شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مشتاق احمد یوسفی ، باتیں اور یادیں (1) : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

2015ءکے اوائل میں محترم امجد اسلام امجد نے اپنے ایک کالم میں مشتاق احمد یوسفی کی پانچویں کتاب ”شامِ شعرِ یاراں“ کی کراچی میں منعقدہ تقریبِ رونمائی کا احوال لکھا۔ اور اسی میں انہوں نے جب یہ انکشاف کیا کہ مشتاق احمد یوسفی کی یادداشت ختم ہو رہی ہے تو ہمیں تب ہی کھٹکا لگا کہ یہ چراغ اب بجھنے کی طرف جا رہا ہے۔ کچھ عرصے بعد امجد اسلام امجد ملتان آئے تو مَیں نے اُن سے مشتاق احمد یوسفی والے کالم کا ذکر کیا اور پوچھا کیا واقعی مشتاق احمد یوسفی کی یادداشت اب بہتر نہیں رہی؟ امجد صاحب کہنے لگے وہ کبھی کبھی بالکل نارمل انداز کی باتیں کرتے ہیں لیکن درمیان میں جب اُن کی یادداشت ختم ہوتی ہے تو اس سے معلوم ہوتا تھا کہ اب وہ نہ صرف دوستوں کو نہیں پہچانتے بلکہ کبھی کبھار وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ صاحبِ کتاب ہیں اور نامور ادیب ہیں۔ پھر امجد صاحب نے یہ بھی کہا اب یوسفی صاحب کی عمر بھی تو زیادہ ہو گئی ہے۔ اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہمارے درمیان سانس لے رہے ہیں۔ امجد صاحب کا یہ کہنا بجا تھا کہ یوسفی صاحب کا ہمارے درمیان سانس لینا بھی ایک اعزاز تھا۔ ویسے بھی ظہیر فتح پوری نے جب یہ بات کہی کہ ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں تو ظاہر ہے انہوں نے یہ بات سوچے بغیر نہیں کی ہو گی۔ اس کے پس منظر میں نہ صرف ان کی اُس وقت دو کتب تھیں بلکہ کسی کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ ”چراغ تلے“ اور ”خاکم بدہن“ کی تحریروں کا جادو اتنا سر چڑھ کے بولے گا کہ کوئی ان کے قریب بھی نہیں جا سکے گا۔ اس کے بعد جب ان کی تیسری کتاب ”زرگزشت“ آئی تو پڑھنے والوں نے سوچا کہ اس میں خوب مزے مزے کے قصے ہوں گے لیکن یہ کتاب بھی پہلی دو کتب کا تسلسل ثابت ہوئی۔ ان تین کتابوں نے مجھے مشتاق احمد یوسفی کے اتنا قریب کر دیا کہ مَیں جب بھی کبھی پریشان ہوتا تو یہ کتابیں میرے سرہانے موجود ہوتیں۔ ایک عجیب سی تسکین ملتی تھی جب مَیں اُن کتابوں میں موجود لفظوں پر اپنی نظریں اور توجہ کر لیتا۔ یوسفی صاحب کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تمام کتابوں کے ایڈیشنز کو اگر جمع کریں تو اس کی تعداد ہزاروں کی بجائے لاکھوں میں بنتی ہے۔
مشتاق احمد یوسفی کا فن ایسا نہیں ہے کہ جس کا ہم اُن کے کسی بھی ہم عصر سے موازنہ کریں۔ ان کے انتقال کے بعد اور زندگی میں بے شمار لکھنے والوں نے شفیق الرحمن سے لے کر ابنِ انشائ، پطرس بخاری اور اس طرح کے بےشمار مزاح نگاروں سے ان کا تقابل کیا لیکن یقین کیجئے مزاح نگاروں کے ہجوم میں مشتاق احمد یوسفی اکیلے ہیں اور اکیلے ہی رہیں گے۔ یوسفی صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک پیرا لکھنے میں کئی دن صرف کرتے ہیں اور ایک فقرے کو درجنوں بار لکھ کر کاٹتے ہیں، پھر لکھتے ہیں پھر کاٹتے ہیں اور پھر انہی کا فرمایا ہوا یہ جملہ تو اُن کے تمام پڑھنے والوں کو معلوم ہے:
”مَیں اپنا مضمون مکمل کر کے ’پال‘ میں لگا دیتا ہوں“
جیسے کچے آموں کو پکنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے اور پھر ایک خاص مدت گزر جانے کے بعد اس مضمون کے پکنے کے بعد بھی وہ اپنے پال لگے مضمون کو دوبارہ سے تراش خراش کر کے کاتب کے حوالے کرتے تو معلوم یہ ہوتا کہ جب کتابت ہو کر مسودہ ان کے پاس آتا تو اس پر بھی مزید محنت کرنے سے باز نہ آتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یوسفی صاحب نے اپنی تحریروں کے معاملے میں اتنا سخت معیار کیوں رکھا؟ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہیں معلوم تھا چراغ تلے اور خاکم بدہن نے لوگوں کے ذہنوں میں اُن کا جو معیار قائم کر دیا ہے اس کو بھی وہ برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ معیار ”آبِ گم“ تک تو قائم رہا لیکن ”شامِ شعرِ یاراں“ جب کتابی صورت میں شائع ہو کر آئی تو ایسا معلوم ہوا جیسے ہم مشتاق احمد یوسفی کی بجائے اُن جیسے کسی مزاح نگار کی تحریر کو پڑھ رہے ہیں۔ ویسے بھی شامِ شعرِ یاراں جس وقت شائع ہو کر آئی اس وقت تک اُن کی یادداشت کا معاملہ خراب ہونا شروع ہو چکا تھا۔ اور سننے میں یہ آیا ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی احباب سے اس کتاب کو OWN بھی نہیں کیا۔ ہم نے یہ بھی سوچا کہ اگر یوسفی صاحب نے اس کتاب کو Own نہیں کیا تو Disown بھی نہیں کیا۔ کہ وہ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی میں بھی شریک ہوئے اور یہ کتاب بھی اُن کے لاہور والے پبلشر نے شائع کی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اس کتاب میں اُن کے وہی مضامین ہیں جو مختلف تقریبات میں انہوں نے پڑھے یا مختلف جرائد نے ان سے فرمائشی طور پر لکھوائے۔ چونکہ یہ کتاب اس وقت منظرِ عام پر آئی جب مشتاق احمد یوسفی خود بیماری کی وجہ سے ’پال‘ میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے اسی زمانے سے کس نے فائدہ اٹھا کر ”شامِ شعرِ یاراں“ شائع کروانے کا فیصلہ کیا اس سوال کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے۔
اب اگر ہم مشتاق احمد یوسفی کے مجموعی فن کی بات کرتے ہیں تو ان کے لیے یہ کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے 2017ءمیں فیس بک کے مقبول ترین ادبی فورم ”بزمِ یارانِ اُردو“ کے تحت مشتاق احمد یوسفی کی محبت میں ایک مقابلہ کروایا گیا اور نئے لکھنے والوں کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ یوسفی صاحب کے اندازِنگارش کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا تعارف تحریر کریں۔ جس پر تئیس (23) نئے لکھنے والوں نے مشتاق احمد یوسفی کی کتاب چراغ تلے کے دیباچے ”پہلا پتھر“ کو سامنے رکھ کر اپنے اپنے تعارف لکھے۔ یہ مشتاق احمد یوسفی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک بالکل نیا انداز تھا جس کی اُردو ادب میں کوئی باقاعدہ روایت نہیں۔ اس کتاب کا نام ”نقش پائے یوسفی“ رکھا گیا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ان 23 لکھنے والوں میں اگرچہ کوئی بھی ایسا نام نہیں جس کو ہم معروف لکھنے والا قرار دیں۔ لیکن جب تک مشتاق احمد یوسفی کا ذکر زندہ رہے گا یہ مضامین بھی ان کی نسبت سے یاد رہیں گے۔
یوسفی صاحب چلے گئے یار لوگوں نے لکھا کہ وہ 94 برس جیئے۔ ہم نے اُن کی زندگی پر ہجری اعتبار سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ اس دنیا میں یکم محرم الحرام 1340ھ کو آئے اور وہ شوال 1439ھ میں جدا ہوئے۔ یوں اُن کو مَیں 99 ناٹ آؤ ٹ اس لیے کہوں گا کہ وہ ہمیشہ اپنی تحریروں کے ذریعے زندہ رہیں گے۔ (جاری ہے)
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker