2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

2018 کے انتخابی نتائج جمہوریت کو مستحکم کریں گے / سید مجاہد علی

پاکستان کے حالیہ انتخابات یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ اگر جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے اور لوگوں کو آزادانہ ماحول میں اپنی رائے دینے کا حق و اختیار حاصل ہو تو اجتماعی ذہانت ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرسکتی ہے۔ ان انتخابات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملک کے عوام سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے اور اس قیادت کو ووٹ کے ذریعے اقتدار سونپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے خیال میں ملکی مسائل کو سمجھنے اور ان کا مناسب حل تلاش کرسکتی ہے۔ اگرچہ حالیہ انتخابات کے بارے میں قومی اور عالمی سطح پر شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا اور الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج میں تعطل اور بعض معاملات میں حد درجہ تساہل اور بدانتظامی کا مظاہرہ کرکے، ان شبہات کو مزید قوی کیا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں اسٹبلشمنٹ کی پسندیدہ جماعت ہونے کے الزامات سامنے آرہے تھے اور کہا جارہا تھا کہ اس پارٹی کا مقابلہ کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی عوام کی بڑی تعداد نے 25 جولائی کو ووٹ دیتے ہوئے عمران خان کی قیادت پر بھروسہ کرکے ایک نئی سیاسی قوت کو ملک کا انتظام چلانے کا موقع دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی کامیابی کے بارے میں اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ شاندار کامیابی نہ تو الیکشن سے پہلے یا اس کے دوران فراہم کی جانے والی کسی درپردہ مبینہ اعانت کی وجہ سے ملی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف بطور پارٹی یہ انتخاب جیتی ہے۔ یہ کامیابی عمران خان کی ذاتی کامیابی ہے۔ وہ ذاتی طور پر ہی اپنی حکومت کی کاکردگی کے لئے جوابدہ بھی ہوں گے۔
ایک لحاظ سے کسی ایک فرد کے وعدوں اور دعوؤں کا اعتبار کرتے ہوئے اسے ملک کی حکومت بنانے کا اختیار سونپنا سیاسی جؤا بھی ثابت ہو سکتا ہے اور یہ رویہ کلاسیکل جمہوری روایت کے بھی برعکس ہے، جس میں ووٹر سیاسی پارٹیوں کے منشور اور کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی حمایت یا مخالفت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں جمہوریت کا سفر چونکہ متعدد نوعیت کی مشکلات کا شکار رہا ہے جن میں غیر جمہوری قوتوں کی بار بار مداخلت کے علاوہ 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں ملک کا دو لخت ہونا بھی اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی مختصر تاریخ میں تین آئین بنائے گئے اور مختلف قسم کے جمہوری نظام کے تجربے کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چئیر مین ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں 1973 میں البتہ ایک ایسا متفقہ آئین منظور کیا گیا جسے آج بھی ہر طبقہ فکر کی حمایت حاصل ہے۔
اس دوران بھی دو فوجی حکمرانوں نے ملک کے آئینی سفر کو دشوار بنانے میں افسوسناک کردار ادا کیا لیکن اس کے باوجود اس آئین کو آج بھی ملک کے سیاسی اور سماجی تناظر میں بہترین دستاویز کی حیثیت حاصل ہے اور اسے وسیع تر سیاسی حمایت بھی میسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے بعد شروع ہونے والے جمہوری دور میں تیسرے انتخاب منعقد ہوئے ہیں۔ ان تینوں انتخابات کے بارے میں تنازعہ موجود رہا ہے۔ خاص طور سے 2013 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے تسلسل سے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی کا شور مچایا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دھرنا اور مظاہروں کی سیاست کرتے ہوئے عمران خان نے منتخب قومی اسمبلی پر ’لعنت‘ بھیجنے جیسے سنگین الفاظ بھی استعمال کئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسے ملک کے آئین اور عوام کی کامیابی سمجھا جائے گا کہ وہی عمران خان لوگوں سے ووٹ مانگ کر اور حاصل کرکے اب قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر ملک میں آئیندہ حکومت بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں کی گئی بعض آئینی ترامیم کے علاوہ خود بھٹو صاحب نے ملک کے مذہبی عناصر کو خوش کرنے کے لئے جو ترامیم 1973 کے آئین میں شامل کی تھیں، ان کی وجہ سے اقلیتوں کے حقوق اور منتخب ارکان کی صورت حال کے حوالے سے ملک کے آئین میں سقم موجود ہیں جنہیں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی صورت میں ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ آئین کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے ملک کی احمدی اقلیت نے دو روز پہلے منعقد ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ملک کا میڈیا اور سیاست دان چونکہ انتخابات میں دھاندلی اور اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے موضوعات پر مباحث میں مصروف تھے جس کی وجہ سے ملک میں تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ایک چھوٹی سی اقلیت کے اس افسوسناک اقدام کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر نے یہ یقین دلوانے کی کوشش کی کہ منتخب ہونے کے بعد وہ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے جن کی وجہ سے ملک کی ایک اقلیت انتخابی عمل سے خود کو علیحدہ کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔
کوئی بھی باوقار اور قابل اعتبار معاشرہ اس کمی کو دور کئے بغیر نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی جمہوری عمل کو سب کے لئے فعال اور مؤثر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری بنانے کے لئے اقلیتوں میں یہ احساس پیدا کرنا ضروری ہوگا کہ وہ بھی معاشرے کا قابل قدر حصہ ہیں اور اگر انہیں انتخابی عمل سے کوئی جائز شکایات ہیں تو ان کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ایسی ہی بعض آئینی ترامیم کی موجودگی کی وجہ سے ملک کی عدالتوں کو سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد لیڈروں کو ’امین و صادق‘ نہ سمجھتے ہوئے نااہل قرار دینے کا موقع ملا تھا۔ خود عمران خان بمشکل اس آئینی شق کا شکار ہونے سے بچ پائے تھے جبکہ ان کے قریبی معتمد جہانگیر ترین کو انہی شقات کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ منتخب ہونے اور حکومت بنانے کے بعد عمران خان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس قسم کی آئینی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے کام کریں تاکہ عوام کے حق انتخاب کا احترام مستحکم ہو اور عدالتیں لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلیوںمیں جانے والے لوگوں کے بارے میں یہ فیصلے صادر کرنے سے بچ سکیں کہ کون سچا اور دیانت دار ہے۔
دو روز قبل منعقد ہونے والے انتخابات کا یہ پہلو بھی روشن ہے کہ اب ملک میں تیسری سیاسی قوت وفاقی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام میں دو بڑی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے ایسی تیسری سیاسی قوت کا سامنے آنا خوش آئیند ہے جسے وفاق کی تمام اکائیوں میں نمائیندگی حاصل ہے اور جو سب صوبوں میں سیاسی موجودگی ثابت کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ اب ملک میں تین پارٹیاں ملک کے سب صوبوں میں سیاسی طور سے متحرک ہیں۔ اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کی پارٹی ہے اور تحریک انصاف خیبر پختون خوا کی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ تینوں پارٹیاں دوسرے سب صوبوں میں سیاسی کام میں مشغول ہیں اور وہ علاقائی پارٹی بننے کو امتیاز نہیں سمجھتیں۔
پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخاب میں ناکامی کے باوجود موجودہ انتخابات میں سب صوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں سخت دباؤ میں ہونے کے باوجود باقی صوبوں پر بھی توجہ دی اور وہاں سے انتخاب میں حصہ لیا۔ اگرچہ اس بار ان دونوں پارٹیوں کو اس مقصد میں بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر یہ پارٹیاں اپنے گڑھ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی سیاسی کام جاری رکھیں گی تو انہیں مستقبل میں کامیابی حاصل ہوسکے گی۔ اس طرح ملک میں تین توانا سیاسی قوتیں متبادل سیاسی پروگرام کے ساتھ عوام کے سامنے جا سکیں گی۔ یوں کامیاب ہونے والی پارٹی پر کارکردگی بہتر کرنے کا دباؤ بڑھے گا اور ناکامی کی صورت میں عوام کے پاس ایک کی بجائے دو متبادل موجود ہوں گے۔ ان کے علاوہ وہ سیاسی پارٹیاں بھی اس جمہوری عمل کو قوت بخشنے کا سبب بنیں گی جو ایک خاص علاقہ تک ہی اپنا سیاسی کام جاری رکھ سکتی ہیں۔
انتخابات سے قبل درپردہ قوتوں کی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے الیکٹ ایبلز کو تحریک انصاف میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کا حوالہ دیا جاتا رہا تھا۔ اس کے علاوہ آزاد ارکان اور ان میں جیپ کے نشان کی مقبولیت سے بھی یہ تاثر قوی ہؤا تھا کہ عسکری ادارے ان لوگوں کو کامیاب کرواکے سیاسی جوڑ توڑ میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم انتخابی نتائج کے بارے میں جو معلومات اب تک سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے نام نہاد الیکٹ ایبلز کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اکثر صورتوں میں تحریک انصاف کا امیدوار ہونے کے باوجود انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح قومی اور صوبائی سطح پر نہ صرف جیپ کے نشان والے امید وار بری طرح ناکام رہے بلکہ آزاد ارکان بھی بہت زیادہ تعداد میں کامیاب نہیں ہوئے۔
تصویر کے اس رخ سے عوام کی سیاسی بلوغت کا اظہار ہوتا ہے۔ مرکز کے علاوہ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے بڑی پارٹیوں کو بہر حال ایک خاص حد تک آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے باوجود عمومی طور سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام نے آزاد حیثیت میں انتخاب جیت کر اسے سیاسی بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرنےوالے عناصر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اب اگر سیاسی جماعتیں بھی ووٹروں کی طرح ایسے عناصر کی غیر ضروری پذیرائی سے گریز کی روایت کو مستحکم کرسکیں تو مستقبل میں جمہوری عمل مزید شفاف ہوسکے گا۔ ایسی روایات مستحکم ہونے کی وجہ سے ہی عوام کسی ایک لیڈر کے سحر میں مبتلا ہو کر ووٹ دینے کی بجائے، پارٹی پروگرا م اور کارکردگی کے مطابق ووٹ دینے کا شعار اپنائیں گے۔
یہ اطلاعات امید افزا ہیں کہ ملک کی بیشتر سیاسی قوتیں انتخابی عمل کے بارے میں شکایات کے باوجود نتائج کو ماننے اور جمہوری عمل میں کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کرہی ہیں۔ عوام نے ایک پارٹی کو ملک کے ہر حصے میں کامیاب کروا کے پاکستان میں علاقائی انتشار اور بے چینی کی افواہوں کو بھی دفن کردیا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اس بات کا احساس موجود رہنا چاہئے کہ انہیں یہ کامیابی خیر سگالی کے اظہار کے طور پر نصیب ہوئی ہے۔ عوام نے ایک نئی قیادت کو بہتر نتائج دکھانے کے لئے منتخب کیا ہے۔ اگر وہ اس مقصد میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2023 کے انتخابات صرف پانچ برس کی دوری پر ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker