پارلیمانی قانون سازی اور بلاامتیاز احتساب و خود احتسابی کے ذریعے بیوروکریسی سمیت تمام بنیادی اداروں کو سرخ فیتے کی لمبان کم کرنے پر کسی حد تک مجبور کر سکتے ہیں۔ایشین بلیاں اسی راستے پر چلتے ہوئے ایشین ٹائیگرز بنی ہیں۔
لیکن آمر بھلے فوجی ہو کہ غیر فوجی، بھلے ٹینک پر سوار آئے یا دو تہائی مینڈیٹ کے گھوڑے پر۔اگر قومی اکثریت اسے غاصب سمجھے توآمر کا بیشتر وقت چومکھی لڑنے اور اندر کے چور اور خوف کو دبانے اور خود کو محفوظ سے محفوظ تر بنانے کے وہم کو سنبھالنے کے چکر میں مزید سخت گیر ہونے یا دکھائی دینے میں گذر جاتا ہے۔بالاخر یہی سخت گیری ’’ ہر ایکشن کا مساوی ری ایکشن ہوتا ہے‘‘ کہ نیوٹونین کلئیے کے تحت آمر کے زوال کا سبب بنتی چلی جاتی ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ آمریت بھی تب ہی ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جب وہ عوام دوست اقدامات کر کے رفتہ رفتہ عوام کی آنکھوں میں جائز ثابت ہونے لگے ۔اسی طرح جائز راستے سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بننے والی حکومت اگر منشور یا پروگرام کے بنیادی نکات کو یکسوئی کے ساتھ بنا آنا کانی عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہ کرے تو رفتہ رفتہ اس کا جائز حق ِ اقتدار بھی ناجائز لگنے لگتا ہے۔
عین ممکن ہے کہ دو تہائی اکثریت رکھنے کے باوجود ہمارا پیارا سویلین یا غیر سویلین آمر داخلی و خارجی عوامل یا رکاوٹوں کے سبب تمام بنیادی وعدے پورے نہ کر پائے مگر عوام کو بہرحال یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ہمارا لیڈر کوشش ضرور کر رہا ہے۔اب عوام اتنے بھی احمق نہیں ہوتے کہ انھیں مخلصانہ اور خود غرضانہ ، فرنٹ ڈور اور چور دروازے، شعبدے بازی اور محنت کے معنی و مفہوم پوری طرح سے معلوم نہ ہوں ۔
ویسے تو ہر سیاسی جماعت اور اس کے لیڈر کا خواب برسرِ اقتدار آنا ہی ہوتا ہے اور اقتدار بھی وہ جس پر اس کی مکمل گرفت ہو۔کسی سیاسی جماعت کو سادہ اکثریت یا شراکتِ اقتدار یا مخلوط حکومت سازی پسند نہیں ہوتی۔ کیونکہ مخلوط حکومت کا مطلب ہے ایک انار سو بیمار، ایک ایسا کیلا جس کا چھلکا اتارنے کے لیے بھی اتفاقِ رائے درکار ہے، ایک الکوحل مشروب کی نان الکوحل بوتل ، ایک گناہِ بے لذت ، ایک ایسا خالی پلاٹ جس پر ہر فریق اپنی مرضی کی عمارت اٹھانا چاہے۔ یوں پلاٹ پانچ برس بعد بھی خالی نظر آئے۔مخلوط حکومت ایک ایسی دوکان ہے جس میں قصاب ، درزی ، فارماسسٹ اور موٹر مکینک شراکت دار ہوں، ایسی لٹکتی تلوار ہے جو حالات کے جھکڑوں سے یوں جھول رہی ہو کہ کوئی نہ جانے کس سمت کس کے سر پے گرے گی۔اسی لیے مخلوط حکومت کے تجربے سے سیاستدانوں کی نفرت بجا ہے۔
پڑوس میں ہی دیکھ لیجیے۔بھارت میں نوے کی دہائی سے دو ہزار چودہ تک مخلوط حکومتیں بنتی رہیں اور نرسیمہا راؤ سے من موہن سنگھ تک جتنے بھی وزرائے اعظم آئے وہ اختیاراتی اعتبار سے اورنگ زیب کے بعد آنے والے مغل بادشاہوں کے ہم پلہ بھی نہ تھے۔اس کے مقابلے میں مودی حکومت کے ٹھاٹ باٹھ ملاحظہ کیجیے۔کم ازکم دو ہزار انیس کی انتخابی مہم کے دوران مودی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کا موقع اور وقت نہ مل سکا۔
مگر اوپر جو کلئیہ بیان کیا گیا وہ ان ممالک پر لاگو ہے جہاں جمہوری یا آمرانہ طرزِ حکومت ایک تسلسل کے ساتھ ہے۔یہ کلیہ پاکستان جیسی لیبارٹریوں پر لاگو نہیں ہوتا۔جہاں اکثریت دو تہائی ہو کہ سادہ کہ زیرو۔یہ اکثریت شفاف انتخابی عمل سے کشید کی گئی ہو یا غیر منتخب قوتوں کی دھکا حمایت کے ذریعے حاصل کی گئی ہو یا دھاندلی کی پیداوار ہو۔اس لیبارٹری میں سب مرکبات برابر ہیں۔
پچاس کی دہائی کی پاکستانی سویلین حکومتوں نے نظام کا کیا بگاڑ لیا ؟ کیا بھٹو نے ستر میں سادہ اور ستتر میں دو تہائی اکثریت نہیں لی؟ بے نظیر بھٹو کی دو بار کی سادہ اکثریت اور نواز شریف کی دو تہائی اکثریت نے ایسا کیا پہاڑ اکھاڑ لیا جو ظفر اللہ جمالی کی دو ووٹوں سے ٹکنے والی دھکا اسٹارٹ حکومت اور شوکت عزیز کا پیراشوٹی اقتدار نہ اکھاڑ پائے۔یوسف رضا گیلانی کسی مخلوط حکومت کے وزیرِ اعظم تو نہیں تھے۔
جمہوری عمل مسلسل نہیں رہا تو کیا فرق پڑا۔یہ عمل مسلسل ہے تو کیا فرق پڑا ؟ جو کل غیر محفوظ تھا آج بھی غیر محفوظ ہے۔جو کل محفوظ تھا آج بھی محفوظ ہے۔اب تو مجھ جیسوں کی ذہنی حالت کچھ یوں ہو چلی ہے کہ
’’ ہے‘‘ سے بھی نکل جا تو ’’ نہیں‘‘ سے بھی نکل جا
پھر تیری بلا سے تجھے کیا ’’ہے کہ نہیں ہے‘‘
( احمد نوید )
کبھی یوں لگتا ہے کہ اس حویلی کے نظام کا تانا بانا دار و مدار اس کثیر ازدواجی جاگیر دار کے گرد بنا گیا ہے کہ جس کا من کسی ایک بیوی کے ساتھ لگنے کے لیے نہیں بنا۔اس کا حرم ان عورتوں سے بھرا پڑا ہے جنھیں بڑی چاہت سے کچھ عرصہ چھوٹی بیگم بنا کے نخرے اٹھائے گئے۔دل بھر گیا تو ایک اور چھوٹی بیگم نے جگہ لے لی۔ پھر ایک اور پھر ایک اور۔داشتائیں تو خیر کسی گنتی شمار میں نہیں۔
اچھا جی پچیس جولائی کے بعد مخلوط حکومت بنے گی تو؟اچھا جی پچیس جولائی کے بعد یک جماعتی مستحکم حکومت بنے گی تو ؟ مجھے بس یہ بتاؤ کہ اختیار کے لاکر کی چابی کس کے پاس ہو گی۔ ڈپلی کیٹ نہیں ماسٹر چابی۔
بس ایک ہی منظر تو ہے جو دل میں امید کا دیا جلائے ہوئے ہے۔یہ قوم کہ جس کے ماتھے پر منہ سے دو فٹ آگے نکلا سرکنڈہ بندھا ہے اور اس سرکنڈے سے باعزت زندگی کے خواب کا انگوری خوشہ لٹک رہا ہے اور قوم اس امید پر چلے چلے جا رہی ہے کہ کبھی تو منہ اور خوشے کا درمیانی فاصلہ ختم ہوگا۔
( دیکھئے جب موضوع پر گرفت نہ ہو اور یہی طے نہ ہو رہا ہو کہ دراصل لکھاری کیا بتانا کیا چھپانا چاہ رہا ہے تو پھر ایسی ہی اول جلول باتیں سوجھتی ہیں )۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker