یورپ کا ایک ملک ہے پولینڈ۔ 1980 کی دہائی میں اِس ملک کے معاشی حالات اِس قدر خراب تھے کہ حکومت کو اخراجات قابو میں رکھنےکے لیے شہریوں کی ماہانہ راشن بندی کرنی پڑتی تھی ۔قانون کی رُو سے ہر شخص ایک ماہ میں صرف پانچ سو گرام مکھن،ایک کوکنگ آئل کا پیکٹ،اڑھائی سو گرام مٹھائی، سو اکلو آٹا،اڑھائی کلو گوشت، سوا کلو چاول، دو کلو چینی،تین سو گرام کپڑے دھونے کا پاؤڈر، دوصابن کی ٹکیاں اور آدھ لیٹر ووڈکااستعمال کرسکتا تھا۔پولینڈ یہاں ایک دن میں نہیں پہنچا تھا بلکہ اِس کے پیچھے کمیونسٹ لیڈر ایڈورڈ گیرک کی معاشی پالیسیاں تھیں جنہوں نے پولینڈ کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ایڈورڈ گیرک کا ظہور ایک مقبول رہنماکے طور پرہوا ، اُس نے متعدداصلاحات متعارف کروائیں جن کی وجہ سے پولینڈ کے شہریوں کو سفر کی آزادی حاصل ہوئی تاہم اُس کے معاشی اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔گیرک حکومت کو مغربی ممالک نے بھاری قرضے فراہم کیے مگر اُس نے یہ قرضے اللے تللوں اورپُر تعیش اشیا کی درآمد میں ضائع کردیے۔بڑھتے بڑھتے اِن قرضوں کا حجم چالیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ، معیشت گرتی چلی گئی اور افراط زر آسمان کو چھونے لگا۔گو کہ 1981 میں گیرک کو پارٹی سے نکال دیا گیامگر تب تک معیشت کی تباہی کے اثرات پورے ملک میں پھیل گئے، دکانوں سے اشیائے صرف غائب ہونے لگیں اور ماہانہ راشن بندی شروع ہوگئی ۔ ایڈورڈ گیرک کی حکومت نے صرف معاشی اور داخلی اصلاحات نافذ کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ جو صنعتیں اِس دور میں لگائی گئیں وہ بھی ناکارہ ثابت ہوئیں، اِن صنعتوں کی بد انتظامی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِن میں مصنوعات تیار کرتے وقت لاگت کو قابو میں رکھنے کے بنیادی اصول کو ہی مد نظر نہیں رکھا جاتا تھا۔قصہ مختصر یہ کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، لوگوں نے کمیونسٹ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی، معاشی حالات مزید دگر گوں ہوگئے جنہیں بہتر بنانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں تھا۔احتجاجی تحریک زور پکڑنے لگی اور اُس میں مزدور، دانشور اور طلباء کی بڑی تعداد شامل ہو گئی،آئے روز احتجاج اور ہڑتالیں ہونے لگیں ، اِس تحریک کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہوگئی اورخواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لاکھوں لوگ اِس تحریک کا حصہ بن گئے۔اِن پرامن مظاہروں کے نتیجے میں لاغر کمیونسٹ حکومت مزید دباؤ میں آگئی اور یوں اِس تحریک نے پولینڈ کی تاریخ بدل دی۔ ملک میں اہم سیاسی اصلاحات نافذ کی گئیں جن کے نتیجےمیں پولینڈ میں کمیونسٹ حکمرانی کا خاتمہ اور جمہوری دور کا آغاز ہوا۔لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
کمیونزم کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو معاشی استحکام کا چیلنج درپیش تھا ،اِس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ’شاک تھراپی ‘ کی اصطلاح متعارف کروائی جس کا مطلب افراط زر کوقابو میں رکھنا اور پولینڈ میں معاشی اصلاحات نافذ کرکے معیشت کو آزاد کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت حکومت نے تنخواہیں منجمد کر دیں، اشیائے صرف کی قیمتوں کو سرکاری پابندی سے آزاد کردیا، سرکاری اداروں کو دی جانے والی رعایتیں ختم کر دیں اوربڑے پیمانے پر نجی کاروبار کی اجازت دے دی۔اِن حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں پہلے تو عوام کا بڑا دھچکا (شاک)لگا،صنعتی پیداوار اور مجموعی جی ڈی پی میں نمایاں کمی آئی ،زرعی پیداوار کم ہو گئی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگیا تاہم ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ افراط زر یعنی مہنگائی، جس کی شرح 1990 میں 250 فیصد تھی ، 2000 میں کم ہو کر 10 فیصد تک ہوگئی۔صنعتی پیداوار اور جی ڈی پی کی شرح بھی بہتر ہونا شروع ہوگئی اور 1990 سے 2000 تک اوسطاً سالانہ جی ڈی پی میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا، اِس کے علاوہ پولینڈ کی ادائیگیوں کا توازن بھی بہتر ہوا۔پولش حکومت نے ایک بڑا کام سرکاری اداروں کی نجکاری کا بھی کیا ، یہ ایک الجھا ہوا اور پُر پیچ عمل تھا، حکومت نے اِس کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر نجکاری کا ایک جامع پروگرام متعارف کروایا،اِس پروگرام کے تحت 15 قومی سرمایہ کاری فنڈقائم کیے گئے جنہوں نے اُن 500 سے زائد سرکاری اداروں کی جوائنٹ سٹاک کمپنیوں کے طور پر کام شروع کیا جن کی نجکاری کرنا مقصود تھی۔اِن کمپنیوں کے حصص معمولی قیمت پر مارکیٹ میں فروخت کے لیے رکھے گئے ، عوام نے بڑی تعداد میں یہ حصص خریدے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ حکومت کو نقد رقم مل گئی جبکہ عوام کو اُن کمپنیوں کے شئیرز کے ذریعے پولینڈ کی بڑی صنعتوں میں سرمایہ کاری کا موقع مل گیا ۔1994 سے لے کر 2001 تک ، نجکاری پروگرام کے تحت 6،800 سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل کیاگیا۔آج پولینڈ یورپ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے۔
پاکستان کی موجودہ حالت 1980 کےپولینڈ سے زیادہ خراب نہیں ہے ، بے شک ملک میں غربت ہے،مہنگائی ہے مگر افراط زر کی شرح 250فیصد نہیں ہے ،کہیں راشن بندی نہیں ہے ، ملک میں کسی شے کی قلت نہیں ہے ، لوگوں کو روز مرہ کی اشیا کے لیے طویل قطاروں میں نہیں کھڑاہونا پڑتا۔البتہ یہ بات درست ہے کہ ملک پر غیر ملکی قرضوں کا حجم اُس وقت کے پولینڈ سے زیادہ ہے،ادائیگیوں کا توازن خاصا بگڑا ہوا ہے، سرکاری کارپوریشنز معیشت کا خون چوس رہی ہیں اور ہمارا ہر بجٹ اب خسارے سے شروع ہوتا ہے۔اِن حالات میں ہم پولینڈ سے تین باتیں سیکھ سکتے ہیں ۔پہلی بات یہ کہ کسی بھی قسم کے معاشی اقدامات کرنے سے پہلے حکومت کو ’شاک تھراپی‘ کی طرح کوئی اصطلاح متعارف کرنی پڑےگی جس کے تحت اصلاحات کا جامع پروگرام نافذ کیا جائے۔یہ اِس لیے ضروری ہے تاکہ عوام اور اشرافیہ دونوں کو اندازہ ہو کہ اِس وقت business as usualنہیں ہے ،یہ غیر معمولی حالات ہیں جن میں غیر مقبول فیصلے کیے جائیں گے ۔سو، اِن حالات کے تناظر میں کوئی ایسا سلوگن یا نعرہ تخلیق کرنا ضروری ہےجو ملکی معیشت کی تصویر کشی بھی کرے اور جس میں حکومت کے پُرعزم ہونے کا تاثر بھی ملے، یہ ویسا ہی نعرہ ہوگا جیسا بِل کلنٹن کی انتخابی مہم کا تھا ’It’s the economy stupid۔‘دوسرا کام معاشی اصلاحات نافذ کرنا ہے ۔یہ کام بھی رَوا َروی میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اِس کے لیے معاشی ٹیم کو کم از کم ایک ہفتے تک سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، یہ ٹیم اُس وقت تک اپنے گھروں کو نہ جائے جب تک اصلاحات کا ایک جامع پروگرام نہ بنا لے۔ اصلاحات کے اِس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے SIFC کا فورم پہلے سے موجود ہے جہاں سرعت کے ساتھ کام ہوتا ہے، اِس فورم کی افادیت ثابت کرنے کا اِس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہوسکتا۔تیسرا کام نجکاری اور اِس کے ساتھ برآمدات میں اضافہ ہے ۔اِس وقت پاکستان کی سرکاری کارپوریشنز ایک ہزار ارب سے زائد کے خسارے میں ہیں، اصولاً یہ کماؤ پوت ہونے چاہئیں، ذرا سوچیں کہ اگر یہ ہزار ارب بجٹ سے نکلنے کی بجائے آمدن میں تبدیل ہوجائیں تو ہمارا سانس بحال ہوجائے گا ۔اسی طرح ہماری برآمدات بھی شرمناک حد تک کم ہیں ، یہ تیس ارب ڈالر سے ساٹھ ارب ڈالر ہوں گی تو ہماری معیشت کی کشتی چلے گی ، اِس سے کم میں اب گذارا نہیں ۔بے شک یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر عشاق کے لیے مشکل نہیں ۔
پولینڈ وہ ملک ہے جو دوسری جنگ عظیم کے عذاب سے گذرا، پھر وہاں کمیونسٹ حکومت رہی اور اُس کے بعد اسے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اِس لحاظ سے پولینڈ خوش قسمت بھی ہے کہ مغربی ممالک نے اُس کے بیشتر قرضے معاف بھی کردیئے جس کی وجہ سے معاشی اصلاحات کا پروگرام نافذ کرنے میں مدد ملی ۔اِس کے باوجود جن حالات کا ہمیں سامنا ہے وہ اُس سے بد تر نہیں جن سے پولینڈ کو گذرنا پڑا،اگر پولینڈ یہ سب کچھ کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں ؟
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

