زعیم ارشدلکھاریمزاح

زعیم ارشدکا کالم: چوہے دان

ایک چوہے کو ہواؤں میں اڑنے کا بہت شوق تھا، وہ اکثر پرندوں کو حسرت بھری نظروں سے فضاؤں میں ادھر ادھر اڑتا دیکھتا رہتا تھا اور دل ہی دل میں سوچتا تھا کہ اے کاش وہ بھی پرندوں کی طرح نیلگوں آسمان میں اڑان بھر سکے، ایک دن وہ ان ہی خیالوں میں گم بے دھیانی میں کھلے آ سمان تلے آبیٹھا اور لگا دیکھنے ایک چڑیا کی اٹکھیلیاں، وہ اسے دیکھنے میں اتنا گم تھا کہ سر پر منڈلاتے خطرے کو بھی نہ بھانپ سکا، اچانک اس کو محسوس ہوا کہ وہ ہوا میں اڑ رہا ہے ، پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا کہ اس کی خواہش پوری ہوگئی ہے، مگر جب پسلیوں پر شدید ترین چبھن اور دباﺅ محسوس ہوا تو حواس ٹھکانے آگئے، وہ واقعی ہوا میں اڑ رہا تھا، مگر اسے اس کی غائب دماغی کے دوران ایک چیل نے لپک لیا تھا اور یہ اس کے پنجوں کے دباؤکی تکلیف تھی جو وہ اپنے دل تک میں اترتی محسوس کر رہا تھا، جلد ہی ہوا میں اڑنے کا سہانا سپنا چکنا چور ہوگیا اور حقیقت ایک بھیانک شکل میں سامنے آکھڑی ہوئی، وہ بڑی مشکل میں پھنس چکا تھا، مگر اب کیا ہوسکتا تھا، اب چوہے میاں لگے چیل کی منتیں کرنے کہ وہ اسے واپس زمین پر اتار دے تو چیل نے کہا کہ میاں جس طرح کسی دولہے کا کنوارہ پن نہیں لوٹایا جاسکتا اسی طرح اب تمہیں زمین پر نہیں اتارا جاسکتا۔ چوہے نے بڑی التجائیں کیں مگر چیل کہاں ماننے والی تھی بالکل چندو کی بیوی کی طرح جس نے چندو کی زندگی کو چیل کے پنجوں میں پجنسے چوہے کی زندگی سے بھی زیادہ مشکل بنا کر رکھ دیا تھا۔
دوستو وہ بھی کیا سہانے دن تھے جب چندو اس چوہے کی طرح ایک آزاد انسان تھا، جب جہاں جی چاہتا تھا چلا جاتا تھا، جو دل کرتا تھا کھاتا تھا اور جو دل کرتا تھا پہن لیتا تھا، سب سے بڑھ کر ہر وقت اس چوہے کی طرح اپنے خیالوں میں مگن رہتا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ چندو شادی کے رنگین خیالوں میں مست رہتا تھا۔ وہ جوں ہی کسی شادی شدہ جوڑے کو دیکھتا، تو جھٹ سے خیالوں ہی خیالوں میں مرد کو ایک طرف کرکے خود کو اس کی جکہ فٹ کرلیتا اور یوں دیر تک شادی شدہ زندگی کے حسین و لفریب سپنوں میں کھویا رہتا، یہ خیالات اسے دیر تک گدگداتے رہتے اور وہ دنیا سے بے خبر بس اپنے آپ میں کھویا رہتا، اب تک زندگی بڑے مزے سے گزر رہی تھی ، ہر طرح کی آزادی تھی اور میٹھے میٹھے سپنوں کی فراوانی تھی۔
لوگ چندو کی ذہنی حالت کو بخوبی جانتے تھے اور وہ جب بھی چندو کو اس کیفیت میں پاتے تو اسے سمجھانے کی کوشش کرتے کہ بھائی یہ وہ لڈو ہے جو کھائے پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے، تو وہ سامنے سے گزرتے جوڑے کو دیکھ کر رشک بھرے انداز میں کہتا کہ ارے نادانو تم کیا جانو، جوڑے کیا ہوتے ہیں، دیکھو کیا زبردست جوڑا ہے، لوگ اسے بہت سمجھانے کی کوشش کرتے کہ بھائی دنیا میں زبردست جوڑا صرف موزوں کا ہی ہوسکتا ہے، ورنہ باقی جوڑوں کو تو زبردستی یا مجبوری نے جوڑ رکھا ہوتا ہے، مگر چندو کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا اس کے سر پر تو بس شادی شدہ جوڑے کا بھوت سوار رہتا تھا۔ لوگ اسے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے کہ میاں اس آزادی کو غنیمت جانو، صحت ہے تو دنیا کے مزے لوٹو، ورنہ جوڑوں کا درد تو صرف جوڑے ہی جانتے ہیں۔ مگر جوڑی بنانے کا جنون چندو کے سر چڑھ کر بول رہا تھا، اور اس کی حالت کرکٹ کے اس کھلاڑی جیسی ہوگئی تھی جو نناوے رنز پر کھیل رہا ہو اور اعتماد آسمان سے باتیں کر رہا ہو کہ اچانک ایک عمدہ بال اس کے سارے اعتماد کو مٹی میں ملا دے۔ اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی کہ چندو ابھی رنگین و سنگین سپنوں کا راہی ہی تھا کہ کسی نے چندو کو بھی میاں چوہے کی طرح لپک لیا، شروع شروع میں تو چندو بھائی کو بھی ایسا ہی لگا کہ وہ رنگین فضاﺅں میں کہیں دور اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں، مگر سیانے کہتے ہیں نا کہ ہر سپنے کی تعبیر خوشگوار نہیں ہوتی۔ لہذا جب تک وہ یہ جان پائے کہ عمر قید ہوچکی ہے اور حادثاتی شادی کے مضمرات سمجھ پاتے بیوی انہیں بہت اونچائی پر لے اڑی تھی، اور اب حالت یہ تھی کہ نہ نگلے چین نہ اگلے چین۔ لوگ سمجھاتے رہ گئے کہ میاں کھا کھیل لو، شادی بھی کرلینا ابھی تو عمر پڑی ہے مگر چندو کو تو جیسے شادی کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ بس پھر کیا تھا کھلی جو آنکھ تو بدلا ہوا زمانہ تھا کہ مصداق زندگی یکسر بدل چکی تھی۔ اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت۔ اور چندو کا تو پورا کا پورا کھیت کھلیان سب ہی کچھ چگا جا چکا تھا۔
بہت دن تک مارکیٹ میں شارٹ رہنے کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ چندو ایک با پھر چوک میں اپنی مخصوص جگہ پر موجود ہے۔ آج پھر سے وہی پرانا چندو لوٹ آیا تھا، وہی شوخی و شرارت بھرا انداز وہی بات بات پر کھلکھلا کر ہنسنا، مگر لوگوں نے محسوس کیا کہ اس کے دونوں ہونٹ بری طرح جلے ہوئے ہیں ۔ لوگوں نے پوچھا کہ ارے چندو بھائی یہ کیا ہوا، یہ آپ کے ہونٹ کیسے جل گئے، بڑے جذب کے عالم میں جواب دیا کہ بھائیو آج اتنے لمبے عرصے بعد بیوی پہلی بار میکے گئی ہے، اسٹیشن ریل میں بٹھانے گیا تھا، مارے خوشی کہ انجن چوم لیا۔ مگر چندو کی خوشی دیرپا ثابت نہ ہوئی ، لوگوں نے دیکھا کہ وہ سر پر پٹی باندھے جلدی جلدی جارہا ہے۔ لوگوں ایک بار پھر دریافت کیا کہ چندو بھائی یہ کیا ہوا، فرمانے لگے کہ بھائیو میری بیوی مجھ سے بے انتہا محبت کرتی ہے دو ہی دن میں لوٹ کر واپس آگئی۔ اور مارے محبت کے مجھے پھول کھینچ مارا، ارے بھائی یہ پھول سے سر کیسے پھٹ گیا، تو فرمانے لگے کہ یار مارے محبت انہوں نے پھول گملے سمیت ہی دے مارا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ چندو کے سر کی پٹی روز تازہ ہو جاتی ہے، ابھی لوگ اسی شش و پنج میں تھے کہ آخر یہ کیسا زخم ہے جو اتنے دن کے بعد بھی بھر نہیں پا رہا، تو کچھ لوگ کہتے تھے کہ بھائی پیار کا زخم ہے یہ آسانی سے نہیں بھرے گا، کہ ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ وہ موچی کے سامنے ایسے سر جھکائے بیٹھا ہے جیسے لوگ نائی کے سامنے بال کٹاتے وقت بیٹھتے ہیں، کسی نے پوچھا تو کہنے لگے کہ بھائی روز روز کے سر پھٹنے سے اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ ڈاکٹر نے ٹانکے لگانے سے ہی انکار کردیا ہے، تو موچی سے ٹانکے لگوا رہا ہوں۔ جلد ہی چندو کی سمجھ میں آگیا کہ بچے اپنے اور بیوی دوسرے کی کیوں اچھی لگتی ہے۔ اس چکر میں وہ اندرونی و بیرونی دونوں طرح کے تشدد کا یکساں شکار رہتا تھا مگر عجیب ٹھرکی مرد ناداں تھا کہ نہ اپنی روش بدلتا تھا نہ طریقہ، بس یہ کہتا رہتا تھا کہ دل ہے کہ مانتا نہیں۔
چندو نے جس جذبے اور شوق کے ساتھ شادی رچائی تھی اس کے عمومی نتائج آنا شروع ہوگئے تھے۔ بیوی کے مسلسل تشدد اور سخت روئیے کی وجہ سے وہ ڈھیلا ڈھالا چندو اب کمانڈو جیسا سخت جان اور نڈر فولادی قوت برداشت والا شخص بنتا جا رہا تھا۔ جو لوگ آج تک اس کی باؤلی بنایا کرتے تھے اب چندو کے ہاتھوں باؤلے ہوئے پھرتے تھے۔ وہ بلاتکلف جس کی چاہتا تھا پھینٹی چڑھا دیتا تھا، چندو نے شادی تو اس لئے کی تھی کہ تابعدار بیوی ملے گی مگر چونکہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہوگیا تھا لہذا بیوی کی تابعداری کر کر کے طبیعت میں وہ نکھا آیا کہ ایک کے بعد ایک عمدہ سے عمدہ نوکری ملتی چلی گئی اور اس کے باس اسکی تابعداری کے گرویدہ ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے اس کی مارکیٹ ویلیو آسمان کو چھونے لگی۔ ہوتے ہوتے شہرت بڑے بڑے دفاتر تک جاپہنچی اور وہ نہایت تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ایک اچھے عہدے تک جاپہنچا، اکثر وہ بڑے پیار اور فخر سے اپنی بیوی کیلئے کہتا تھا کہ ، آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے، تو لگتا ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو کی تم بخار بن کے، مگر وہ قسم کھا کر کہتا تھا کہ وہ بہار ہی کہہ رہا تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker