2018 انتخاباتظہور احمد دھریجہکالملکھاری

امیدواروں کا شیر کے نشان سے انکار: وسیب / ظہور دھریجہ

لندن میں ہارلے اسٹریٹ کلینک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے الزام لگایا کہ ’’مسلم لیگ کے امیدواروں سے ٹکٹ واپس کرائے جا رہے ہیں اور ہمارے نمائندوں کو شیر کی بجائے جیپ کے نشان پر الیکشن لڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ جیپ کس کا نشان ہے سب بہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ یہ سب کچھ کنگ پارٹی کیلئے ہو رہاہے مگر دھاندلی کرائی گئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔‘‘ میاں نواز شریف اپنی اہلیہ کی تیمارداری کیلئے لندن میں ہیں ، ہم موصوفہ کی صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں ۔ جہاں تک کنگ پارٹی کی بات ہے تو میاں صاحب کی اپنی سیاست کا آغاز جنرل ضیا الحق کی کنگ پارٹی سے ہوا اور جونیجو لیگ اور بعد ازاں ق لیگ ، ن لیگ ، ملت پارٹی ، یہ سب کنگ پارٹیاں ہی تھیں ۔ سب سے اہم یہ کہ گزشتہ الیکشن بھی منیج الیکشن تھا میاں صاحب انہی قوتوں کے سہارے برسراقتدار آئے جن کے خلاف وہ آج باتیں کر رہے ہیں ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پچھلے الیکشن میں ن لیگ کی آمد آمد تھی ، ہوا کے رخ پر سفر کرنے والے سیاسی پرندے اس طرف چلے گئے ۔ آج ن لیگ کی رخصتی ہے تو محکمہ موسمیات کی ’’ پیشین گوئی ‘‘ کے مطابق ’’ تم چلو اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی ‘‘ کے مقولے پر عمل ہو رہا ہے۔ سرائیکی وسیب میں یہ ہوا کہ آدھے امیدوار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر بننے والے اتحاد کے موقع پر ن لیگ کو داغ مفارقت دے گئے اور بچی کچھی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب عین موقع پر امیدواروں نے شیر کے نشان کی بجائے جیپ کا نشان حاصل کر لیا ۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو سرائیکی وسیب کے امیدواروں کا شیر کے نشان سے انکار مسلم لیگ ن کی سرائیکی وسیب سے بے اعتنائی بھی ہو سکتی ہے کہ میاں نواز شریف نے جب ووٹ لینے تھے تو کہتے تھے کہ میری ایک آنکھ پنجاب ہے اور دوسری جنوبی پنجاب ۔ برسر اقتدار آنے کے بعد ایک آنکھ بند ہو گئی، صدر ، وزیراعظم ، سپیکر اور اہم وزارتوں کے ساتھ ساتھ تمام عہدے صرف اپر پنجاب کا حق ٹھہرے ۔ یہ بھی دیکھئے کہ میاں شہباز شریف نے گزشتہ سے پیوستہ الیکشن سرائیکی وسیب کے علاقے بھکر سے لڑا ، کامیابی سے پہلے اعلان کیا کہ اب میں لاہور کی بجائے بھکر کی نمائندگی کروں گا مگر برسر اقتدار آنے کے بعد بھکر کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ گزشتہ الیکشن میاں شہباز شریف نے سرائیکی وسیب کے علاقے جام پور سے لڑا ، الیکشن کے دوران وعدہ کیا کہ سرائیکی وسیب کو صوبہ بنائیں گے ، کامیابی کے بعد میاں صاحب لاہور پہنچے تو ان کا پہلا اعلان یہ تھا کہ الیکشن میں ہم نے سرائیکی صوبہ تحریک کو دفن کر دیا۔ میاں صاحبان کی سرائیکی وسیب سے بے اعتنائی کی بات کر رہا ہوں تو اس میں ایک یہ بھی ہے کہ ووٹ لینے کے وقت تو سب اپنے تھے لیکن سرائیکی وسیب کے ارکان اسمبلی درخواستیں بھیج بھیج کر تھک گئے ، میاں صاحبان نے سالہاسال تک ان بیچاروں کو شرفِ ملاقات اور سعادتِ دیدار سے بھی محروم رکھا ۔ جب خسرو بختیار اور دوسرے ارکان اسمبلی نے ن لیگ کو چھوڑا تو میاں نواز شریف کا بیان یہ تھا کہ ’’ ان کو تو کوئی جانتا ہی نہیں ۔‘‘ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ن لیگ نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا ۔ دونوں ایوانوں میں اکثریت کے باوجود صوبہ نہ بنایا ۔ جب سرائیکی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے دباؤ بڑھا تو ن لیگ نے صوبے کی بجائے ملتان کو سب سول سیکرٹریٹ بنانے کا اعلان کر دیا ۔ اس سلسلے میں موجودہ گورنر ملک رفیق رجوانہ کی سربراہی میں 67 رکنی کمیٹی بنائی گئی جس میں وزراء ، ارکان اسمبلی او ہائی لیول کے بیوروکریٹ شامل تھے ۔ کمیٹی کے 37 اجلاس ہوئے مگر نتیجہ صفر ۔ اس لحاظ سے ملتان صوبائی دارالحکومت تو کیا سب سول سیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا اور آج ملتان محض دو تحصیلوں کا ضلع ہے۔ تاریخی کتابوں میں ملتان کا ذکر موجود ہے ۔ ماہرین آثار قدیمہ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ملتان کائنات کے ان شہروں میں سے ہے جو ہزاروں سالوں سے مسلسل آباد چلے آ رہے ہیں ۔ ماہرین کا اس بات پر بھی کامل اتفاق ہے کہ تاریخ عالم میں ملتان صرف ایک شہر کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ایک سلطنت کے طور پر کرہ ارض پر موجود ہے۔ 373ھ کی ایک تصنیف ’’ حدود العالم بن المشرق الی المغرب ’’ میں سلطنت ملتان کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ملتان کی سرحدیں جالندھر پر ختم ہوتی ہیں ۔ ایک کتاب ’’ سید المتاخرین ‘‘ اور ابوالفضل کی کتاب ’’ آئین اکبری ‘‘ میں لکھا گیا ہے کہ یہ خطہ بہت زیادہ زرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع و عریض بھی ہے ۔ اقلیم ( صوبہ ) ملتان میں ایک طرف ٹھٹھہ ، دوسری طرف فیروز پور، جیسلمیر اور کیچ مکران تک کے علاقے اس میں شامل ہیں۔ مغلیہ عہد میں ایک کہاوت مشہور تھی کہ جس کا ملتان مضبوط اس کا دلی مضبوط ۔ افسوس کہ میاں صاحبان نے پانچ کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے سرائیکی وسیب کو یکسر نظر انداز کیا، اگر ٹکٹ دیئے تو عمران خان کی طرح وسیب کے فصلی بٹیرے جاگیرداروں کو ۔ جنہوں نے آج تک اسمبلی میں ماسوا ’’ اُباسی‘‘ منہ نہیں کھولااور نہ ہی وہاں عام آدمی کے مسئلے بیان کیے ۔ سرائیکی وسیب کے مسائل کو اجاگر نہ کرنے میں میڈیا نے بھی مجرمانہ کردار ادا کیا ۔ لاہور میں زیر زمین پانی کا لیول نیچے چلا گیا تو الیکٹرانک میڈیا نے اس پر طوفان بپا کیا لیکن اسے کبھی خیال نہیں آیا کہ سرائیکی وسیب میں انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ ایک طرف لاہور میں رنگین میوزیکل فوارے ہیں ، دوسری طرف چولستان میں لوگ پیاس سے مر جاتے ہیں ۔ افسوس کہ سرائیکی وسیب کو صرف صارفین کی منڈی تک نہیں سمجھا گیا اور حکمرانوں اور جاگیرداروں نے ایک بیگار کیمپ سے زیادہ اہمیت نہ دی ۔ وسیب کے لوگ اگر دو سو سالوں کے بعد اپنے حقوق ، اپنی شناخت اور اپنے صوبے کی بات کر رہے ہیں تو یہ کونسا جرم ہے ؟ یہ لوگ صوبہ ہی مانگ رہے ہیں ، الگ ملک نہیں۔ وسیب کی شناخت کا حکمران انکار تو کرتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ یہ کتنا حساس مسئلہ ہے کہ میاں شہباز شریف نے کراچی کو صرف ’’ کرانچی ‘‘ کہا تو وہاں طوفان بپا ہوا ، وسیب کے لوگ سرائیکی کہلوانے کیلئے اپنی شناخت نہ مانگیں تو کیا کریں ؟ مقتدر قوتوں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ وسیب کے لوگ نیا صوبہ نہیں مانگ رہے اور نہ ہی پنجاب کی تقسیم کی بات کرتے ہیں بلکہ تجاوزات کا خاتمہ چاہتے ہیں جو کہ رنجیت سنگھ اور ما بعد انگریز سامراج کے قبضے کے بعد پیدا ہوئی ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker