تجزیےلکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاؤ

جب 13ویں اور 14ویں صدی میں طاعون (بلیک پلیگ) یورپ کی ایک تہائی آبادی چٹ کر گیا یا 20ویں صدی میں پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد پھیلنے والا سپینش انفلوئنزا یورپ میں تباہی مچانے کے بعد وطن لوٹنے والے دیسی فوجیوں کے طفیل صرف ہندوستان میں ہی ڈیڑھ سے دو ملین لوگوں کو نگل گیا تب نہ عالمی ادارہِ صحت تھا، نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی وہ طبی سہولتیں جو آج کے عام آدمی سے کچھ ہی فاصلے پر ہیں۔
بھلا ہو سائنسی و مواصلاتی ترقی کا کہ ایک جانب جب گلوبل ولیج میں ایک وبا کرہِ ارض کے ایک سرے سے شروع ہو کر 196 میں سے تادمِ تحریر 162 ممالک تک صرف دو ماہ میں جا پہنچی ہے وہیں تباہ کاری کی شدت قرونِ وسطی اور سپینش فلو کے پیمانے کے اعتبار سے نہ ہونے کے برابر ہے۔
کیونکہ ریاستوں کے پاس پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسائل ہیں۔ بین الاقوامی تعاون اور معلومات کی ترسیل کا نظام پہلے سے کئی سو گنا بہتر ہے اور خواندگی کا تناسب بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
2005 میں جب شمالی پاکستان میں زلزلہ آیا اور لگ بھگ 90 ہزار افراد لقمہِ اجل بن گئے تو پتا یہ چلا کہ اتنی ہلاکتیں زلزلے کے سبب نہیں ہوئیں بلکہ زلزلہ زدہ علاقوں میں عمارتیں گرنے سے ہوئیں اور عمارتوں نے اس لیے تباہی مچائی کیونکہ ان کی تعمیر میں جو میٹریل استعمال ہوا تھا اور جس ڈیزائن کو بروئے کار لایا گیا تھا وہ ایسے علاقوں کے لیے موزوں ہے ہی نہیں کہ جو زلزلے والی ارضی پٹی پر آباد ہیں۔
جن اقوام نے یہ راز پا لیا وہ سکھی رہیں۔ مثلاً جاپان میں سال بھر میں اوسطاً کم ازکم ایک یا دو ایسے جھٹکے آتے ہیں کہ جن کی شدت 2005 کے پاکستانی زلزے کے برابر ہوتی ہے لیکن وہاں جانی نقصان درجنوں میں ہوتا ہے۔ کیونکہ جاپانیوں نے اپنا تعمیراتی تصور اور لائف سٹائل زلزلے کے حساب سے بہت عرصہ پہلے بدل ڈالا تھا۔
اسی طرح وائرس اتنا ہلاکت خیز نہیں ہوتا جتنا اسے روکنے کے اقدامات کے سلسلے میں وقت ضائع کرنے والی بقراطی ہوتی ہے۔
چین میں کورونا کی لہر موڑنے کا ایک سبب یہ ہے کہ جو ریاست نے کہا وہ لوگوں نے کیا۔ کیونکہ ریاست کے پاس ایک ٹھوس منصوبہ اور اس پر عمل کروانے کی طاقت تھی۔ اگر یہ دونوں عناصر یکجا نہ ہوتے تو اس وقت چین میں اموات اور بیماری پھیلنے کا تناسب قرونِ وسطی کے یورپ کو چھو رہا ہوتا مگر ہر کسی کے پاس تو چین جیسے وسائل یا ڈسپلن نہیں تو پھر وہ کیا کریں۔
ایران کے تجربے نے یہ بتایا کہ وہاں ڈسپلن تو ہے مگر وسائل نہیں اور اٹلی کا تجربہ یہ بتا رہا ہے کہ وہاں وسائل تو ہیں مگر ڈسپلن کی کمی، ریاست کی جانب سے آنے والی تباہی کا بروقت ادراک نہ ہونا اور پھر مصیبت سر پر آنے کے بعد وہ اقدامات کرنا جنہیں پہلے ہونا چاہیے تھا۔
ان سب وجوہات نے مل ملا کر اٹلی کو یورپ میں کورونا پھیلانے کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا۔ لیکن کسی بھی ریاست کو جان بوجھ کر تباہ ہونے کا شوق تو نہیں ہوتا۔
نئے قدرتی و انسانی المیے ہمیں سکھاتے بھی تو ہیں کہ آئندہ ایسی صورت درپیش ہو تو کیا کیا نہیں کرنا چاہیے اور کیا کیا لازمی کرنا چاہیے۔ اس تناظر میں جب میں اپنی ریاست اور سماج کو دیکھتا ہوں تو کوئی بہت زیادہ بہتر محسوس نہیں کرتا۔ ہم سبق دینے کے معاملے میں سب سے آگے اور سبق سیکھنے کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں۔
مثلاً آج جب میں بالاکوٹ جاتا ہوں تو یہ دیکھ کے دکھ ہوتا ہے کہ عمارتیں اسی انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جو 15 برس پہلے موت کا پھندہ بن گئی تھیں۔ بہت شور ہوا تھا نیا بلڈنگ کوڈ اپنانے کا مگر پھر یہ بلڈنگ کوڈ شاید اجتماعی یادداشت کے کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔
آج عام آدمی تو رہا ایک طرف خود ریاست بھی اب تک قائل نہیں ہو سکی کہ کورونا وبا نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے اور جنگ میں بقراطی کی نہیں فوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لیڈرشپ ابتدا میں غلطیاں کرے مگر اس میں اگر اپنی غلطیوں کو فوری طور پر محسوس کر کے درست کرنے کی کامن سنس ہے تو چھوٹی موٹی کوتاہیاں بھی درگذر ہو جاتی ہیں۔
مگر یہاں حالت یہ ہے کہ وفاقی سطح پر محکمہ صحت اور ماہرینِ صحت کو اس جنگ میں کلیدی کردار دینے کے بجائے ہر طرح کے سٹیک ہولڈرز کو راضی رکھنے اور کمیٹی در کمیٹی بنانے پر زیادہ زور ہے۔
سوائے سندھ کے کہیں بھی یہ احساس نہیں ہو پا رہا کہ کوئی مربوط حکمتِ عملی ہے کہ جس کی مدد سے یہ جنگ جیتنی ہے۔مگر عام آدمی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جنگ کوئی بھی ہو ریاست بغیر عوامی مدد کے نہیں جیت سکتی۔ ریاست کے پاس جتنے بھی وسائل یا تربیت یافتہ افرادی قوت ہو وہ وباِ عام یا عظیم تباہی کے امکانات کے آگے کم پڑ جاتی ہے۔
چنانچہ مجھے یہ خبر پڑھ کے بہت اچھا لگا کہ سکھر سے کچھ فاصلے پر جانجی برڑا گاؤں کے چار پانچ نوجوانوں نے دو سو گھروں پر مشتمل اس گاؤں کو بچانے کے لیے حکومت کا انتظار کیے بغیر فیصلہ کیا کہ گاؤں میں حفاظتی سپرے کیا جائے اور اپنے جیسے نوجوانوں کو ساتھ شامل کر کے گاؤں کی باقی آبادی کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور موبائل فون انٹرنیٹ کے ذریعے بچاؤ کی معلومات حاصل کر کے جس حد تک ممکن ہو اپنے گاؤں پر لاگو کیا جائے۔
جب حکومت کے پاس پہنچ کی کمی ہو تو پھر جنگ جیتنے کے لیے گوٹھ جانجی برڑا کا ماڈل بھی غنیمت ہے۔ اچھی بات ہے کہ سندھ حکومت نے رضاکاروں کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے جنہیں عالمی ادارہِ صحت کی معلومات کی روشنی میں صحت عامہ سے متعلق بنیادی اصولوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ یہ تربیت اپنی اپنی آبادیوں میں باقی لوگوں کو دیں اور وائرس کے خلاف عمل اور آگہی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں۔
تربیت بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ بس یہی تو سیکھنا اور سکھانا ہے کہ ہاتھ صابن سے کیسے دھوئے جائیں، اپنی مدد آپ کے تحت ہینڈ سینٹائزرز کیسے تیار کر کے تقسیم کیے جائیں۔ بہت ہی بنیادی قسم کے ماسک کیسے بنائے جائیں، وائرس سے متاثر لوگوں کو کیسے سلیقے کے ساتھ الگ رکھا جائے، قرنطینہ کیسے بنایا جائے، طبی امداد تک رسائی کے نیٹ ورک سے کیسے جڑا جائے اور مالی و انتظامی اعانت و آسانی کے لیے گاؤں کے وڈیرے کو کیسے اس مہم کا اعزازی سرپرست بنا کر خوش رکھا جائے؟
اللہ اللہ خیر صلا۔ اس کے بعد کا مرحلہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔
بس یہی یاد رکھنا ہے کہ وائرس ریاست سے دو ہاتھ آگے ہے۔ اسے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ کسی کا انتظار کیے بغیر ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاؤ۔
( بشکریہ : اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker