ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

سرچشمہءمسرت ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

بارش کے بعد دُھلا ہوا نیا کنچ آسمان تھا۔ بہار کی خوشگوار دوپہر تھی میں ، مابعد الطبیعیات کے مسائل پڑھ کر موجود میں گم تھی۔ مگر کچھ گزرے ہوئے اپنوں کی ارواح ضرور میرے ساتھ ساتھ تھیں ، میں اس قدر اپنے آپ میں گم تھی کہ مجھے اپنے سے ماوراءکا شدید احساس ہورہا تھا۔ فضا میں سکوت آفریں بول چال بھی تھی۔ نیلے آسمان پر سفید رُوئی کے گالے تیر رہے تھے۔ سدابہار کے گلابی پھول مسکرا رہے تھے ، پتے ہرے اور آنکھوں میں کُھب رہے تھے۔ ہوا چلنے لگی تھی۔ سامنے کے احاطے میں لگا بلند و بالا نیم کا درخت عجیب سرشاری میں جھومنے لگا تھا …. اِدھر اور اُدھر …. میرا وجود بھی ڈول رہا تھا ،اندر اور باہر …. آنکھوں میں شدید آنسو تھے۔ مگر روح میں ایک گہرا اطمینان …. میں اس کیفیت کو کیا نام دے سکتی ہوں؟
اور وہ ایک تاریک رات تھی دل اندیشوں میں ڈُوبا جارہا تھا ،کہیں دور بارش ہوئی ہوگی۔ مجھے اُفق پر لہراتی ہوئی برق کی لکیریں نظر آرہی تھیں۔ ہر مرتبہ ایک تیر کمان سے نکلتا اور آنکھوں سے جگر تک اُتر جاتا۔ وہ آسمانی بجلی تھی مگر ڈرا نہیں رہی تھی۔ اس کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی ، لیکن ہر دفعہ ایک جھماکا سا آنکھوں کو خیرہ کر جاتا …. آہستہ آہستہ دل اندیشوں سے باہر نکل آیا اور میرے ہمراہ آسمان کے کناروں کو چھونے لگا ، یکایک کوئی انجانا پرندہ چیختا ہوا بیچ آسمان سے گزر گیا۔ اب طبیعت بحال ہوچکی تھی اور میں مطمئن ہو کر ٹہلنے لگی۔ یہ کون سے اندیشے اور کیسی بحالی تھی؟ میں نے بچپنے سے ہی چاند کو بارہا دیکھا تھا۔ کبھی دستی پنکھے کی جھریوں سے ، کبھی سامنے لگے جامن کے درخت کے پتوں میں کبھی آدھی رات کو اپنے اوپر جھکے ہوئے ، کبھی ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ، کبھی پچھلی رات کو افسردگی اور پیلاہٹ میں ، جدا ہوتے ہوئے …. لیکن پھر بھی ایک شام ایسی تھی کہ جو چاند کے نام کی تھی۔ جُھٹ پٹے کا وقت نکل چُکا تھا جب اچانک میری نظر سامنے مشرقی آسمان کے کناروں سے طلوع ہوتے ہوئے چودھویں کے چاند پر پڑی …. اُف میرے خُدا…. کیا منظر تھا۔ ایک سنہری چاندنی کا سا تھال آہستہ آہستہ سیاہی مائل آسمان پر اُبھرتا ہی چلا آرہا تھا ،ایک جادو کی چھڑی من پر پھر چکی تھی میں تو کہیں بھی نہیں تھی۔ وہاں تو صرف بڑا سا چاندی کا تھال تھا ۔ جو سنہرا بھی تھا اور جادوئی بھی …. وہ جادو کہاں سے پھوٹ رہا تھا ،یہ سوال بغیر جواب کے رہ گیا ، لیکن اتنا یاد ہے کہ اُس شام میں نے چاند کو اتنے تحیر سے دیکھا کہ چاند خود مجھے دیکھتا رہ گیا۔
کشمیر کے پہاڑی گاﺅں میں موسلا دھار بارش کے بعد آسمان صاف ستھرا ہوچکا تھا۔ بجلی تو اب شہروں میں بھی نایاب تھی وہ تو پہاڑی گاﺅں تھا۔ ہر طرف سیاہ رات کی حکمرانی تھی۔ سیاہی میں ہی سفیدی اُجاگر ہوتی ہے …. جُوں جُوں اندھیرا بڑھنے لگا ، تُوں تُوں ستارے جگمگانا شروع ہوئے ،اور ایک وقت ایسا آیا کہ ستارے بڑے بڑے نگینوں کی مانند اتنے نزدیک چلے آئے کہ ہاتھ بڑھا کر چھو لیا جائے۔ کیا سحر انگیز رات تھی جیسے کسی نے بڑے بڑے جھلملاتے ، موتیوں ، نگینوں ، ہیروں ، جوہرات سے بھرا جڑاﺅ آنچل میرے سر پر ڈال دیا تھا۔ وہ بھی ایک رات تھی مگر شہر کی برقی قمقموں سے روشن رات ، ہم ایک بڑے کمپنی باغ میں گھوم پھر رہے تھے۔ جولائی ، اگست کے حبس زدہ موسم میں ، سبزے اور پھولوں کی کیاریاں دل کو تسلی دے رہی تھیں ،چمن کے کیفے میں پیلے بلب روشن تھے ، لیکن کہیں کہیں بڑے بڑے قد آور درختوں کے نیچے اندھیرا سا بھی تھا۔ چلتے چلتے ایسے ہی کسی تاریک سے گوشے پر میری نظر پڑی …. سینکڑوں جگنو اُڑتے پھر رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے اُڑتے ہوئے چراغ آنکھوں میں بسے رہ گئے۔ وہ جگنو آج بھی میرے ساتھ ہیں …. ہر تاریک گوشے میں یہ چراغ مجھے راہ دکھاتے ہیں۔
سہ پہر کا وقت تھا۔ گرم ترین دن کے بعد گھٹا ٹُوٹ کر آئی تھی اور چھاجوں پانی برس رہا تھا ،میں چھت کی برساتی میں بیٹھی یہ منظر دیکھے ہی چلی جارہی تھی۔ آسمان سے زمین تک پانی کا ایک تار بندھا ہوا تھا …. درختوں کا سبزہ نکھر رہا تھا۔ کلیاں ، پھول ہنس رہے تھے ،میری آنکھیں لگا تار ہوتی بارش کو دیکھ دیکھ کر تھک چُکی تھیں لیکن میرا دل آسمان ،زمین کے بیچ پانی کے تار میں کہیں اٹک سا گیا تھا …….. وہ کیسی بارش تھی؟
رات کو صحن میں سوتے ہوئے اچانک آنکھ کھلی …. سامنے کی دیوار پر چنبیلی کی بیل پھیلی ہوئی تھی اور اُس پر جوبن کا عالم تھا …. اس قدر پھول تھے کہ پتے چُھپ گئے تھے ، نیند آنکھوں سے اُڑ چکی تھی صرف چنبیلی کے سفید پھول ،مدھر خوشبو بکھیرتے ہوئے مسکرائے جارہے تھے مجھے سوتے سے اُٹھا کر ان خوش مذاق پھولوں کو کیا ملا؟ سوائے اس کے کہ آج تک وہ پھول میری یادوں میں آویزاں ہیں۔ چنبیلی کے اُن مسکراتے ہوئے پھولوں پر کبھی خزاں نہیں آئی …. وہ آج بھی مسکراتے ہوئے تروتازہ ہیں۔ گلاب تو ہزاروں ،لاکھوں دیکھے ہوں گے لیکن ایک گلاب ایسا دیکھا جس نے میرے دل کا خون کردیا ، کشمیر کے گاﺅں بٹنگی کا وہ پہاڑی علاقہ تھا جہاں سرما میں پانچ پانچ فٹ برف پڑتی ہے …. ریسٹ ہاﺅس کے احاطے میں پہاڑ کی جڑ میں ایک نرم و نازک گلاب کا پودا لگا تھا۔ پتہ چلا یہ ایسا گلاب ہے جو گرمی ، سردی ، تروتازہ ہی رہتا ہے …. حتیٰ کہ برف میں بھی اسی توانائی کے ساتھ پھول کھلا رہتا ہے۔
اُس گلاب کا تعلق شاید وفا کے ناحیے سے جُڑا تھا …. میں دم بخود رہ گئی …. اتنی لطافت نزاکت کے ساتھ موسموں کی سختی جھیلتا ہوا وہ انوکھا گلاب تھا۔
میرے چھٹپن کا زمانہ تھا جب ہم ایبٹ آباد کی شملہ پہاڑی پر پیدل چڑھائی کررہے تھے۔ میں تو تقریباً بھاگ ہی رہی تھی۔ پہاڑی کی بلندی بارہ سو فٹ بتائی گئی تھی اوپر پہاڑی پر پہنچ کر زمین ہموار ہوگئی تھی …. وہاں ہواﺅں کا شور کانوں میں شائیں شائیں کررہا تھا …. واپسی میں بھی میں بھاگتی دوڑتی نیچے اُتر آئی۔ بھائی جان میرے ہمراہ اور امی پاپا پیچھے تھے۔ نیچے پہنچ کر پاپا ، امی نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسی پہاڑی گِپھا دیکھی تھی ، جہاں لاتعداد سانپ پڑے ہوئے تھے …….. مگر وہ بھی کیا دن تھے …. نہ خوف نہ ڈر بلکہ سڑک پر کھڑے پیسٹری والے سے پیسٹری لے کر کھانے میں لذت محسوس ہورہی تھی …. وہ پیسٹری والا جو سائیکل پر ٹین کے بکسے میں پیسٹریاں بیچ رہا تھا …. وہ تو مجھے کبھی نہیں بھولا۔ ایسے ہی دن تھے جب مری کے مُشک پوری ریسٹ ہاﺅس میں لان کے سبزے پر بادل اتر آئے …. میری حیرانی بے حساب تھی ، پھر وہ بادل کھڑکیوں ، دروازوں سے اندر کمروں میں بھی سما گئے …. میں خوشی اور حیرت سے ناچ رہی تھی ، ملتان میں پیدا ہونے والی بچی کیلئے بادلوں سے یہ پہلی ملاقات اچھوتی تھی وہ بچی جس کے والدین یوپی کی موسلا دھار بارشوں میں وقت گزار کر اب صحرا نشین تھے …. جن کی آنکھیں آسمان پر بادل کے ایک ٹکڑے کو ترسا کرتی تھیں۔ اُس بچی کو بادلوں نے اپنی آغوش میں بھر لیا تھا کیا سہانی ملاقات تھی …. ایسی تو کسی سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔
شفق پھولنے کا ذکر بہت دفعہ پڑھا تھا ،لیکن ایک دن اسلام آباد کے ٹیرس پر بیٹھے ہوئے اس شفق کو میں دیکھتی ہی رہ گئی۔ سامنے کی مسجد کی دیوار کے پرے سورج اتر گیا تھا۔ سرمئی دھندلکا آسمان پر چھانے لگا۔ ایک آدھ تارا بھی اِدھر اُدھر نظر آیا۔ یکایک مغرب کی سمت گُلنار بن گئی اور مشرقی سمت یعنی ہمارے گھر کے در و دیوار پر اُجالا تھا ایک آسمانی دودھیا روشنی میں سارا مشرق نہا تھا …. اور مغرب سُرخ انگاروں کی طرح دہک رہا تھا …. آنکھیں اُجالے میں دُھل گئی تھیں۔ بینائی تازہ دم ہوگئی تھی …. کیا اسی کو شفق پھوٹنا کہتے ہیں؟
لڑکپن کی گرمیوں میں رات کے وقت میں چھت پر لیٹی ہوئی تھی۔ کہیں دور سے ریڈیو پر کسی گیت کی آواز گونج رہی تھی ”نہ یہ چاند ہوگا نہ تارے رہیں گے ،مگر ہم ہمیشہ تمہارے رہیں گے“ وہ ہیمنت کمار کی آواز تھی۔ موسیقی کی تشریح میں نہیں کرسکتی مگر اس دُھن اور ان سُروں میں بہ یک وقت عدم اور وجود کا تاثر موجود تھا۔ گیت کے بول اور موسیقی کا اتار چڑھاﺅ ایک دوسرے کے ہم نوا تھے …. وہ رات ،گیت اور دُھن میں کبھی نہیں بھولی بیک وقت فنا کا خوف اور ہمیشگی کا خواب روح میں اُتر گیا۔بے خواب آنکھوں پر امکان نے پُرسکون نیند کی تھپکی دی اور میں سو گئی۔
مارچ کے دنوں میں جب ملتان میں بھی خوشگواری کا احساس بڑھ جاتا ہے …. ابر بہار بھی کبھی مہربان ہوجاتا ہے اور پھاگن اپنے رنگ دکھاتی ہے ،ایک شام مالٹے کے درخت سے خوشبو کے ایسے مرغولے اُٹھے کہ میری روح میرے جسم سے علیحدہ ہو کر مالٹے کے درخت سے لپٹ گئی ،وہ درخت جو سفید کلیوں سے گجگجا رہا تھا …. وہ کلیاں جو پورا مدھ بن میرے صحن میں اُتار لائی تھیں وہ مدھ بن جو کھٹی میٹھی مُدھر ، مست خوشبو لُٹا رہا تھا …. وہ خوشبو جس نے مجھے ،مجھ سے چھین لیا تھا۔ آہ کیا خوشبو تھی ، سانسوں میں بسی رہ گئی اب پلٹ کر ایک طویل طویل زندگی پر جب نظر ڈالی ہے تو یہی چند مٹھی بھر مناظر ہاتھ آئے ہیں جو شاید زندگی بھر میرے ساتھ رہے ہیں۔ یہ مناظر اور ان سے جُڑے احساسات میرے لیے سرچشمہءمسرت ہیں۔ سچ تو یہ ہے میں فطرت کی احسان مند ہوں ،جس نے ہمیشہ میری انگلی تھامے رکھی اور مجھے ہر برے بھلے سے بچائے رکھا کسی زشت و خوب پر میری نظر ہی نہ پڑی ،سخت سے سخت وقت اور کڑے سے کڑے امتحان میں فطرت نے میرے دل کے بہلانے کو کیسے کیے سامان مہیا کیے اور مجھے ہمیشہ خود سے پیار کرنے پر آمادہ بھی رکھا۔

( بشکریہ :اجراءـ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker