اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ایک بار کسی نے مجھ سے معلوم کیا کہ مومن اور مسلمان میں کیا فرق ہے؟ میں بہت کوشش کے باوجود صحیح جواب نہ دے سکا، مگر اس فکر میں لگ گیا کہ صحیح جواب حاصل کر سکوں ، لہذا میں لوگوں سے یہ سوال کیا کرتا تھا مگر کوئی بھی اطمینان بخش جواب نہ دے سکا تھا، کہ ایک روز دوران سفر دیکھا کہ ایک دیہاتی بوڑھا بابا درخت کے نیچے گنّے کا رس بیچ رہا ہے، گرمی تھی میں نے سوچا کہ چلو گنّے کا جوس پیتے ہیں، جتنی دیر میں بابا تازہ جوس نکال رہا تھا میں بابا کی حرکات و سکنات کو بغور دیکھ رہا تھا، مجھے ان میں ایک خاص بردباری اور سلیقہ نظر آیا، میں نے یونہی وقت گزاری کے لئے یہی سوال باباجی سے بھی پوچھ لیا، اور جواب سن کر میرے ہوش ہی اڑ گئے، اتنا مناسب، اتنا جامع اور اتنا عمدہ جواب مجھے آج تک کسی انتہائی اعلی تعلیم یافتہ شخص نے بھی نہیں دیا تھا۔ باباجی نے کہا کہ پتر جو اللہ کو مانتا ہے وہ تو مسلمان ہے اور جو اللہ کی مانتا ہے وہ مومن ہے۔ اگر ہم اپنے اردگر نگاہ دوڑائیں تو اکثریت مسلمانوں کی ہی نظر آئے گی۔
دنیا میں جتنے بھی مذاہب موجود ہیں کم و بیش ان سب کا بنیادی پیغام ایک ہی ہے جس میں اچھے کام کرنے یا نیکی کا حکم اور برائی سے روکا گیا ہے۔ نیکی اور بدی کا دنیا بھر میں بنیادی تصور بھی ایک ہی ہے، مذہب کے حوالے سے دنیا کے مختلف خطوں میں لوگوں کے عمومی رویئے مختلف پائے جاتے ہیں، بعض ملکوں میں اسے نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر یہ بھی ایک معمول کی سرگرمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اسی تناظر میں اگر دیکھیں تو پائیں گے کہ ہمارے ملک میں مذہب کے حوالے سے لوگوں کا رویہ اوپر بیان کئے گئے دونوں رویوں سے مختلف اور نہایت ہی عجیب ہے۔ ہمارے یہاں اکشریت کیوں کہ مسلمانوں کی ہے مومن تو خال خال ہی نظر آتے ہیں لہذا دین پر پوری طرح عمل کرنے والے بہت ہی کم تعداد میں ہوں گے مگر دین کے نام پر بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے کو کافر کہنے والے، ایک دوسرے کو واجب القتل قرار دینے والے، ایک دوسرے کی جان لینے سے دریغ نہ کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں جو بغیر ثبوت محض زبانی کلامی سن کر ہی کچھ بھی کرگزرنے کو ہر گھڑی تیار رہتے ہیں۔ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ معاملہ کیا ہے، کہاں ہے اور کیوں ہے ، ساتھ ساتھ اس ضمن میں ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور ریاست کی کیا مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ یہ تو بس اپنا فیصلہ سنا کر قلم توڑ دیتے ہیں، اس کے بعد ہر کس و ناکس کیلئے موت کا پروانہ جاری کردیا جاتا ہے۔ یہ پرواہ کئے بغیر کہ پولیس والوں کی بھی گرہستی ہوتی ہے ان کی جان لینے سے یا غریب رکشہ والے کا رکشہ جلانے سے اور مجبور و لاچار دھاڑی دار مزدور کو فاقوں تک پہنچانے سے لیکر لاکھوں کے مال سے بھرے کنٹینرز کو برباد کرنے تک کون سا ثواب حاصل ہوتا ہے، یہ کسی پر رحم نہیں کھاتے۔ سرکاری املاک ہو یا نجی، عام آدمی ہو یا سرکاری افسر یہ سیلاب بلا خیز سب کچھ برباد کرتا چلاجاتا ہے یہ کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔ تشدد پسندی ان میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ لگتا ہے جیسے یہ اپنی کسی ناآسودگی کا بدلہ لے رہے ہوں، جان لے لینا اور جان دیدینا دونوں ہی ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔
ان قابل رحم لوگوں کی اس حد تک برین واشنگ کی جاچکی ہوتی ہے کہ یہ اپنے باپ تک کو کافر کہنے اور اس کی جان لینے تک سے نہیں چوکتے، بظاہر یہ ایک ناقابل یقین بات لگے گی مگر ایسا سب کچھ ثبوتوں کی شکل میں موجود ہے ہزاروں ناظرین نے دیکھا ہوگا جب ایک گرفتار گئے خودکش بمبار نے ٹی وی پر کہا تھا کہ اگر موقع لگا تو میں اپنے باپ کو بھی نہیں بخشوں گا، وہ بھی کافر ہے ۔
یہ کونسا اسلام ہے، وہ ہادی ء برحق ، وہ رحمت اللعالمین جن کے اعلی اخلاق کی قرآن گواہی دے رہا ہے، آج ان کے پیروکار مسلمان کو مسلمان ماننے پہ راضی نہیں۔ جائز یا ناجائز مطالبات منوانے کا یہ کونسا طریقہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے غزوات کے سامنے ان دھرنوں اور مظاہروں کی حیثیت کچھ بھی نہیں ، آپ ﷺ نے غزوات کے دوران بھی یہ ممانعت کر رکھی تھی کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے۔ درختوں کو نہ کاٹا جائے، فصل نہ تباہ کی جائے، کنوئیں کے پانی میں زہر نہ ملایا جائے ، شہروں کو تاراج نہ کیا جائے اور یہاں یہ حالت ہے کہ بڑے بڑے جغادری جو خود کو دین کا ٹھیکیدار کہتے ہیں ان پرتشدد جتھوں کو اس بات پر اکساتے رہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ نقصانات کئے جائیں، بےگناہ و بے قصور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دی جائے کیوں کہ وہ آسان شکار ہوتے ہیں، ظاہر ہے ان کا ان خرافات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا لہذا وہ اس خوش فہمی میں ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی کیوں نقصان پہنچائے گا، مگر ہوتا ان کے گمان کے برعکس ہے۔ کیوں کہ ایسے لوگوں کو آسانی سے نشانہ بنا کر ان کے جان مال کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ جو خبروں میں نمبر بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، ایک نیا فیشن یہ بھی نکلا ہے کہ جی دھرنا ہوگا، اور یہ دھرنا ہفتوں ہفتوں چلتا ہے جہاں یہ دھرنا ہوتا ہے ان علاقوں کے لوگ سولی پر لٹکے ہوتے ہیں، نہ کہیں جاسکتے ہیں نہ آسکتے ہیں ، نہ مریض کو ہسپتال لے جا سکتے ہیں نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں، اور یہ دھرنے والے پارکوں میں جھولے جھول رہے ہوتے ہیں ہنسی ٹھٹے ہو رہے ہوتے ہیں کھانا پینا ہو رہا ہوتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے کہ یہ دس دس دن تک ہزاروں لوگوں کے کھانے پینے کا خرچہ اٹھاتے رہتے ہیں بہت سے لوگ تو محض مفت خوری اور ہلہ گلہ کیلئے ان میں شامل ہوجاتے ہیں۔ کمال حیرت بات یہ ہے کہ یہی تنطیمیں جب دھرنے نہیں دے رہی ہوتی تو چندے جمع کر رہی ہوتی ہیں، اور غریب طلبہ ، مسافر طلبہ اور نادار طلبہ کے نام پر روز کہیں نہ کہیں چندے کے حصول کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان پر رحم کھا کر اگر ان کو چندہ دیا تو بہت ممکن ہے کہ آئندہ دھرنے میں یہ پیسہ آپ ہی کے خلاف استعمال ہو، اور اگلے دس دن آپ اپنے دیئے ہوئے چندے کے بدلے محسور ہوکر اذیت کا شکار ہو جائیں۔
ان تمام حالات کے تناظر میں اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اخلاقی دیوالیہ پن کی بنیادی وجہ ان درسگاہوں کا ماحول ہے، جہاں عموما ہر بڑا اپنے سے چھوٹے کے جنسی استحصال میں ملوث ہے، یہ سلسلہ اساتذہ سے شروع ہوکر ننھے ننھے طالب علموں پر جاکر ٹھہرتا ہے، جسے سوچ کر ہی گھن آتی ہے۔ بظاہر یہ سب جھوٹ اور مفروضہ نظر آتا ہے مگر ان تمام باتوں کے بین ثبوت موجود ہیں جس میں لوگ ان سب گھناﺅنے افعال کے ارتکاب کا اقرار کرتے نظر آتے ہیں۔ تاویل یہ دیتے ہیں کہ ماضی میں ان کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا تھا۔ اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان حالات میں بھلا کیسے کردار سازی و اخلاقی تربیت ہوسکتی ہے۔ تنیجہ وہی نکلتا ہے جو ہونا چاہئے یعنی اخلاقی گراوٹ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اور چلتا رہے گا۔ لہذا اخلاقی تربیت کا فقدان تو رہے گا، یہاں کردار سازی کے بجائے تشدد پسندی اور انتہا پسندی کی تربیت دی جاتی ہے، جو دین اسلام کو دنیا بھر میں رسوا اور بدنام کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ عجیب عجیب نظریات کچے ذہنوں میں پختہ کئے جاتے ہیں اور ان کے دام میں پھنسے غریبوں کے بچوں کو رہائش اور کھانے کے بدلے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، کہیں جنت کا جھانسا دیا جاتا ہے تو کہیں حوروں کا۔ اور انہیں دین کا باغی، ایمان کا باغی ، انسانیت کا باغی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا باغی بنادیا جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ دعوی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت و اخوت کا کیا جاتا ہے۔ جو ان کے قول و فعل کی سو فیصد نفی کرتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

