ظفر آہیرکالملکھاری

ظفر آہیرکا کالم:آئی ایم ایف سے چھٹکارا،زراعت پر انحصار بڑھانا ہوگا

ضیاءالحق کے مارشل لا سے مشرف حکمرانی کے اختتام تک (1977-2008) تک ہماری معیشت ’’وار اکا نومی‘‘پر انحصار کرتی رہی ہم امریکہ کی لڑائی لڑتے رہے روس کو افغانستان میں روکنے کے نام پرہم نے ڈھیروں ڈالر لیے جو کچھ ملک پر خرچ ہوئے اور کچھ اللوں تللوں پر اس سارے عرصہ میں بشمول ’’پی پی‘‘، ’’ن لیگ‘‘اور’’ق لیگ‘‘دور حکمرانی میں محسوس ہی نہ ہوا کہ ہم نے ملک کے دیگر معاملات پر بھی توجہ دینی ہے ۔ہم نے یہ بھی نہ سوچا کہ جب امریکہ کو ہماری ضرورت نہیں رہے گی تو اس کے بعد ہم کھائیں گے کہاں سے ۔
نہ ہم نے انڈسٹری لگائی اور نہ ہی ایکسپورٹ پر توجہ دی اور اس دوران جو اس وقت کے حکمرانوں نے سب سے بڑا ظلم کیا وہ زراعت کی تباہی تھی۔ جب پاکستان ’’وار اکانومی‘‘ کو بنیاد بناکر افغان جنگ پر ہی سارا انحصار کر رہا تھا تب کسی کو خیال نہیں آیا کہ ہم اپنی زراعت اور انڈسٹری پر ہی توجہ دے لیں ایکسپورٹ ہی بڑھا لیں تب ہم نے پراپرٹی اور کنسٹرکشن کو بنیادی کار وبار بناکر زراعت کو تباہ کیا حکمرانوں نے ڈالروں سے شوگر ملیں لگائیں جبکہ اربوں ڈالر زرمبادلہ دینے والی کپاس کو برباد کیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ شوگر ملوں کا جال بچھانے اور زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم،کپاس اور چینی درآمد کرنا پڑرہی ہے ۔زراعت کی تباہی آج کا قصہ نہیں بلکہ پاکستان میں گزشتہ پانچ دہائیوں میں زرعی شعبے کی کارکردگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فنانس ڈویژن کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں اس شعبے کی گروتھ 5.1 فیصد تھی، ستر کی دہائی میں 2.4 فیصد، اسی کی دہائی میں 5.4 فیصد، نوے کی دہائی میں 4.4 فیصد اور موجودہ صدی کی دہائی میں 3.2 فیصد رہی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پچھلے بیس برسوں میں اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔حکمرانوں نے اپنے مختلف ادوار میں سات سے آٹھ فصلوں کی بجائے امدادی قیمت کو صرف گندم اور گنے تک محدود کر دیا تو اس کے ساتھ کھاد پر سبسڈی کو بھی ختم کر دیا۔ کاٹن جو ہماری اہم نقد اور فصل تھی اور جس سے ہم اربوں ڈالر زرمبادلہ کماتے تھے اس کا ہم نے ستیاناس کردیا اور اب حالات یہ ہیں کہ پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار کے لیے ریکارڈ کاٹن بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ موجودہ سال میں جنوری کے مہینے کے اختتام تک پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 55 لاکھ کاٹن کی گانٹھیں جننگ فیکٹریوں میں پہنچیں جبکہ گذشتہ سال تقریباً 85 لاکھ گانٹھیں تھیں۔ یہ 30سال میں کاٹن کی کم ترین پیداوارہے۔پنجاب اورسندھ میں بالترتیب 34 اور 38 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں ریکارڈ کمی اگرچہ رواں سال واقع ہوئی ہے تاہم ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ افراد اس کی کافی عرصے سے نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک میں اس فصل کی کاشت میں مسلسل گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی زرعی شعبے پر اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں کپاس کاشت کرنے کے رقبے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ صرف 22 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت ہوتی ہے جو 1982 کے بعد اس کے زیر کاشت رقبے کی کم ترین سطح ہے۔ ملک میں کاٹن کی پیداوار میں کمی نے نا صرف ٹیکسٹائل کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ دوسری جانب اس کے منفی اثرات ملک میں خوردنی تیل کے شعبے پر بھی ۓ ہیں۔ پاکستان میں کاٹن کی فصل کا ایک بائی پراڈکٹ کاٹن سیڈ ہے جس سے بنولے کا تیل نکلتا ہے جو پام آئل کے ساتھ خوردنی تیل کا ایک اہم جزو ہے۔ کاٹن کی پیداوار میں کمی سے بنولہ آئل کی پیداوار میں بھی کمی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مزید مہنگا خوردنی تیل درآمد کرنا پڑرہا ہے۔ یہ ناقص پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ما ضی میں کپاس برآمد کرنے والا ملک پاکستان آج چار ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی کپاس باہر سے منگوارہاہے جو ایک خطرناک ترین صورتحال ہے ۔
کپاس کے بعد ہماری دوسری اہم نقد آور فصل گندم ہے لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گذشتہ کئی برسوں سے گندم کی درآمد پر انحصار کر رہا ہے گندم پاکستان میں خوراک کا اہم جُزو ہے اور ہر پاکستانی اوسطاً 124 کلوگرام گندم سالانہ کھا لیتا ہے۔ گندم کا پودا اسخت جان ہوتا ہے اور یہ کہ گندم کے حوالے سے جرمنیشن 90سے 100فیصد تک ہوتی ہے۔ پاکستان بالخصوص سندھ اور پنجاب کا موسم اور زمین گندم کے لئے انتہائی موزوں ہیں لیکن کپاس کی طرح گندم کا بھی بیڑا غرق کردیا گیا -ان تمام بحرانوں کے پس منظر میں وہی ایک ہی طرح کے عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں، یعنی مستقبل میں پیدا ہونیوالی صورتحال کا اندازہ کرنے میں ناکامی، بحرانوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کا فقدان اور طاقتور عناصر کی غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا۔پاکستان میں ماہ و سال تو بدلتے رہے لیکن حالات ہمیشہ ایک جیسے رہے جس کی ایک اور علامت مسئلے کی بنیاد پکڑنے کے بجائے گندم کی دھڑا دھڑ درآمد ہے۔ اور اب ملک کو گندم کی درآمد ایک ایسے وقت میں کرنی پڑ رہی ہے جب دنیا میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے گندم کی عالمی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر موجود ہیں کیونکہ دنیا میں گندم سپلائی کرنے والے دونوں بڑے ملک یوکرین اور روس ہی ہیں۔ پاکستان کو درآمدی گندم اس لیے بھی مہنگی پڑ سکتی ہے کہ ایک طرف ملک میں زرِمبادلہ کے ذخائر نیچے کی طرف گامزن ہیں تو دوسری جانب پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی قیمت درآمدی گندم کو پاکستانیوں کے لیے مزید مہنگا کر دے گی۔ اگر گندم کی بلند قیمت اور روپے کی کم قیمت برقرار رہی تو درآمدی گندم پاکستانیوں کے لیے آٹے کی قیمت کو مزید بڑھا دے گی جو ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کی بلند سطح کو اوپر کی جانب دھکیل دے گی‎اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے ساڑھے چھ ارب ڈالر کا قرضہ لینے جا رہے ہیں۔ جبکہ کپاس اور دیگر فصلوں کی مد میں ہم آٹھ ارب ڈالر ہر سال خرچ کر تے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے اپنی بنیاد یعنی زراعت پر انحصار کریں اور اس کو بہتر بنائیں – کاشتکاروں بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کریں ۔ہمیں اپنے کاشتکار کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے انہیں دوبارہ زراعت کی طرف لانا ہوگا۔ جس کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینا ہوں گی کپاس کی چنائی کرنے والی خو اتین کو ہر سال سوا ارب روپے سےزائد معاوضہ دیا جاتا ہے زیادہ فصل ہونے سے معاوضہ بھی بڑھے گا جس سے دیہی علاقوں میں خوشحالی آئے گے ،اس کے علاوہ بلوچستان کے قابل کاشت رقبہ پر توجہ دے کر اس پر کپاس کاشت کرائیں لوگوں کوسکیورٹی دیں ۔ موسمی ماحول کی وجہ سے وہاں اگنے والی کپاس کا ریشہ بھی بڑا اور فصل بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی وحال کی حکومتیں مالی خسارے میں کمی، سرکاری اداروں میں اصلاحات، بجلی و تیل کی قیمتوں پر سرکاری رعایتوں میں بتدریج کمی لانے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستانی حکومتیں گزشتہ 75سالوں سے آئی ایم ایف کے سہارے ہی ملک چلاتی آرہی ہیں۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ایسے ہی ہے، جیسے مریض کو ہنگامی طبی امداد کے لیے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرایا جاتا ہے اور پھر اسے نارمل وارڈ منتقل کرنے کے بعد صحت یابی پرگھر منتقل کر دیا جاتا ہے لیکن پاکستانی معیشت ایک ایسا مریض ہے، جو ہمیشہ ہی ایمرجنسی وارڈ میں رہا ہے۔اگر ہماری زراعت اپنے پاوں پر کھڑی ہو جائے تو ہمیں آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker