قسور سعید مرزاکالملکھاری

لہو میں نہاتا ہوا کشمیر: ایک نظر ادھر بھی /قسور سعید مرزا

اس وقت ایک ہنگامہ ہے جو سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو درپیش ہے‘ کسی کو تباہ حال معیشت اور ناکام خارجہ پالیسی کی فکر نہیں ہے‘ کسی کو پرواہ نہیں کہ بھارت کیا چال چل رہا ہے اور کس حد تک کمینگی پر اترا ہوا ہے۔ بھارت کی سفارتکاری اپنا کام دکھا گئی ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے سلسلہ میں ٹھوس اقدامات نہ کرنے کے باعث گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ یہ پاکستان کےلئے ایک بڑا اقتصادی‘ سفارتی و سماجی دھچکا ہے۔ ہمارے کسی بھی لیڈر یا حکام کی زبانوں پر بھارت کی داداگری کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی مظلوم کشمیریوں کے لئے ہمدردی کے دو بول ہیں جبکہ بھارت ہر محاذ پر پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ بھارت کی اب یہ خواہش ہے کہ پاکستان کو پانی کے ہتھیار سے سرنگوں کردے۔وہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بناکر پانی کو روکنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ چور ہے اور سینہ زور بنا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی سنگدلی کا واقعہ پیش آرہا ہے۔ کشمیری نوجوان خون میں نہاتے چلے جارہے ہیں اور زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتالوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ شہیدوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کےلئے سرینگر میں کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی جاتی ہے‘ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں کشمیری پاکستان کا سبزہلالی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نماز جنازہ میں شرکت کرتے ہیں اور بھارتی جبر کے خلاف نعروں کی گونج میں شہداءکو سپردخاک کیا جاتا ہے۔ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کے سامنے بھارتی فوجیوں کی پیلٹس فائرنگ اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ شرما کے رہ جاتی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندوں نے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور سلسلہ غنڈہ گردی جاری ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریاں اور شہادتیں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ نئی دہلی کے حکمرانوں نے خون مسلم کو ارزاں سمجھ رکھا ہے۔
انڈین فوج مکمل طور پر نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ پندرہ پندرہ سولہ سولہ سالہ بچوں کو برہنہ کرکے ان پر ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ سب کچھ اس کشمیر وادی میں ہورہا ہے کہ جہاں انڈیا کی سات لاکھ فوج چپے چپے پر کھڑی ہے۔ انڈین فوج اب تک ستر ہزار کے قریب کشمیری نوجوانوں کوشہید کرچکی ہے۔ سینکڑوں خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بناچکی ہے مگر آزادی کی جنگ ٹھنڈی ہونے کی بجائے مزید بھڑکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اب انڈیا کے اندر سے بھی کچھ انسانی آوازیں اس غاصبانہ قبضہ کے خلاف اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ مغربی ممالک کی حکومتیں اگر سنجیدگی سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں تو انڈیا کو دہشت گرد ملکوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے مگر یہ تو خود مسلم ممالک کو تباہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ہمارے سفارتخانوں میں پاکستان سے عشق کرنے والوں کی کمی نہیں۔ ان کو آگے لائیں اور کشمیر پر فوکس کریں۔ انڈیا مکمل طور پر بدحواس ہوچکا ہے۔ اب اس کے پاگل پن کا جواب دینا ضروری ہوگیا ہے۔ مودی ہند کے مسلمانوں پر ضرب پہ ضرب لگائے جارہاہے ۔ مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کردیا گیا ہے۔ گوشت کا کاروبار بند ہے، چمڑے کی اشیاءپر پابندی ہے‘ مسلمان کی معاشی طور پر کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے۔بھارت کے تمام طاقت ور ادارے مودی کے ساتھ ہیں۔ میڈیا مسلمان مخالفت میں حد سے بڑھا ہوا ہے۔ کشمیر میں ایک 8 سالہ کمسن بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی، احتجاج ہوا تو کشمیریوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ کہاں کا انصاف اور کہاں کی انسانیت۔ مقبوضہ کشمیر پر منڈلانے والے سیاسی بے یقینی اور کشت و خون کے خطرناک بادل اور بھی زیادہ گہرے ہوگئے ہیں۔ تین برس پرانی پی ڈی پی‘ بی جے پی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد اب جموں اور کشمیر میں گورنر راج نافذ ہوگیا ہے اور بالواسطہ طور پر مکمل اختیارات مرکز میں نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں۔ اب کشمیر کے سیاہ و سفید کی مالک بلا شرکت غیرے یہی حکومت ہوگی۔ بظاہر تو انتظامیہ گورنر نریندر ناتھ وہرہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اب کشمیر میں کیا ہوگا اور آزادی کے متوالوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائیگا، اس کا فیصلہ حکومتی سطح سے زیادہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ‘ آر ایس ایس کے کارندے رام مادھو اور قومی سلامی کے مشیر اجیت ڈوول جیسے لوگ کریں گے۔ زخموں سے چور چور وادی کشمیر نے غم و اندہ کے ماحول میں عیدالفطر منائی ۔ رمضان المبارک میں بھی انڈین فوج خون کی ہولی کھیلتی رہی‘ عید سے ایک دن پہلے ایک ممتاز صحافی شجاعت بخاری پر گولیوں کی پوچھاڑ کردی گئی‘ یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھا کیونکہ شجاعت بخاری ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایسی بلند و بانگ اور طاقتور آواز تھے جو تشدد اور قتل و خون سے پریشان کشمیریوں کے حق میں ہر محاذ اٹھتی تھی۔ وہ نامور ہونے کے ساتھ ساتھ ہر دلعزیز دوست بھی تھے۔ جس روز وادی میں آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے والی گھناؤنی حرکت ہوئی اسی روز بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان اورنگ کو اغوا کیا۔ اس پر تشدد کیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ آئے دن ایسا ہوتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت ایک طویل عرصے سے کشمیریوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے اس کی ایک جھلک اب بیرونی دنیا بھی دیکھ لے گی کیونکہ اقوام متحدہ نے گزشتہ ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آزاد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ مظلوم کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کا ایک چھوٹا سا اعتراف ہے لیکن یہ اس لحاظ سے ان کی بڑی کامیابی ہے کہ اقوام عالم کی تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ 2016ءکے بعد سے بھارتی سکیورٹی فورسز نے کشمیر میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں ان کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جولائی 2016 ءسے مارچ 2018ءکے درمیان سینکڑوں کشمیری شہری بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں جبکہ بہت سے نوجو ا ن مسلح گروپوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ اس سال مارچ تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ ضروری ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہورت کا اصل چہرہ دنیا والوں کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ بھارتی حکومت کو اب یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ کشمیریوں پرمظالم ڈھا کر وہ دنیا والوں کو اپنے امن پسند ہونے کا تاثر مزید نہیں دے سکتا۔ اسے بہرصورت کشمیری مسلمانوں کو حق خودارادیت دینا ہوگا کیونکہ اس مسئلہ کا حل صرف یہی ہے۔
کشمیریوں کی خونی جدوجہد اور اجلی لگن کبھی رائیگاں نہیں جائیگی اور یہ ہو کر رہے گا کہ تیری جنت میں آئیں گے ایک دن‘ وہ دن دور نہیں جب دونوں کشمیر ایک ہو جائیں گے اور کشمیر بنے گا پاکستان اور پھر پاکستان کشمیر کی طرح سرسبز ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker