ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

قصہ سوہنی مہینوال۔۔ظہوردھریجہ

سوہنی مہینوال کا تعلق کس علاقے سے؟ اس عنوان سے روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہونے والی دو قسطوں کو قارئین نے بہت پسند کیا بہت سے فون آئے۔ ان میں سے ایک اہم فون میرے شہر خان پور سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے میاں عبدالستار کا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا علم تو نہیں کہ سوہنی کا تعلق اپر پنجاب کے گجرات سے تھا یا وسیب کے قصبہ گجرات سے۔ البتہ مجھے موضوع کی اہمیت کا احساس اس لئے ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں وسیب صوبے کے مسئلے پر کمیشن بنا، کمیشن نے دو صوبوں کی بجائے ایک صوبے پر اتفاق کیا، کمیشن کو بائونڈری کا مسئلہ در پیش ہوا اور اس بات پر بحث ہونے لگی کہ کون کون سے اضلاع صوبے میں شامل ہوں جب جھنگ کی بات آئی تو محترمہ صغریٰ امام نے سینٹ میں یہ بات کی کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھنگ کو سرائیکی صوبے کی بجائے پنجاب کا حصہ رہنا چاہئے۔ اس کی بے منطق دلیل بھی وہ دیتے ہیں۔ میاں عبدالستار کہتے ہیں کہ میں اس پر حیران بھی تھا اور پریشان بھی کہ صغریٰ امام یہ بات کر رہی تھیں جبکہ اُن کے والد فخر امام اور والدہ عابدہ حسین ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمارا تعلق ایگریکلچرل وسیب سے ہے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تو اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہیر رانجھے کا قصہ وسیب سے ہے یا نہیں؟ البتہ ہیر کا تعلق سیالوں کے بڑے قبیلے چچکانہ سے ہے اور سیالوں نے ہمیشہ وسیب کی بات کی اگر وارث شاہ نے پنجابی میں ہیر لکھی ہے تو سرائیکی میں بھی بہت سے لوگوں نے ہیر رانجھے کا قصہ لکھا ہے لیکن ایک بات یہ بھی دیکھنی ہے کہ جب ہم تاریخ کو دہراتے ہیں تو جھنگ ہمیشہ صوبہ ملتان کا حصہ رہا میاں عبدالستار نے اس بات پر بھی اسرار کیا کہ میری یہ بات بھی ضرور لکھیں کہ کوئی صوبہ بنانے کو تیار نہیں، صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے اگر (ن) لیگ صوبہ بنانے کے حق میں ہے تو پھر اُسے قومی اسمبلی کی بجائے پہلے پنجاب اسمبلی میں قرار داد لے آنی چاہئے۔ میاں عبدالستار کے علاوہ مجھے تفصیلی تحریر ڈاکٹر پروفیسر ممتاز بلوچ کی موصولی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ممتاز بلوچ اسلامیہ یونیورسٹی میں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں اور انہوں نے لوک داستانوں پر پی ایچ ڈی کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آپ نے اہم موضوع پر قلم اُٹھایا ہے۔ آپ نے درست لکھا ہے کہ سوہنی مہینوال کا قصہ وسیب میں بہت کم تعداد میں رقم ہوا ہے۔ البتہ کہیں کہیں حوالہ جات ضرور ملتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ وسیب میں تخلیق ہونے والی رومانوی داستانوں میں سوہنی مہینوال کو پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔ بنیادی طور پر یہ گجرات کے ایک کمہار کی بیٹی سوہنی اور بخارہ کے ایک بیوپاری مہینوال کے عشق کی داستان ہے۔ یہ قصہ پنجابی کے علاوہ فارسی، اردو زبانوں میں بھی رقم ہوا ہے۔ اس قصے کو فارسی میں پہلی مرتبہ محمد صالح نامی شاعر نے 1841ء میں لکھا۔ سرائیکی زبان میں سوہنی مہینوال کے قصے کو امام بخش شیروی نے رقم کیایہ غالباً 1857ء میں تصنیف ہوا۔ کیفی جام پوری نے اپنی کتاب سرائیکی شاعری کے صفحہ 291تا 294میں اسے درج کیا ہے۔ ممتاز بلوچ لکھتے ہیں کہ قصہ سوہنی مہینوال کا ایک حوالہ سرائیکی شاعر احمد بخش غافل سکنہ قصبہ گورمانی مظفرگڑھ کا ہے۔ ڈاکٹر سجاد حیدر پرویز نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ یہ غالباً 1870ء میں تصنیف ہوا۔ اسی طرح ملتان کے پیر بخش پیرن ملتانی نے یہ قصہ ناٹک کے انداز میں تحریر کیا۔ اس کا حوالہ 1882ء کا ہے۔ ملتان کے مولوی فیض بخش، محمد ذوالفقار یونین پرنٹنگ پریس سے طبع بھی ہوا۔ ایک اور حوالہ حسرت ملتانی کا ہے اس کا سن تصنیف 1880ء کا ہے۔ ملتان کے صحافی قاسم رضا نے 21مئی 2012ء کے ایک روزنامہ میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ سوہنی مہینوال کے حوالے سے ایک قلمی تصنیف کا حوالہ محمد حیات زخمی سکنہ غوث پور تحصیل خان پور ضلع رحیم یار خان کا بھی ہے اس کا سن تصنیف 1916ء ہے۔ سلسلہ وار سرائیکی رسالے گامن سچار فروری مارچ 2005ء کی اشاعت میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر ممتاز بلوچ لکھتے ہیں کہ سوہنی مہینوال مشہور قصہ ہے یقینا وسیب میں بہت سے قلمی نسخے موجود ہوں گے مگر وسیب میں طباعت و اشاعت کی سہولتوں کے فقدان اور ریسرچ اداروں کی کمیابی کے باعث وہ نسخے معدوم ہو گئے یا پھر گردش ایام میں ہیں۔ انہوں نے آخر میں لکھا کہ آپ نے اہم موضوع کا دروازہ کھولا ہے تو تحقیق کے اس عمل کو آگے بڑھنا چاہئے۔ خان پور کے کہنہ مشق صحافی حبیب اللہ خیال لکھتے ہیں کہ میں نے دونوں قسطوں کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھا میرے علم میں بہت اضافہ ہوا آپ نے خوب لکھا ہے کہ سوہنی کی نند کو جب ان ملاقاتوں کا علم ہوا تو اس نے ایک چال چلی اور پکے گھڑے کی جگہ وہاں ایک کچا گھڑا رکھ دیا۔ اگلی رات حسب معمول سوہنی چناب کے کنارے آئی تو آسمان پر مہیب بادلوں کا جھرمٹ تھا۔ فضا میں ہولناک طوفان کا شور بپا تھا۔ بجلی کوند رہی تھی۔ سوہنی مہینوال کو ملنے کے لیے اس قدر بیقرار تھی کہ اسے اپنی نند کی جعلسازی کا بھی احساس نہ ہوا۔ وہ دریا کی طرف بڑھی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے محبوب سے ملتی ، موت کی ظالم لہروں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ مہینوال بھی دور کنارے پر کھڑا یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے جب سوہنی کی بہتی ہوئی نعش نظر آئی تو وہ بھی بے خوف و خطر دریا میں کود پڑا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی سوہنی سے مل گٖیا۔کسی بھی سماج میں لوک داستانوں کو بہت اہمیت حاصل ہے، ہر خطے اور ہر وسیب کی اپنی اپنی لوک داستانیں ہیں جو وہاں کی پیار و محبت کی تاریخ کا حوالہ ہونے کے ساتھ وہاں کی ادبی ثقافتی اور جغرافیائی تاریخ کا حوالہ بھی ہیں آخر میں اُن تمام احباب اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے کالم کو توجہ سے پڑھا ۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker