زاہدہ حناکالملکھاری

مجنوں جو مرگیا ہے/ زاہدہ حنا

منوبھائی ایک من موہنے انسان تھے، ان سے کبھی لاہور کبھی کراچی میں ملاقات ہوئی۔ مسکراتا ہوا چہرہ، منکسرالمزاجی کے رویے کی چٹائی بچھائے اور اس پر دھونی رمائے منوبھائی۔ ہم جب بھی ملے ایک دوسرے سے یہی وعدہ کیا کہ تفصیل سے ملنا چاہیے۔ لیکن دوسرے بہت سے وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا اور منوبھائی موت سے کیا ہوا وعدہ نباہنے چلے گئے۔
وہ شاعر تھے اردو اور پنجابی کے، افسانے لکھتے تھے، اخباروں سے ان کا پرانا رشتہ تھا، خبریں ڈھونڈنا اور لکھنا، ان کا پیشہ تھا، پھر انھوں نے کالم نگاری شروع کردی، کالم لکھے اور آخری سانس تک لکھتے ہی چلے گئے۔ پاکستان ٹیلی وژن کے لیے انھوں نے ’سونا چاندی‘ لکھا۔ دیہات سے شہر کا رخ کرنے والے میاں بیوی جن کی خواہش تھی کہ وہ دولت کمائیں اور ان کے دلدر دور ہوجائیں۔ اس آرزو میں وہ کیا کچھ کرتے ہیں اور پھر بھی معصومیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ یہ طویل سیریل جن لوگوں نے دیکھا وہ اسے بھول نہ پائے۔ اسی طرح ’دشت‘ بھی ان کا ایک ناقابلِ فراموش سیریل ہے۔
وزیرآباد میں پیدا ہوئے تو ماں باپ نے ان کا نام منیراحمد رکھا۔ یہ بات انھوں نے خود ہی بتائی کہ پیدا ہوئے تو ماں بہت بیمار تھیں۔ ان کی ایک سکھی، سہیلی نے انھیں پندرہ دن دودھ پلایا اور زندگی بخشی، یوں وہ گردت سنگھ کے دودھ شریک بھائی ہوئے۔ بڑے ہوئے، قلم سنبھالا تو ’منو بھائی‘ ہوگئے۔ یہ نام ان پر اس طرح چسپاں ہوا کہ ان کے بہت سے دوستوں کو بھی ان کا اصلی نام معلوم نہیں تھا۔
بظاہر وہ ایک سادہ سے صحافی تھے لیکن ان کے اندر ایک ایسا شخص چھپا بیٹھا تھا جو مارکسزم کا عاشق تھا، جس کے خیال میں پاکستان کے تمام مسائل کا حل جاگیرداری اور سرمایہ داری سے نجات میں تھا۔ 1960 کی دہائی میں جب جنرل ایوب خان عقل کُل تھے اور ان کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہنا بیشتر لوگوں کا شعار تھا، منوبھائی نے جرنیل شاہی سے اختلاف کا راستہ اختیار کیا اور ہمیشہ اختلافی مسلک پر چلتے رہے۔ وہ سیاسی جلوسوں میں لوگوں کا ساتھ دیتے رہے اور اسٹیج سے سیاسی تقریریں کرتے رہے۔ وہ مارکسزم کو کسانوں، مزدوروں اور کلرکوں کی بدحالی کے لیے نسخہ شفا سمجھتے تھے اور کسی نہ کسی انداز سے اس بات کا ذکر اپنے کالموں میں کرتے، اپنی پنجابی اور اردو شاعری میں کرتے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ وہ روسی انقلاب کا حقیقی معمار لیون ٹراٹسکی کو سمجھتے تھے۔
ان کے برسوں پرانے دوست الان ووڈز نے لکھا ہے کہ وہ پاکستان کی سماجی، سیاسی اور معاشی ابتری کے بارے میں بہت پریشان رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں یہ تمام معاملات بہتری کے بجائے ابتری کی طرف جارہے ہیں۔ منوبھائی کو اس بات کا بھی یقین ہوگیا تھا کہ پاکستان کے مسئلوں کا حل انقلابی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ اس بارے میں وہ ایک ہسپانوی سوشلسٹ کے اس قول کو بھی دہراتے تھے کہ ’’تم کینسر کا علاج اسپرین کی گولی سے نہیں کرسکتے‘‘۔
منو بھائی ایک ایسے جی دار لکھنے والے تھے کہ ان کے بغیر مزاحمت کا میدان سونا سونا سا لگتا ہے۔ وہ پاکستانی عوام کے مسائل پر لکھتے رہے اور دنیا بھر کے مظلوموں کے حق میں ان کا قلم چلتا رہا۔ ہمارا سماج عورت کو جس طرح باریک پیستا ہے، اس پر وہ تڑپ اٹھتے اور اس کے لیے انصاف کے طلب گار ہوتے۔ انھوں نے اپنی عورت کے مسائل پر اس قدر لکھا کہ پھر انھوں نے اعزازی طور پر خود کو عورت کے درجے پر فائز کردیا تھا۔
ان کے بارے میں وارث میر نے اپنے آخری دنوں میں لکھا تھا کہ ’منوبھائی کی مثال ایک ایسی معصوم صورت، خوش شکل پھول بیچنے والی لڑکی کی ہے جو گجروں کے ساتھ ساتھ اپنی مسکراہٹیں بھی بانٹتی رہتی ہے لیکن کچھ خوش فہم حضرات کے لیے اس نے پیروں میں کھڑاویں بھی پہن رکھی ہیں اور اس کی کھڑاؤں کی آوازیں خوش فہم مردوں کو ڈراتی ہیں۔ شاید کبھی وہ ان کھڑاؤں کو کسی مرد کے سر پر کھٹ کھٹا بھی دیتی ہو‘۔ منوبھائی نے بلامبالغہ ہزاروں کالم لکھے۔ اس وقت میرے سامنے ان کا ایک مجموعہ ہے جس کا نام انھوں نے ’جنگل اداس ہے‘ رکھا۔ یہ مشہور مصرعے ’مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے‘ سے لیا گیا ہے اور اس میں ان کے وہی کالم ہیں جن میں انھوں نے کسی رخصت ہونے والے کا تعزیت نامہ لکھا ہے۔
یہ کتاب عطیہ فیضی کے تعزیت نامے سے شروع ہوتی ہے۔ وہ قلم اٹھاتے ہیں اور اس عورت کو یاد کرتے ہیں جو بیسویں صدی کی اہم ترین عورتوں میں سے ایک تھی اور جس کے لیے مشہور ڈراما نگار جارج برنارڈ شا نے لکھا تھا کہ یہ مشرق کی خوش بختی ہے کہ اس نے عطیہ فیضی ایسی عظیم عورت پیدا کی۔ ان کا دل اس بات پر لہولہان ہے کہ بعض معاملات میں علامہ شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی رہنمائی کرنے والی عطیہ فیضی جب اپنا سب کچھ چھوڑ کر جناح صاحب کے بلاوے پر کراچی چلی آئیں تو ان کے ساتھ کیسی بدسلوکی روا رکھی گئی اور وہ جو لکھ پتی اورکروڑپتی تھیں، کس مفلسی کے عالم میں ختم ہوئیں۔ وہ عطیہ کی موت پر ماتم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ علم وادب کی ایک صدی ختم ہوئی، فنون لطیفہ کا ایک ادارہ ویران ہوا، مشرق کا ایک افتحار بھی لٹ گیا اور برصغیر کا ایک اعزاز بھی چھین لیا گیا۔
منوبھائی نے اپنے کالموں میں جہاں نامور لوگوں کو یاد کیا، وہیں گم نام اور مفلس و نادار لوگوں کا مرثیہ بھی لکھا۔ کوئی ایسا جو ٹرین سے کٹ گیا، کوئی ایسی لڑکی جس نے بادشاہی مسجد کے شمال مغربی مینار سے کود کر جان دے دی، جان جیسی بیش قیمت شے دینے کے باوجود کسی کو اس کا نام معلوم نہیں تھا۔ منوبھائی نے پہلے اس بے نام کا پرسہ کیا، اور پھر جب نام معلوم ہوگیا تو 25 برس کی پروین اخترزوجہ لطیف کے بارے میں لکھا، جس کے 3 بچے تھے اور جس کا شوہر کسی دوسری عورت کے سحر کا اسیر ہوگیا تھا۔ کیسی کاٹ تھی منوبھائی کے قلم میں ’مینار سے فرش پر آنے والی‘ منہ کے بل مسجد کے فرش پر گرنے والی پروین اختر کا آخری سجدہ لکھتا ہے۔
اپنے ایک کالم میں منوبھائی نے ہمارے شہرۂ آفاق لوک کرداروں کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال اور مراز صاحباں کے زمانے میں اخبارات ہوتے اور اخباری رپورٹروں کے پاس ٹیلی فون کی سہولتیں ہوتیں جن کے ذریعے وہ پولیس تھانوں سے رابطہ قائم کرسکتے اور پولیس تھانوں میں رات کے وقت محرر حضرات اخبارات کو خبریں لکھوانے کے لیے موجود ہوتے تو بعض دلچسپ خبریں پڑھنے کو ملتیں۔ پتہ چلتا کہ ہیر کو اس کے چچا کیدو نے زہر نہیں کھلایا تھا بلکہ اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے زہر پی لیا تھا۔ ہیر کی موت محض اتفاقی حادثہ بھی قرار دی جاسکتی تھی اور یوں وارث شاہ کو اتنی بڑی کتاب لکھنے کی زحمت سے بچایا جاسکتا تھا۔
1973میں ایک کالم جشن آزادی پر لکھا کہ آزادی کے ایک جشن پر جب کچھ آوارہ اور اوباش نوجوانوں نے اس سیڑھیوں والے پل پر کچھ عورتوں کی بے حرمتی کی اور چند جوان لڑکیوں کے ازاربند بلیڈوں سے کاٹ دیے اور اس بھگڈر میں پل کی ایک دیوار گرنے سے بہت سی جانیں ضایع ہوگئی تھیں، تو میں نے جوان مگر اپاہج بیٹی کے ساتھ سونے والے بوڑھے گداگر کی لاش بھی اس پل پر پڑی دیکھی تھی، اس کی انتڑیاں پیٹ سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔
اس کی اپاہج بیٹی نے بتایا کہ اس کے بابا نے ایک ننگی لڑکی کو اپنے کمبل میں چھپانے اور پناہ دینے کے ’’جرم‘‘ کا ارتکاب کیا تھا۔ وہ ایک صوبائی وزیر قانون کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ’’پاکستان میں گزشتہ پچیس سال کے دوران فن کاروں کا استحصال کیا گیا ہے اور جس طرح مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اور غریب آدمیوں کے مسائل حکومت کو ورثے میں ملے ہیں، اسی طرح فنکاروں کی مشکلات حکومت کو ورثے میں ملی ہیں‘‘ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ’’مزدورں، کسانوں، طالب علموں، دانشوروں اور فنکاروں کے مسائل حکومت کے لیے فکر کا باعث ہیں، مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں استحصال سے پاک معاشرہ قائم ہوگا اور ہر فن کار کو اس کی صلاحیتوں کا پورا پورا معاوضہ ملے گا اور وہ اپنی زندگی کے دن حسرت و یاس میں بسر نہیں کرے گا‘‘۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ’’تنویر نقوی سوشلزم کا نقیب شاعر تھا۔ کیوں کہ جس حالت میں وہ مرا ہے اس حالت میں سوشلزم کے نقیب ہی مرسکتے ہی۔، جو سوشلزم کے نقیب نہیں ہوتے انھیںعلاج کے لیے لندن تک جانے کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اور وہ وہاں سے نئی زندگی خرید لاتے ہیں۔ میں اپنے وزیر باتدبیر کی باتیں مانتا ہوں لیکن مجھے صرف اتنا بتادیں کہ ہمارے وزیروں کو کہیں یہ تقریریں بھی تو ورثے میں نہیں ملیں؟ یہ میں نے اس لیے پوچھا ہے کہ کل منیرنیازی جیسا نڈر شاعرکہہ رہا تھا کہ ’’میںاپنے شاعر ہونے پر خوف زدہ ہورہا ہوں کیونکہ میں نے تنویرنقوی کی میت کے قریب بیٹھے احمدندیم قاسمی کی نگاہوں کو خلا سے ایک سوال کرتے دیکھا ہے‘‘۔
ایسے تیکھے سوال کرنے والا چلا گیا۔ اب اسے ڈھونڈھ چراغ رخ زیبا لے کر۔ اس کے لیے یہ کیسے لکھوں کہ مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے۔ مجنوں کبھی نہیں مرتا، لیلیٰ بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ منوبھائی چلا گیا لیکن اس کے لکھے ہوئے لفظ زندہ رہیں گے اور ہماری آج کی اندھیری راتوں میں چراغاں کریں گے۔
​ ​(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker