ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

وزیراعلیٰ کو کون بتائے ؟۔۔ظہوردھریجہ

یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہے کہ سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندوں کی سیاست کا محور ہمیشہ تھانہ کچہری رہی ، وسیب کے مسائل اور وسیب کی ترقی بارے انہو ںنے کبھی نہیں سوچا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار وسیب کے مسئلے حل کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو مسائل کے بارے بتانے والا کوئی نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سرائیکی تعلیم کا معاملہ ہمیشہ حساس رہا ہے ،ایک ہی ملک ہے ،سندھ میں بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے ، وہاں پر پہلی سے ایم اے تک سندھی لازمی ہے مگر سرائیکی ‘ پنجابی ‘ بلوچ ‘ پشتون ‘ کشمیری و دیگر اس حق سے محروم کیوں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایک ہی ملک ، ایک ہی آئین ہے مگر جو حق سندھ کوحاصل ہے ، دوسروں کو کیوں نہیں ؟ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے وسیب کے منتخب ہونے والے اسمبلیوں میں جاتے ہیں ، آنے جانے کا ٹی اے ڈی اے اور تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں مگر اسمبلی میں ماسوا خاموشی کچھ نہیں کرتے۔یہ مرتے ہیں ، پھر ان کی اولادیں آ جاتی ہیں۔ انگریز دور سے آج تک یہی تماشا لگا ہے ، لیکن ایک ستم یہ بھی ہے کہ صرف عوامی نمائندے ہی نہیں ، عوام بھی ایسے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی سوچ تبدیل کرنے کیلئے عوامی سوچ کی تبدیلی ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے ہاتھوں کو قدموں کا نہیں گریبانوں کا آشنا کرنا ہوگا۔ میں جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ درمیان میں رہ گئی۔ بات در اصل یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تک وسیب کے مسائل بارے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں۔ سینئر بیورو کریٹ اطہر علی خان نے پچھلے دنوں مجھے فون پر کہا کہ آپ وسیب کے مسائل بارے لکھتے ہیں ، اچھی بات ہے مگر یہ مسائل ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ صاحب اور وزیراعظم صاحب کے نوٹس میں لائیں تو زیادہ بہتر ہے اور اس کے یقینا مثبت نتائج برا?مد ہونگے۔ ان کی بات درست مگر میں بھی اپنا فرض ادا کرتا رہوں گا اور وسیب کے مسائل اجاگر کرتا رہوں گا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ تعلیم ایک حساس مسئلہ ہے۔ اخبارات میں شائع ہونیوالی خبر کے مطابق محکمہ تعلیم صوبہ میں میل اور فی میل لیکچررز کی 2978 اسامیاں مشتہر کر رہاہے ، یہ اسامیاں اردو ، انگریزی سمیت مختلف سبجیکٹ سے متعلق ہیں۔ سرائیکی وسیب کے کالجوں میں سرائیکی پڑھنے والے طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وسیب کے 95 فیصد کالجوں میں سرائیکی پڑھانے والا کوئی استاد نہیں ، وسیب کے کالجوں میں سرائیکی لیکچررز نہ ہونے کے باعث وسیب کے طلبہ فارسی اور دوسری بدیسی زبانیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ وسیب کے ہر ضلع اور تحصیل کے میل اور فی میل کالجوں میں کم از کم ایک سرائیکی لیکچرر کی پوسٹ ضرور دیں۔ اسی طرح دیگر مضامین کی اسامیوں میں بھی سرائیکی وسیب کا الگ کوٹہ بڑھائیں۔ اگر سرائیکی لیکچررز کی اسامیاں نہ ملیں تو یہ بہت افسوسناک بات ہوگی کہ سابق صوبائی وزیر اقبال چنڑ نے بہادری کا مظاہرہ کر کے میاں شہباز شریف سے بھی سرائیکی لیکچرر کی اسامیاں منظور کرائیں تھیں ، اب تو وسیب سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں جو وسیب کے لوگوں کے ووٹوں سے اس مقام پر پہنچے ہیں ، اگر آج بھی حق نہ ملا تو پھر کب ملے گا؟ سرائیکی وسیب کے کالجوں میں ایف اے میں سرائیکی گزشتہ 8،9 سال سے پڑھائی جا رہی ہے ، لیکچررز بھی تعینات ہیں ، مگر بچوں کے پڑھنے کیلئے ابھی تک پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے کتاب شائع نہیں کی گئی۔ ہم مطالبات کر کر تھک گئے لیکن ہمارے مطالبے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ اسی طرح میٹرک میں سرائیکی پڑھانے کیلئے بھی نصاب گزشتہ 3 سال سے منظور ہے ، مگر میٹرک سرائیکی کی کتاب بھی نہیں شائع کی گئی اور نہ ہی سکولوں میں سرائیکی پڑھانے کیلئے استاد بھرتی کئے گئے ، ایک ظلم یہ بھی کہ گزشتہ سال جب ایجوکیٹرز کی اسامیاں مشتہر کی گئیں تو ایم اے سرائیکی والے اس کے اہل نہیں تھے ، جس سے سخت مایوسی پھیلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اس بارے بھی غور کریں کہ میں نے پہلے بھی عرض کی کہ سرائیکی وسیب سے منتخب نمائندوں کی سیاست کا محور صرف اور صرف تھانہ کچہری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرائیکی خطہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں کہ انصاف کی دعویدار جماعت کے اقتدار میں ا?نے کے بعد بھی سرائیکی وسیب کو انصاف نہیں مل رہا۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے گریڈ 20 کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور گریڈ 21 کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کئے ہیں جو کہ 39 میں سے صرف 2 کا تعلق سرائیکی وسیب سے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ خطہ جو کہ ملازمتوں سمیت تمام وسائل میں سے نصف حصے کا حقدار ہے کو نظر انداز کیوں کر دیا جاتا ہے ؟ اگر غور سے دیکھا جائے تو کل کے مقابلے میں آج وسیب سے نا انصافی بڑھ چکی ہیں اور سرائیکی وسیب سے بھی بنگالیوں جیسا سلوک ہونے لگا ہے۔ کیا اس کا نام تبدیلی ہے ؟ الیکشن سے پہلے کہا گیا کہ اقتدار میں آ کر پہلے سو دن میں صوبہ بنائیں گے، جب اقتدار مل گیا تو پھر کہا گیا کہ 100 دن میں سول سیکرٹریٹ بنائیں گے۔ مگر جب سو دن گزرے تو نہ صوبہ بنا اور نہ ہی سول سیکرٹریٹ۔ وزیراعظم کے مشیر نے اپنی تقریر میں سرائیکی قوم کو چھ ماہ کا مزید لولی پاپ دے دیا اور کہا کہ آئندہ سال جون تک سول سیکرٹریٹ بنا دیا جائے گا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح سرائیکی وسیب کے لوگوں سے مذاق کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے بھی انصاف نہ ملنے کی وجہ سے سرائیکی وسیب میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کہہ رہی ہے کہ صوبہ بناﺅہم ساتھ دیں گے مگر تحریک انصاف لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ اب کسی بات کا کوئی جواز باقی نہیں کہ صوبہ کمیشن بنانے میں تاخیری حربے استعمال کئے جائیں۔ وسیب کے لوگوں سے مذاق بند ہونا چاہئے ‘ لولی پاپ نہ دیئے جائیں ، صوبہ بنایا جائے۔ تحریک انصاف کو لوگوں نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیئے۔ اِدھر جنوبی پنجاب صوبہ محاذوالوں نے بھی ٹکٹوں اور وزارتوں کے بدلے صوبے کے ایشو کو فروخت کر دیا لیکن اب بھولے سے بھی صوبے کا کوئی نام لینے کو تیار نہیں ‘ لیکن سرائیکی وسیب سے جس نے بھی بیوفائی کی، اسے رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا، ہم باور کرا رہے ہیں کہ اپنے وعدے کے مطابق صوبہ بنائیں ، ورنہ وسیب کے لوگ سڑکوں پر احتجاج کریں گے ، دھرنے اور لانگ مارچ ہونگے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker