کالم نگاروں کو اکثر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم مسائل کی نشاندہی تو کرتے ہیں مگر اُن کا حل نہیں بتاتے۔یہ طعنہ ایسا غلط بھی نہیں ہے ۔ٹھیک ہے کہ مسئلے کو جڑ سے پکڑنا بھی حل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہےمگر پہلے قدم کے بعد دوسرا اور تیسرا قدم بھی اٹھانا ہوتا ہےجوہم نہیں اٹھاتے ۔مسئلہ چاہے کچھ بھی ہو، ہمارا پسندیدہ حل کچھ اِس قسم کا ہوتا ہے کہ ’سب کو چاہیے مل بیٹھ کر اِس کا حل نکالیں‘ یا پھر ’اگر ہر بندہ ٹھیک ہوجائے گا تو معاشرہ خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔‘اگر معاشرے یوں ٹھیک ہوجاتے تو نہ دنیا میں کسی پیغمبر کی ضرورت ہوتی اور نہ کسی نظام کی۔ایک اور ’حل ‘جو آج کل خاصا مقبول ہے وہ ’سچائی اور مصالحتی کمیشن ‘ بنانا ہے۔حل بتانے والے یہ لفظ تو بول دیتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ یہ کمیشن کیسے کام کرے گا اور اِس سے مسائل کیوں کر حل ہوں گے ۔ غالباً اِس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ ہر جماعت ،گروہ اور شخص اِس کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرےگا، مکمل سچ بولےگا ، اگر اُس نے کوئی جرم کیا ہے تو اُس کی معافی مانگےگا اوراگر اُس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اسے معاف کرنے کا اعلان کرے گااور یوں ہم بالکل صاف تختی(چclean slate ) کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہوں گے ۔اِس قسم کے کمیشن جن ممالک میں قائم کیے گئے ہیں وہاں صورتحال بالکل مختلف تھی ، مثلاً جنوبی افریقہ میں سفید فام نسل پرستوں نے سیاہ فام آبادی پر حکومت کی تھی ، اُن کے ساتھ زیادتیاں کی تھیں ، کمیشن میں اُن مظالم کا اعتراف کرکے معافی مانگی گئی جس کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ایسا کمیشن سن 47 کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں بھی تشکیل دیا جا سکتا تھا جہاں ہندو ،مسلم اور سکھ پیش ہوکر اُن جرائم کا اعتراف کرتے جو انہوں نے تقسیم کے ہنگاموں میں ایک دوسرے کے خلاف کیے تھے،اگر ایساہوجاتا تو شاید دونوںممالک امن وشانتی کے ساتھ رہنے کا عہدکر سکتے تھے مگر افسوس کہ ایسا کوئی کمیشن نہیں بن سکا۔موجودہ پاکستان میں آج کل کے حالات پر یہ کمیشن ،اگر بن بھی گیا، تو اِس کا فائدہ نہیں ہوگا۔نہ اِس کمیشن کے لیے ایسے لوگ ملیں گے جن پر معاشرے کا اعتماد ہو کیونکہ ہم نے ہر شخص کے چہرے پر کالک مل کر اسے بدنام کردیا ہے اور نہ ہی کوئی جماعت یا فرد اِس کمیشن کے آگے پیش ہو کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرےگا،لہذا یہ حل محض دیوانے کا خواب ہے ۔
یہاں تک لکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ میں نے حل پیش کرنے والوں کا تمسخر تو اڑا لیا ہے مگر خود کوئی حل پیش نہیں کیا۔ چلیے کوشش کرتے ہیں۔میری رائے میں کچھ کام ایسے ہیں جنہیں اگر صرف بندہی کردیا جائے تونہ صرف اچھی خاصی بچت ہوگی بلکہ مسائل بھی قدرےکم ہوجائیں گے ۔تعلیم کے شعبے کو لے لیں۔ اِس وقت ہمارے سر پر نئی یونیورسٹیاں کھولنے کا جنون سوار ہے، بھکر، لیہ،نارووال،سیالکوٹ، ڈی آئی خان اور نہ جانے کہاں کہاں یونیورسٹیاں بنائی جا رہی ہیں،اربوں روپے اِن یونیورسٹیوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں ، کیوں؟ کیا یونیورسٹی محض چند ایکڑ جگہ مختص کرکے اُس پر عمارت کھڑی کرنے کا نام ہے ؟ کیا یہ جامعات فلسفہ، تاریخ اورنفسیات کےاساتذہ کے بغیر کام کریں گے ؟بھکر کی یونیورسٹی میں فلسفے کا ڈاکٹر تو دور کی بات شاید ایسا طالب علم بھی نہ ملے جو فلسفے میں داخل لینا چاہتا ہو،پھر وہاں یونیورسٹی بنانے کی کیا ضرورت؟ اسی طرح موجودہ کالجوں کویونیورسٹیوں کا درجہ دینے کا رجحان بھی خاصا بے تکا ہے ۔ نام ہی ملاحظہ فرمائیں ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،گونمنٹ کالج وومن یونیورسٹی سیالکوٹ ، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی ، سبحان اللہ۔یہ کام کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود نام نہاد ماہر تعلیم ہیں جنہوں نے محض اپنے عہدوں اور اختیارات کی لالچ میں یہ مضحکہ خیز کام کیے جن کا خرچہ اربوں روپے کی شکل میں عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے اور نتیجہ صفر ہے ۔کون سا ایسا کام ہے جو یہ یونیورسٹیاں بطور کالج نہیں کر سکتی تھیں؟اسی طرح ہم نے میڈیکل کالجوں میں تقریباً مفت ڈاکٹر بنانے کی فیکٹریاں لگائی ہوئی ہیں، یہاں سرکار کے خرچے پر بچے بچیاں ڈاکٹر بنتے ہیں، آدھی لڑکیاں شادی کرکے گھر بیٹھ جاتی ہیں اور آدھے لڑکے ڈاکٹر بن کے باہر چلے جاتے ہیں اور خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگ جاتا ہے ، کیوں یہ سلسلہ بند نہیں ہوسکتا ؟برطانیہ میں ڈاکٹر بننے پر تقریباً چھ کروڑ خرچہ آتا ہے ، ہمارے سرکاری کالجوں میں یہ خرچہ چند لاکھ بھی نہیں ہے جبکہ برطانیہ اور ہماری آمدن میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔غریب طلبا کے لیے بے شک تعلیم مفت کردیں مگر کروڑوں روپے کی فیس میں امیروں کورعایت دینا بند کریں۔
حج ایک ایسی عبادت ہے جو صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے ، پوری امت مسلمہ میں اِس بات پر کوئی اختلاف نہیں ۔قران کی آیت اِس بارے میں بالکل واضح ہے :’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔‘‘(آلِ عمران ، آیت 97)۔گزشتہ برس حکومت نے حج پر سبسڈی دی ، کیوں ؟ کیا حکومت کا کام لوگوں کو حج کروانا ہے ؟یہ کام تو صاحبِ استطاعت مسلمان نے اپنی خود اپنی جیب سےکرنا ہے ۔ اِس سال جبکہ پاکستان کنگال ہونے کے قریب ہے ،حکومت کا حج پر تقریباً 300 ملین ڈالر کازر مبادلہ خرچ ہوگا جس میں سے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو کم از کم 90 ملین ڈالر ادا کرنے ہوں گے، یہ رقم اِس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔کیا آج کل کے حالات میں ہم یہ رقم خرچ کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟ حل تو یہی ہے کہ یہ خرچ بند کیا جائےاورایک سے زائد حج اور عمرے پر پابندی لگائی جائے۔ اسی طرح پی ایس ایل کروانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اُس ٹورنامنٹ پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے ، اگر وہ کرکٹ کے مقابلے نہ بھی ہوتے تو کوئی قیامت نہیں آجانی تھی، ہم فی الحال ایسی عیاشیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔حل یہی تھا کہ مقابلے منسوخ کردیے جاتے۔اب اگلی بات سنیئے۔آج سے چند ماہ پہلے تک ریاست پاکستان آٹھ سو امیر ترین خاندانوں کو ایک ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہی تھی ، یہ سبسڈی اِن خاندانوں کی فیکٹریوں کو بجلی اور گیس کے نرخ میں رعایت کرکے دی جا رہی تھی ، کئی برس سے جاری یہ سبسڈی اب بتدریج ختم کی گئی ہے ،شکر ہے ۔یہ تمام ایسے کام ہیں جنہیں صرف بند کرنے سے ہی ہمیں اربوں روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ بہت سی وزارتیں اور محکمے ہیں جو وفاق اور صوبوں دونوں میں کام کر رہے ہیں ، تعلیم، صحت، خوراک اور نہ جانے کیا الم غلم،ہر حکومت کواِن زائد وزارتوں کو ختم کرنے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے ، مگر آج تک یہ وزارتیں اور محکمے ختم نہیں ہوئے۔ہماری آبادی تئیس کروڑ کے قریب ہے ، اگر ہمارے ملک سے تیل اور سونا بھی نکل آئے تو ہم اپنی آبادی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے، ہماری آنکھوں کے سامنے لوگ ایک آٹے کے تھیلے کے لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں ، کیا بڑھتی ہوئی آبادی کا حل دو سے زائد بچے پیدا کرنے پر پابندی لگانا نہیں ؟
ایک امریکی دانشور کا قول ہے:’’ہر پیچیدہ مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے جو نہایت واضح، سادہ اوراکثر و بیشتر غلط ہوتا ہے۔‘‘یہ بات کافی حد تک درست ہے ، بظاہر جو بات سادہ لگتی ہے وہ اتنی سادہ نہیں ہوتی جس سادگی سے ہم لکھاری اسے بیان کرتے ہیں مگر وہ ایسی گمبھیر بھی نہیں ہوتی کہ اُس کا حل نہ تلاش کیا جا سکے۔بے شک ہمارے مسائل گمبھیر اور پیچیدہ ہیں مگر انوکھے نہیں ہیں، دنیا کے کئی ممالک اِن مسائل کا حل نکال کر آگے بڑھ چکے ہیں ، ہم صرف دنیا کی نقل کرکے یہ کام کرسکتے ہیں مگر اِس کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے، انگریزی میں بولے تو ’پولیٹیکل وِل‘ چاہیے، المیہ یہ ہے کہ جس کے پاس یہ طاقت ہے اُس کے پاس اہلیت نہیں اور جس کے پاس اہلیت ہے اُس کے پاس طاقت نہیں۔ اب اِس کا کیا حل ہے !
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

