کالملکھارییاسر پیرزادہ

سو جوتے، سو پیاز کھانے کی ’’خوشی‘‘ ۔۔ یاسر پیرزاد ہ

ہم لوگ بھی عجیب ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، حال چال پوچھتے ہیں اور جواب میں کہتے ہیں کہ ہم بالکل ٹھیک ہیں، لیکن جونہی گفتگو آگے بڑھتی ہے تو ہم اپنی تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیتے ہیں، خاندان کی پریشانیوں کا احوال بتانے لگ جاتے ہیں، کاروبار کے بکھیڑے سنانے شروع کر دیتے ہیں اوردوستوں سے شکایتوں کا دفترکھول دیتے ہیں۔ اِس قسم کی گفتگو کے دوران اگر کوئی یہ کہہ دے کہ اِس کا مطلب ہوا کہ آپ اپنی زندگی میں خوش نہیں تو ہم فوراً پینترا بدل لیں گے اور بات یوں گھمائیں گے کہ الحمد اللہ میں تو بہت خوش ہوں، میرا بچہ ہمیشہ اول آتا ہے (نہ جانے کیوں آج کل اسکولوں میں ہر بچہ ہی پوزیشن لیتا ہے)، میری حال ہی میں ترقی ہوئی ہے، والدین کو حج پر بھیج رہا ہوں، بہن کی منگنی کر دی ہے، بیوی نے آن لائن کاروبار شروع کر دیا ہے وغیرہ۔ اب بندہ پوچھے کہ پہلے جو شام غریباں برپا کر رہے تھے اُس پر افسوس کروں یا ِبعد میں جو کامیابیاں گنوائیں اُن پر خوشی کا اظہار کروں !
کون خوش ہے اور کون نہیں، اِس بات کا تعین کرنا بہت مشکل ہے، لوگوں کی مادی ترقی کا اشاریہ تو بنایا جا سکتا ہے مگر خوشی کا کوئی ایسا اشاریہ بنانا جس پر لوگوں کو پرکھ کر نتیجہ نکالا جا سکے کہ کون اپنی زندگی میں مسروراور شاداں ہے، تقریباً نا ممکن کام ہے، اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی رویے تبدیل ہوتے رہتے ہیں ہے لہذا کوئی ایسا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا جو انسانوں کو چیک کر کے بتا سکے کہ اِن دس بندوں میں سے فلاں فلاں اپنی زندگی میں مطمئن ہے اور فلاں مایوس ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں البتہ ایک عالمی اشاریہ مرتب کیا گیا ہے جس میں دنیا کے ممالک کی درجہ بندی اُن کے شہریوں کی خوشی کے مطابق کی گئی ہے مگر یہ اشاریہ خاص وقت میں کسی فرد کی اپنی ذاتی خوشی کی کیفیت کو ریکارڈ کرکے بنایا گیا ہے اِس سے انسانی خوشی ماپنے کا کوئی مستقل کلیہ نہیں بنایا جا سکا۔
اسی طر ح اکثر یہ اعداد و شمار پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں خود کشی کی شرح غریب ممالک کی نسبت زیادہ ہے سو یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ غریب ممالک میں لوگ زیادہ خوش ہیں۔ خوشی ماپنے کا یہ پیمانہ درست نہیں کیونکہ خود کشی ایک انتہائی اقدام ہے اورکسی بھی انتہائی اقدام کو بنیاد بناکر عمومی سطح پر نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے، مثلاً یہ عین ممکن ہے کہ کسی ملک کی بیس فیصد آبادی مایوسی کا شکار ہو مگر اُن میں سے کوئی بھی خود کشی نہ کرے اور دوسری طرف کوئی معاشرہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جہاں فقط ایک فیصد آبادی زندگی سے نا خوش ہو مگر ہر سال دس ہزار لوگ خوکشی کریں۔ انسان خود کشی تب کرتا ہے جب اُ س کی توقعات اور کامیابیو ں کے درمیان ناقابل عبور خلیج حائل ہو جائے، غریب ممالک میں لوگوں کی توقعات کی سطح حالات کی وجہ سے از خود نیچے آ جاتی ہے، سو ایسے میں صاف پانی کا حصول، بچے کا اسکول میں داخلہ، بوڑھے والدین کا سرکاری اسپتال میں علاج ہی بہت بڑ ی کامیابی لگتا ہے، سو جب توقعات کم ہوں تو اہداف کا حصول نسبتاً آسان ہو جاتا ہے لہذا خود کشی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
اب کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ خوشی کو صحت کے ساتھ ماپا جا سکتا ہے، یعنی خوشی ماپنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صحت مند ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ خوش ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی دولت یا کامیابی کا کوئی بھی امکان کسی ایسے شخص کے لیے بے معنی ہے جسے صحت مند زندگی میسر نہیں۔ یہ بات اِس حد تک درست ہے کہ صحت زندگی کے لیے بنیادی شرط ہے، صحت مند ہونا خوش رہنے کے لیے ضروری ہے مگر صحت مند ہونے کا احساس انسان کو روزانہ کی بنیاد پر خوشی فراہم نہیں کرتا۔ دیکھا جائے تو کوئی بھی ایسی چیز جسے آپ ایک مرتبہ حاصل کر کے خوشی کشید کر چکے ہوں تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی خوشی میں کمی آ جاتی ہے، مثلاً بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اُس روز ماں باپ کی خوشی دیدنی ہوتی ہے مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ خوشی اُس سطح پر برقرار نہیں رہتی جو اُس کی پیدائش کے پہلے گھنٹے میں تھی۔
خوشی کی کیفیت کو ہم تین طریقوں سے پہچان سکتے ہیں، پہلا، کسی بھی قسم کی تکلیف نا ہونا خوشی کی علامت ہے ہے، مثلاً اگر کسی کی کمر میں مستقل تکلیف رہتی ہے، کسی کا بچہ نا فرمانی کرتا ہے، کسی کے والدین بیمار ہیں یا کسی کا محبوب روٹھ گیا ہے تو یہ سب تکلیف دہ باتیں ہیں جو خوشی کے احساس کو کم کر دیتی ہیں، تکلیف ذہنی بھی ہو سکتی ہے اور جسمانی بھی، ذاتی بھی ہو سکتی ہے اور اجتماعی بھی، سو زندگی میں جس قدر تکلیف زیادہ خوشی کم ہوگی۔ ۔ خوشی کا دوسرا پیمانہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں موجود اُن امکانات کا تعین کریں جو آپ کو مرضی کی زندگی گذارنے میں مدد دیتے ہیں، مطلب یہ کہ اگر آپ کو خواہشات کی تکمیل میں مشکل پیش نہیں آتی اور آپ من پسند زندگی گذار رہے ہیں تو پھر آپ مسرور ہیں، گویا خوشی اُس صلاحیت سے کشید کی جاتی ہے جس کی بنیاد پرکوئی شخص زندگی کا فیصلہ آزادانہ اور اپنی خواہش کے مطابق کر سکتا ہے، ہمارے پاس مرضی کی زندگی گذارنے کا اختیار جتنا زیادہ ہوتا ہے، خوشی بھی ہمیں اتنی ہی حاصل ہوتی ہے۔
خوشی ماپنے کا تیسرا طریقہ کامیابی کا احساس ہے، اپنے متعین کردہ مقصد کو پانے سے بھی خوشی حاصل ہوتی ہے، جب کوئی شخص اپنے لیے کوئی ہدف مقرر کرتا ہے تو اس ہدف کے حصول کو پانے سے وہ خود کو کامیاب محسوس کرتا ہے سو کامیابی کا یہ احساس ہی خوشی کا باعث بنتا ہے۔ یہ ہدف کچھ بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کوئی شخص اپنی دکان کی بکری بڑھانے کو کامیابی سمجھ کر خوش ہو سکتا ہے اور کوئی شخص اِس بات پر مسرور ہو سکتا ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کی آگاہی بڑھ رہی ہے جس سے زمین کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔
یہ ضروری نہیں کہ انسان کسی انفرادی ہدف کے حصول سے ہی خوشی حاصل کرے، بعض اوقات اجتماعی ہدف کا حصول بھی خوشی کا باعث بنتا ہے اور کبھی کبھی اُس نظریے کی شکست مایوسی کا سبب بنتی ہے جس کی آپ نے حمایت کی ہو۔ دراصل انسانوں اور جانوروں میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ انسان اپنے کنبے سے باہر لوگوں کے بارے میں بھی فکر مند ہوتا ہے اور ایک اجتماعی فلاح اُس کے پیش نظر ہوتی ہے، جو انسان اِس سوچ سے عاری ہو اُس میں اور جنگل کے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔
ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہم انفرادی خوشی کے لیے تو سر پیر مارتے ہیں مگر اجتماعی خوشی کے حصول کے لیے چاہتے ہیں کہ یہ کام ہمارے لیے کوئی اور شخص کرے، مثلاً ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو مگر جب اِس کام کے لیے عملاً کچھ کرنے کا موقع آتا ہے تو اُس وقت ہم بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور سر جھکا کر رکوع بلکہ سجدے میں گر جاتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حصے کی جدو جہد کوئی نڈر صحافی کرے اور ہمارے جمہوری بیانیے کو پہناوا کوئی سچا کھرا جج پہنا دے، ہمیں کوئی کام کرنا نہ پڑے اور بادل نخواستہ اگر کسی مرحلے پرکچھ کرنا پڑ ہی جائے تو پھر ہم سے کسی قسم کی حریت پسندی کی امید نہ رکھی جائے، ہم وہ ہیں جو سو جوتے بھی کھاتے ہیں او ر سو پیاز اور پھر اِس سٹریٹیجی پر ماتم بھی کرتے ہیں کہ خوشی کیوں نہیں مل رہی !

( بشکریہ :ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker