پنجابشاکر حسین شاکرکالملکھاری

10 اپریل 1986ءتا 29 اپریل 2018(1): کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

اگر ہم 32 برس قبل پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا تھا کہ جنرل ضیاءاور اس کے حواری ہر طرف طاقتور حکمران کے طور پر موجود تھے۔ ایسے میں اگر ایک نہتی لڑکی 10 اپریل 1986ءکو لاہور آ کر حکمران جماعت کو چیلنج کرتی ہے تو اس کے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ 10 اپریل 1986ءسے پہلے کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ بھٹو جس کو جنرل ضیاءنے نہ صرف پھانسی گھاٹ تک پہنچایا بلکہ اس کے حامیوں کو ہر طرح سے ٹارچر کیا۔ لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔ جس کو بینظیر بھٹو نے 10 اپریل 1986ءکو لاہور آ کر مزید بلند کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ دن آج بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن کے ذکر کے بغیر سیاسی تاریخ نامکمل رہے گی۔ جن دنوں بینظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی کا پروگرام ترتیب دے رہی تھیں تو مَیں اُن دنوں غمِ روزگار کے سلسلہ میں جدہ میں مقیم تھا لیکن میرے وجود کا ایک حصہ رضی الدین رضی کی صورت میں لاہور میں بیٹھا 10 اپریل 1986ءسے پہلے تمام تیاریاں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ رضی نے مجھے لاہور بیٹھ کر 14 اپریل 1986ءکو ایک طویل خط تحریر کیا جس میں اس نے 10 اپریل 1986ءکے بارے میں لکھا”ہم کتنے پُر اُمید تھے، ہمیں اس قدر یقین تھا دن بدلنے کا اور خوابوں کے ثمرآور ہونے کا۔ آج 23 سال بعد احساس ہوتا ہے کہ جیسے امن، آزادی، جمہوریت اور یقین کا سارا سفر رائیگاں گیا۔ رائیگانی کا یہ احساس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے، کوڑے کھائے، جیلوں میں گئے صرف اس لیے کہ اس ملک سے آمریت کا خاتمہ ہو، ہمارے بچے بہتر ماحول میں اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکیں۔ وہ خواب جو ہمارے لیے تو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ ضیاءالحق اور اس کے حواریوں نے اس ملک میں نفرت اور تعصبات کی جو فصل بوئی وہ اب سروں کی فصل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کوئی آتا ہے اور اسلام کے نام پر بیگناہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو قتل کر کے شہادت کے رتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔ دُھند بڑھتی جا رہی ہے ہم ہر مرتبہ کسی ڈکٹیٹر سے نجات کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اور جب وہ ڈکٹیٹر رخصت ہو جاتا ہے تو ہم نئے ڈکٹیٹر کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ 10 اپریل 1986ءکو ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا جو شاید پاکستان کی تاریخ میں دوبارہ کبھی دیکھنا نہ ملے۔ مَیں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مَیں اس منظر کا حصہ تھا۔ مَیں لاکھوں افراد کے اس ہجوم کا حصہ تھا جو آمریت کے خلاف احتجاج کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ لاہور مجھے کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا جتنا 10 اپریل 1986ءکو تھا۔ اور 10 اپریل ہی کیوں 9 اپریل کی رات بھی تو لاہور بہت خوبصورت تھا۔ آمریت کی طویل رات کو ختم کرنے کے لیے جمع ہونے والوں نے اس رات کو دن میں تبدیل کر دیا۔ وہ رات مجھے رات نہیں بلکہ اُمید کی ایک روشنی لگ رہی تھی۔ جنرل ضیا جس نے 4 اپریل 1979ءکی رات کی تاریکی میں بھٹو کو پھانسی دی تھی وہ بھٹو 9 اپریل 1986ءکی رات لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ مَیں 9 اپریل کی رات 8 بجے مینارِ پاکستان گیا تو وہاں عجیب سماں تھا ہزاروں کی تعداد میں لوگ سٹیج دیکھنے آئے ہوئے تھے جو بینظیر صاحبہ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ اپنے شہید قائد کی بیٹی کے استقبال کے لیے اہلِ لاہور دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے تھے۔ یہ دیدہ و دل فرشِ راہ کیسے کیے جاتے ہیں۔ اس کا مفہوم تم کبھی بھی نہ سمجھ سکو گے کہ تم نے یہ منظر دیکھا ہی نہیں ہے۔ اس محاورے کو صرف وہی سمجھ سکے گا جس نے 9 اور 10 اپریل کا لاہور دیکھا ہے۔ مَیں مینارِ پاکستان کے احاطے سے باہر آیا اور پیدل بھاٹی گیٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ چوک بھاٹی پر دن کا سماں تھا۔ سرچ لائٹیں لگی ہوئیں، استقبالیہ سٹیج بن چکا تھا۔ اندرون لاہور کے گلی محلوں سے جلوس باہر آ رہے تھے۔ بھاٹی گیٹ سے مَیں لوہاری اور پھر وہاں سے پیدل ہی انارکلی سے ہوتا ہوا مال روڈ پر آ گیا۔ ہر طرف ایک ہی منظر، ایک ہی جشن …. شہید ذوالفقار علی بھٹو، بےنظیر بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو کی قدآور تصاویر، قمقمے، جھنڈیاں، پرچم اور 3 رنگوں میں رنگے ہوئے در و دیوار …. لاہور والوں نے اپنی قائد کے استقبال کے لیے پورے شہر کو دلہن کی طرح سجا دیا تھا۔ مَیں صبح سے جاگ رہا تھا پہلے دفتر میں ڈیوٹی دی اور اب شام 6 بجے سے سڑکوں پر موجود تھا۔ پیدل چل چل کر تھک چکا تھا مگر اس کے باوجود مَیں اپنے کمرے میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ تھکاوٹ تو بہت تھی مگر محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ لوگوں کا جوش و خروش اور خوشی سے تمتماتے چہرے دیکھ کر ساری تھکاوٹ ختم ہو جاتی تھی۔ مال روڈ کا نظارہ کرنے کے بعد مَیں پرانی انارکلی سے ہوتا ہوا چوبرجی کی طرف چلا گیا۔ وہاں بھی وہی جشن، وہی نعرے، وہی ہجوم، لاؤڈ سپیکروں پر ترانے چل رہے تھے۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے، اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ مردِ مومن کی نیندیں تو خیر حرام ہو چکی تھیں البتہ پورا لاہور مردِ مجاہد کی صورت میں جاگ رہا تھا۔ لاہور میں رَت جگا تھا۔ بے نظیر صاحبہ کے طیارے نے صبح 6 بجے ایئرپورٹ لینڈ کرنا تھا۔ بی بی سی کا رپورٹر لاہور سے بتا رہا تھا کہ لاکھوں افراد لاہور میں جمع ہو چکے ہیں کسی بھی شخصیت کے استقبال کے لئے برصغیر کی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کبھی جمع نہیں ہوئے۔ مَیں صبح 5 بجے پھر کمرے سے نکل آیا۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے مَیں اس دن کو طلوع ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دن تو روز جیسا ہی تھا مگر کچھ زیادہ اجلا اور شفاف دکھائی دے رہا تھا۔(جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker