آج کل پاکستان عالمی سیاست کے گرداب میں الجھا ہوا ہےاور عوام ” v-log اور twitter سے پریشان ہیں۔۔
جس کی وجہ سے بھیک مانگنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے، مہنگائی کا جن بوتل سے باہرہے۔ عام آدمی کا جینا مشکل ہو چکا ہے۔ بجلی اور گیس کا بحران ہے اور اب ملک دشمن قوتیں پاکستان میں دہشت گردی اور اندرونی خلفشار کو فروغ دینے میں کوشاں ہیں۔ عوام پریشان ہیں اور اپنی بقا اور سلامتی کی جنگ خود ہی لڑنی پڑ رہی ہے۔ سیاستدانوں نے اپنے علیحدہ محاذ بنا رکھے ہیں ۔ہر دور میں پریشان اور لاوارث عوام سیاسی طالع آزماؤں اقتدار کی جنگ میں ایندھن بنتے رہے۔
پاکستان کے 22 کروڑ بے سہارا عوام جو سیاسی پارٹیوں کے ووٹوں کے نام سے منسوب رہتے ہیں اب ان کو اپنی شناخت خود کروانا پڑےگی۔ ورنہ ایسا کوئی غریب گھرانہ نہیں ملے گا جس کا باپ، بیٹا، کسی خوش نما سیاسی تمغہ کے بدلے پارٹی کیلئے جان کا نذرانہ نہ دے چکا ہو۔
اس سارے ڈرامے کا کردار پارٹی کے غریب اور بے سہارا کارکن ہوتے ہیں ۔ کارکن سماجی اور سیاسی ناخداؤ ں کی شناخت کرواتا ہے۔کندھوں پر بٹھاتا ہے اور جلسوں کی رونق بنتا ہے۔ لیکن افسوس اس کے جسم خاکی کو کندھے دینے والے اس کے عزیز و اقارب اور ویسے ہی گمنام لوگ ہوتے ہیں جو کارکن کہلاتے ہیں۔
آج کل سوشل میڈیا کا کردار اتنا اہم ہے کہ مادھوری ڈکشٹ یا ٹنڈلکر کو عوام کی دلوں کی دھڑکن بنادیں۔۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام کا جم غفیر امڈ آئے
انسانی فطرت بھی یہی ھے کہ جب لوگ کسی شخص کی حمایت پر اترآئیں تو دنیا بھر کی اچھائیاں اس سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اور جب مخالف ہو جائیں تو اس کی ذاتی صلاحیتوں اور خوبیوں سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی استحصال آج کی دنیا کا سب سے مہلک ہتھیار بن چکا ہے۔
خود کش بمبار ہو یا سیاسی جانثار دونوں ہی کسی ان دیکھی سوچ اور شخصیت کیلئے جان فانی کو بے مقصد منقطع کرنے کے درپے ہوتے ھیں۔ لیکن شاید ہی ان کو وہ رتبہ میسر آتا ہو جس کے وہ آرزو مند ہوں۔۔
ایک سیاسی بیٹھک میں ایک ادنیٰ ناداں کارکن نے اپنی اور اپنے خاندان کی قربانیاں گنوانا شروع کیں اور تیسری نسل سے تذکرہ کیا اور اس کے بدلے ۔میں خراج طلب کیا تو ایک عجیب سی بحث چل نکلی۔۔ کارکن کو باورکروایا جانے لگا کہ ان کی قربانیوں کاصلہ روز قیامت ملےگا۔ اس زندگی میں قربانی کا صلہ وہ اٹھائے گا جس کے لئے قربانی دی گئی تھی۔ اس سے مراد کہ خودکشی بمبار یا کارکنوں کو مرنے کا زبانی کلامی تمغہ تو ملے گا لیکن اصل اور حقیقی فائدہ اس کے سہولت کاروں کو اسی دنیا میں نصیب ہوگا۔
پاکستان جیسے پسماندہ معاشرےمیں جہاں طبقات کا واضح فرق ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہے شاید ہی ہم اس ملک کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھا سکیں۔ ایک معاشرہ جس کا دستور ہے کہ ” کرے کوئی اور بھرے کوئی ” غریب آدمی کا وارث کہاں ہے۔
جمہوریت یقینا” دلفریب لفظ ہے لیکن اس کا اطلاق مادر پدر آزاد معاشرے میں نہیں ہوتا۔ ہم الیکشن کو جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں لیکن کون جانے دو تین دن سے بھوکے پیٹ کی کیا مرضی ہوتی ہے۔
آج جمہوریت کا مفہوم پسماندہ ممالک کیلئے بڑا واضح ہے۔
” Democracy is the use of wealth to buy liberty of the Poor to keep Wealth in Power. ”
اس ملک کے کروڑوں مخلوق الحال عوام کو سکھ کا سانس تب نصیب ہوگا جب ان کا استحصال کرنے والے طبقات کا کردار کم کیا جائے گا۔ عوامی جمہوریت عوام کی حکمرانی سے قائم ہوگی جب پارٹیوں کی قیادت عمراء اور اشرا فیہ کے بجائے عام پڑھے لکھےنوجوانوں کے ہاتھ ہو گا جو بے روزگاری سے تنگ آ کر بیرون ملک سرسبز چراگاھوں کی تلاش میں بے وطن بن رہے ہیں۔ اس دنیا کے نظاموں کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ سوچنا پڑےگا کہ کہ ہم اس نہج پر کیسے پہنچے اور کن کی وجہ سے پہنچے۔ پاکستان 23 کروڑ عوام میں لگ بھگ ساٹھ ستر افراد ہونگے جن کے لئے پاکستان جنت ہے۔ سیاسی طور پر وہ اشرا فیہ ، جاگیردار ، سرمایہ دار طبقہ سے تعلق ہوتا ہے۔ گدی نشین اور ان کے چیلے لیکن یہ بغیر اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور عدلیہ کی پشت پناہی کے زہر کے بغیر سانپ ہیں۔
پاکستان کو جلسوں کی رونقوں سے بچانا جو اشرفیہ کے کارستانی ہوتی ہے ممکن نہیں رہا۔ عوام کو قیادت اپنے صفوں میں تلاش کرنا پڑے گی ورنہ ہر بار ایلیکٹیبلز شکل بدل بدل کر قیادت پر قابض اور من مانی کریں گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ساری قیادت، فوجی، بیوروکریسی، عدلیہ اور 8سیاسی خاندان سب بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اب خدارا عوام کو باشعور انداز میں ملکی بقا کیلئے صف بندی کرنا پڑے گی
تاکہ عوام کی حکمرانی قائم ہو۔ تمام برائیوں کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جمہوریت میں عام آدمی کا کوئی کردار نہیں۔
فیس بک کمینٹ

