یادش بخیر۔ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے ماہسا امینی نام کی ایرانی لڑکی پولیس کی تحویل میں ماری گئی ، اُسے ایران کی نام نہاد اخلاقی فورس نے حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ امینی کی موت کے بعد ایران میں کافی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے جن میں خواتین پیش پیش رہیں ، اِن مظاہروں میں عورتوں نے امینی سے اظہار یک جہتی کے طور پر اپنے حجاب اتار پھینکے جبکہ کئی خواتین نے اپنے بال کاٹنے کی ویڈیوز ریکارڈ کروا کے انٹر نیٹ پر چڑھادیں۔مغربی میڈیا نے بھی اِس معاملے کو خوب اچھالا تھا، سی این این ،بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کودیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے دنیا کے تمام مسائل حل ہوگئے ہیں اور اب فقط ایرانی عورتوں کاحجاب ہی مسئلہ رہ گیا ہے ۔اُس وقت اِن ممالک کے دانشوروں اور جامعات میں پڑھانے والے پروفیسروں نے ایرانی عورتوں کے حق میں بڑھ چڑھ کر نوحے پڑھے تھے ،اُن کا بس چلتا تو وہ اپنی حکومتوں کو مجبورکرتے کہ عراق کی طرح ایران پر بھی حملہ کرکے وہاں کے عوام کو استبدادی حکومت کے تسلط سےآزادکروائیں ۔ہم نے بھی ایک آدھ کالم لکھ کر اِس ’جہاد ‘ میں اپنا حصہ ڈال دیا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ خدا کا کرنا دیکھیے کہ ضرورت کا وقت ایک سال بعد ہی آن پہنچا ہےاور وہ یوں کہ اِن مغربی ممالک کےوہی دانشور ہیں اور وہی جامعات ہیں، مگرآج جب غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے تو انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔مغربی میڈیا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے لے کر آج تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 14 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں چھ ہزار بچے بھی شامل ہیں لیکن مغربی دانشگاہوں میں براجمان پروفیسروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔پہلے جو دانشور ایرانی عورتوں کے لیے رو رو کر ہلکان ہورہے تھےاب وہی پروفیسر چھ ہزار بچوں کی موت کو اسرائیل کے ‘حق دفاع‘ کے کھاتے میں ڈال کر اطمینان سے بیٹھے ہیں اور انتظار کررہے ہیں کہ آج سےبیس سال بعد جب لاس ویگاس میں کوئی کانفرنس ہوگی تو وہاں ‘حماس کے دہشت گردوں کے جسم پر بنے ٹیٹوؤں اور فلسطینی بچوں کے چہروں میں پوشیدہ مماثلت‘ کے موضوع پرکوئی پُر مغز قسم کا مقالہ پڑھ کر داد سمیٹ لیں گے ۔
اِس معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔فرض کریں کہ نیویارک یونیورسٹی میں لاطینی زبان کا ایک پروفیسر ہے جس کا عالمی یا مقامی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ، وہ صبح گھر سے نکلتا ہے ،یونیورسٹی جاتا ہے ، لیکچر دیتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔امریکہ عراق پر حملہ کرے یا اسرائیل غزہ پر، اُس کا کوئی موقف نہیں ، وہ بس لاطینی زبان کی جدلیاتی ساخت پر تحقیق کرتاہے یا اپنے طالب علموں کے مقالوں کی نگرانی کرتا ہے۔ایسے پروفیسر کی زندگی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، مسئلہ تب ہوگا جب یہی پروفیسر دعویٰ کرے گا کہ وہ دنیا میں ہونے والے ظلم و استبداد کے خلاف ہے اور تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہو کر نظریاتی جدو جہد کر رہا ہے،اِس جدو جہد میں وہ کبھی ایرانی عورتوں کی حمایت میں اپنے بالوں کی لَٹ کاٹ لے گا اور کبھی پاکستان کی افغان پالیسی کے خلاف اقوام متحدہ میں یاد داشت جمع کروا ئےگا۔ایسی صورت میں اِس پروفیسر کے پاس یہ آپشن نہیں ہوگا کہ جب غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے چھ ہزار بچے ہلاک ہوجائیں تو وہ منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھ جائے یا ایسی قراردار کاحصہ بن جائے جس میں فقط حماس کی دہشت گردی کا ذکر ہو یا یہودی طلبا کی دلجوئی کا عزم کیا گیا ہو۔اسے سہل سیاست کہتے ہیں جس میں ناداں سجدے میں گرجاتے ہیں جب وقت ِقیام آتا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپ کی جامعات نے غزہ کے معاملے پر بالکل چُپ سادھی ہوئی ہے ،کئی جامعات میں غزہ کے حق میں احتجاج ہوئے ہیں، ہارورڈ اِن کا سرخیل ہے مگر یہ زیادہ تر انقلابی سوچ رکھنے والے طلبا نے کیے ہیں،انتظامیہ اور پروفیسر مکمل طور پر وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کی زبان بول رہے ہیں اوریہی بے ضمیری ہے ۔
ہم لکھاریوں کا حال بھی اِن مغربی پروفیسروں سے مختلف نہیں ،ہم انتہا کی مرعوبیت کا شکار ہوچکے ہیں، جب بھی کسی مغربی ملک کی سیر کو جاتے ہیں تو واپسی پر وہاں کے صدر سے لے کر چپڑاسی تک کے یوں قصیدےلکھتے ہیں جیسے وہ سب متقی اور پرہیز گار ہیں، انسانی حقوق کے چمپئن ہیں اور انصاف کے علمبردار ہیں۔سویٹزر لینڈ سے لے کر جرمنی تک ،یورپی ممالک کی اکثریت بے شرمی اور ڈھٹائی سے غزہ میں بچوں کا قتل عام دیکھ رہی ہے مگر اسرائیل کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے۔ہاں یہ ضرور ہےکہ اِن ممالک میں صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے،کوئی گاڑی غلط پارک کرنے کی جرات نہیں کرتا، لوگ ایک دوسرے کو سارا دن مسکرا مسکرا کردیکھتے ہیں،نیدر لینڈ کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے، انجلا مرکل کے پاس تین کپڑوں کے جوڑے ہیں، برطانوی وزیر اعظم اپنا کام خودکرتا ہے اور ٹونی بلئیر بسوں میں دھکے کھاتا ہے۔یہ باتیں سُن سُن کر ہمارے تو کان پک گئے تھے، اوپر سے مغربی فلسفے ،تاریخ ، جمہوری روایات اور اخلاقیات نے ہمیں یوں متاثر کیا ہوا تھا کہ لگتا تھا یہ لوگ واقعی ہم سے برتر ہیں۔ لیکن خدا کی شان دیکھیں، اپنی آنکھوں کے سامنے ہم یہ بت پاش پاش ہوتے دیکھ رہے ہیں۔انجلا مرکل اپنے پورے دور حکومت میں بے شرمی سے اسرائیل کی جارحیت کا عذر پیش کرتی رہی ،یہی حال موجودہ جرمن چانسلر کا ہے،حال ہی میں نیدر لینڈ میں جس شخص نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے وہ اعلانیہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے اور ٹونی بلئیر تو خیر ثابت شدہ جنگی مجرم ہے ۔اسی طرح چند دن پہلے امریکی صدر اوبامہ کے ایک سابق مشیر کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ببانگ دہل ایک مسلمان دکاندار کو کہہ رہا ہے کہ فلسطین میں مرنے والے ہزاروں بچے کافی نہیں ۔اندازہ لگائیں کہ یہ بندہ امریکی انتظامیہ کا حصہ رہا ہے ، یقینا ً آج بھی اِس قسم کے خیالات کے حامل لوگ انتظامیہ کا حصہ ہوں گے مگر کیا فرق پڑتا ہے ، فرق صرف اُس وقت پڑتا اگر یہی بات کسی باریش مسلمان عہدے دار نے امریکہ یا یہودیوں کے بارے میں کی ہوتی،اُس صورت میں تو شایداب تک اُس کے ملک پر حملے کی قراردار منظور کی جا چکی ہوتی ۔
میں قطعاً یہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی بجائے مغرب پر تنقید کرکے خود کو تسلیٰ دیتے رہیں، اتنی سمجھ بوجھ تو اِس خاکسار میں ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ ہر مسئلے پر ہم خود پر ہی لعنت ملامت شروع کردیا کریں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ مسئلے کی اصل جڑ کہاں ہے۔چندسال پہلے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکرنے بہت پتے کی بات کی تھی ،ہے تو ہمارا دشمن مگر کام کی بات کوئی بھی کرےتو دہرانے میں حرج نہیں ۔ جے شنکر نے کہا تھا کہ ’یورپ کو اس ذہنیت سے باہرنکلنا ہوگا کہ یورپ کے مسائل تودنیا کے مسائل ہیں لیکن دنیا کے مسائل یورپ کے مسائل نہیں ہیں۔‘مغربی دنیاکے مائنڈ سیٹ کی اِس سے بہتر تشریح نہیں ہوسکتی،یہی مائنڈ سیٹ اصل مسئلہ ہے۔ یوکرائن کے معاملے پر امریکہ اور یورپ چاہتا ہے کہ وہاں روسی جارحیت کے خلاف سب متحد ہوجائیں ،یہ بات کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کے نمائندے کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں مگر غزہ کے بچوں کا ذکر آتا ہے تو وہی نمائندہ سپاٹ چہرے کے ساتھ جواب دیتا ہے کہ اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں۔ تو چلیے صاحب اگر اخلاقیات کا یہی پیمانہ ہے تو آئندہ کوئی مسلمانوں کو یہ طعنہ نہ دے کہ ہم جہادی اور انتہا پسند ہیں کیونکہ دنیا میں اِس وقت اگر کوئی اصل جہادی اور انتہا پسند ہے تو وہ دیدہ زیب سوٹوں اور نفیس ٹائیوں میں ملبوس پروفیسرہیں جو مغربی دانشگاہوں میں براجمان ہیں ، باریش مسلمان نہیں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

