2018 انتخاباتظہور احمد دھریجہکالملکھاری

عمران خان زندہ باد… مگر؟: وسیب / ظہور دھریجہ

الیکشن میں عمران خان نے بڑے بڑے برج الٹ دیئے، بڑے بڑے سیاستدان ہار گئے، حیران کن نتائج سامنے آئے، ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تجھے بھی لے ڈوبیں گے، کے مصداق میاں شہباز شریف نے ڈی جی خان سے لغاری سرداروں کا بھی تختہ کرا دیا، اسی طرح عمران خان نے مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، اسفند یار ولی خان، محمود اچکزئی، آفتاب خان شیر پاؤ، مخدوم یوسف رضا گیلانی، چودھری نثار، جمشید دستی، شاہد خاقان عباسی، عابد شیر علی، رانا ثناء اللہ اور ایم کیو ایم کے فاروق ستار تو کیا پوری ایم کیو ایم کو ہی الٹا کر رکھ دیا، وسیب کی طرف سے مبارکباد کے ساتھ عمران خان زندہ باد کے نعرے بلند ہو رہے ہیں مگر اقتدار پھولوں کی سیج نہیں، الیکشن امتحان کے بعد اصل اور کڑا امتحان اب شروع ہونے والا ہے، عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبہ کے ساتھ ساتھ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان میاں شہباز شریف نے بھی کیا تھا، دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنے اعلان پر کس قدر عمل کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ پس ماندہ علاقوں کو لاہور، اسلام آباد کے مقابلے میں کتنی یونیورسٹیاں اور وسیب کے کروڑوں انسانوں کو صوبے کا تحفہ کب دیتے ہیں؟ آئندہ وزیر اعظم کون ؟ کی بحث ختم ہوئی، اب نئی بحث شروع ہوئی ہے کہ پنجاب اور دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کون ہوں گے؟ ملتان سے مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر اس لئے الیکشن میں حصہ لیا تھا کہ وہ پنجاب کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے لیکن صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے مخدوم شاہ محمود قریشی کے امیدوار بننے پر وسیب کے لوگ حیران بھی تھے اور پریشان بھی، ایک طرف وسیب کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا کہ اُن کو پنجاب کی غلامی سے نجات دلائیں گے اور کامیابی کے بعد 100دن کے اندر صوبہ بنائیں گے، دوسری طرف مخدوم صاحب اسی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے جا رہے تھے تو صوبہ کیسے بنتا ؟ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے متوقع امیدوار مخدوم شاہ محمود قریشی اپنی ہی جماعت کے ایک کارکن محمد سلمان نعیم سے ایم پی اے کی سیٹ ہار گئے، اس شکست میں دوسروں سے زیادہ اپنوں کا ہاتھ ہے اور گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کی مصداق ، جو اَپ سیٹ ہوا ہے اپنوں کی طرف سے ہوا ہے، کہا جا رہا ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو دوسرے حلقے کی بجائے اپنے گھر کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لینا چاہئے تھا کہ یہ محفوظ سیٹ تھی مگر یہ بات کوئی نوٹ نہیں کر رہا کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، تحریک انصاف کا ایک طاقتور طبقہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر نہیں دیکھنا چاہتا کہ یہ منصب ایک لحاظ سے وزیر اعظم کے منصب سے بھی بڑا منصب ہے، تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے منتخب رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم کو سب سے پہلے مبارکباد دی اور عمران خان کی طرف سے ملاقات کا پیغام بھی دیا، اس سے ساری کہانی سمجھ آجاتی ہے، لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہیں پنجاب سے الگ صوبہ لینا چاہئے کہ یہ تحریک انصاف کا منشور بھی ہے اور وسیب کے لوگوں سے کیا گیا وعدہ بھی۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے صوبے کے وعدے کے بعد وسیب میں نیا جوش اور نیا ولولہ سرائیکی صوبے کے حوالے سے پیدا ہوا اور وسیب کے لوگوں نے اپنے ولولے کا اظہار ووٹ کی پرچی سے کیا کہ چونکہ وسیب کے لوگ پہلے سے ن لیگ کے ڈسے ہوئے تھے۔ وسیب کے لوگوں کیلئے یہ بات صدمے کا باعث تھی کہ ن لیگ نے پنجاب اسمبلی سے دو صوبوں کی قرارداد پاس کرائی اور 2013ء کے الیکشن میں اپنے منشور میں واضح طور پر لکھا کہ ہم پنجاب سے دو نئے صوبے بہاولپور صوبہ اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے، مگر بھاری مینڈیٹ کے باوجود ن لیگ نے دو تو کیا ایک صوبہ بھی نہ بنایا، اس دوران (ن) لیگ نے ملتان سب سول سیکرٹریٹ کا لولی پاپ دیا اور آخر میں آکر اُس سے بھی مکر گئے، بات یہیں تک نہ ٹھہری بلکہ (ن) لیگ نے 2018ء کے الیکشن کیلئے جو منشور جاری کیا اُس میں بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ کے منشور والی شق اڑا دی، حالانکہ کسی بھی جماعت کا منشور اس کا ایمان ہوتا ہے، ن لیگ کی اس بے وفائی پر وسیب کے لوگوں میں شدید غم و غصہ پید اہوا اور انہوں نے اپنے غصے کا اظہار ووٹ کی پرچی کے ذریعے کیا، مجھے دھریجہ نگر میں عمران خان کا ایک متوالہ کہہ رہا تھا کہ میں غریب آدمی ہوں ورنہ میرا دل کرتا ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم اور سرائیکی صوبہ بننے پر مبارکبادی کے 50 لاکھ اشتہار چھپوا کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پورے وسیب میں تقسیم کراؤں، میں نے کہا ابھی ٹھہرو عمران خان نہ ابھی وزیر اعظم بنے ہیں اور نہ سرائیکی صوبہ تو اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا سمجھو یہ دونوں کام ہو گئے، میری عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت سے اتنی درخواست ہے کہ وہ اپنے تحریری وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے صوبے کے قیام کیلئے اقدامات شروع کر دیں تاکہ اُن کے پرستاروں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔100 دنوں کے وعدے کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، ایک ایک کرکے 100 دن کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اہل ملتان کو مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کی شکست کا افسوس ہے، کہا جا رہا ہے کہ وہ تھوڑے ووٹوں سے ہارے اور اُن کی شکست کا باعث بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ مرحوم کی جماعت پاکستان سرائیکی پارٹی کے امیدوار ملک اللہ نواز وینس اور ایک آزاد امیدوار بنے، اس بات میں کتنی حقیقت ہے اس پر تجزیہ اور تبصرے ہوتے رہیں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی کے بہت سے قریبی لوگوں نے انہیں کہا کہ آپ سرائیکی جماعتوں کی حمایت حاصل کریں اور پارٹی سربراہ ڈاکٹر نخبہ لنگاہ سے ان کے والد بیرسٹر تاج لنگاہ سے پرانے تعلق کے حوالے سے بات کریں مگر گیلانی صاحب نے صاف انکار کیا، اور کہا کہ میں اپنے بل بوتے پر الیکشن جیتوں گا، بہرحال جو ہونا تھا ہو گیا، آگے کیلئے سوچنا چاہئے تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ ایک سخت تکلیف دہ ہے کہ سرائیکی پارٹی کے امیدوار نے کروڑوں خرچ کئے، ہمیں افسوس ہے اگر یہ سرمایہ سرائیکی صوبہ تحریک پر خرچ ہوتا تو وسیب کے مستقبل کیلئے اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے تھے، اس کے ساتھ مخدوم یوسف رضا گیلانی کی شکست کے حوالے سے لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ موصوف اپنے تین بیٹوں کے ساتھ سیاسی میدان میں اترے، پیپلز پارٹی پرانی اور بڑی جماعت ہے، پارٹی میں وہ لوگ بھی ابھی زندہ ہیں جو مخدوم یوسف رضا گیلانی سے پہلے پارٹی میں آئے، کیا یہ مناسب نہ تھا کہ اُن کو بھی پارٹی ٹکٹ دیئے جاتے اور وہ بھی الیکشن میں حصہ لیتے؟ انتخابات کو جمہوری عمل کا نام دیا جاتا ہے، ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی اپنے اندر جمہوریت لے آئیں اور موروثی سیاست کا خاتمہ کرنے کیلئے آئین سے وہ شق ختم کرائیں جس نے جماعتوں کو خاندانوں کی میراث بنا دیا ہے۔ عمران خان کی کامیابی پر مختلف تبصرے ہو رہے ہیں، کوئی کہہ رہاہے کہ عمران خان کی ’’پیرنی‘‘ (ان کی زوجہ محترمہ) کی کرامت ہے، کوئی اسے اُن کی ماں کی دعاؤں کا ثمر قرار دے رہا ہے، جن کے نام پر عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا ہے، پیری مریدی کے مقابلے میں ماں والی بات بہت ہی اہم ہے، مجھے جمائما خان کا یہ بیان اچھا لگا کہ میں خوش ہوں میرے بیٹوں کا باپ وزیر اعظم بن رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker