14فروری کادن جیسے ہی آتاہے مختلف اورمتضاد بیانیات آنے شروع ہوجاتے ہیں ۔ایک عجیب طرح کی بحث بے ہنگم سی پوسٹیں ۔۔ بہت کچھ دیکھنے کوملتاہے اورمعاملہ کوئی بھی ہو مذہب کوہر چیز میںگھسیٹنابھی ہمارااولین فریضہ ہے۔قارئین کرام ناراض مت ہوں اگراسلام کوزحمت دینی ہے تو پھر ملک سے ہیررانجھا ۔۔ سسی پنوں ،شیریں فرہاد ،عذراوامق ،لیلیٰ مجنوں کی داستانوں کو بین کرناہوگا جنہیں ہم اپنی لوک داستان کہتے ہیں جن پربیشمار فلمیں بنیں اورہمارے ملک میں ریکارڈبزنس بھی ہوا ۔میں ویلنٹائن ڈے کی حامی نہیں ہوں میرامسئلہ کچھ اورہے جس کی طرف میں گردوپیش کے قارئیںن کو متوجہ کرناچاہتی ہوں ۔
میری نظر سے ایک پوسٹ گزری کہ 14فروری بے حیائی کادن ہے لہذاہم اس روز حیاڈے منائیں گے ۔صرف 14فروری کوہی کیوں ؟ابھی پچھلے ہفتے واک کرتی ہوئی لڑکی کواسلام آبادمیں بے عزت کیاگیاکہ وہ حیا ڈے نہیں تھا ۔ہم اس ملک کے باسی ہیں جہاں کے لوگ سب سے زیادہ حج اورعمرہ کرتے ہیں ۔ایک چھوٹی سی گلی میں اورہرآدھے فرلانگ سے بھی کم فاصلے پرمسجد ملے گی ،میرے خیال میں جتنی مسجدیں پاکستان میں ہیں دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہیں ،بتاسکتے ہیں آپ کہ اس کے باوجود ہم اخلاقیات کے نچلے درجے پرکیوں ہیں کرپشن میں پاکستان کانمبرپہلا،بے انصاف ملکوں کی فہرست میں ہم پہلے نمبروں پر،غلیظ شہروں میں کراچی کانمبردوسرا ،جبکہ ہم توصفائی نصف ایمان والے لوگ ہیں ،مدینہ کے اسلاف کی باتیں کرتے ہیں جب سیاسی رہنماﺅں کی بات کریں تو کہتے ہیں سیاست ہے یہ مذہب کاکیاتعلق ہے یہاں ،کون ساسیاسی لیڈرہے آپ کا جواسلام کے نظریات پرپورااتررہاہو ،کوئی ایک گنواسکتے ہیں ؟ماشاءاللہ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں سب سے زیادہ دینی مدارس ہیں ۔حفاظ قرآن کی تعداد بتانامشکل ہے ۔بدتہذیبی کی انتہا ءیہ ہے کہ کسی پبلک ٹوائلٹ میں گھس نہیں سکتے کیااپنے گھر میں بھی ایسے ہی گندگی پھیلاتے ہیں ۔کسی بھی گلی میں داخل ہوں گیٹ کے سامنے اتنااونچا اوربڑاپائیدان بناہوگا کہ آدھی گلی تک پہنچاہوا۔ہرشخص کی کوشش ہوگی کہ ایک اینٹ باہر کی طرف رکھ دے ۔کیاناجائز قبضہ نہیں ہے ؟
بدقسمتی کی انتہاءاوربداخلاقی کی عمیق گہرائی اورکیاہوگی کہ نمازی مسجد میں ہر شخص اپنا جوتا سامنے رکھ کرنمازپڑھنے پرمجبورہوورنہ گھر ننگے پاﺅں جاناپڑے گا،کسی بھی عوامی جگہ پرتشریف لے جائیں اوراردگردغورفرمائیں ،ماں بچوں کو لے کر بیٹھی ہوگی ۔بسکٹ چپس کے خالی ریپربچے اس کی آنکھوں کے سامنے وہیں پھیلارہے ہوں گے ماں تہذیب سکھانے سے بے خبر۔ہم وہ لوگ ہیں کہ توہین رسالت پر کٹ مرنے کے لئے تیارہیں ،بہت اچھی بات ہے اپنے نبی کی شان پرہماری جانیں فداہیں مگراسی نبی کوصفائی بہت پسند تھی۔ مگرہرگلی گندگی کاڈھیرہے۔میں آپ سے ایک التماس کرتی ہوں ،تھوڑی دیر سڑک کے کنارے ٹھہرکرغورکریں ہرشخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ،ایسے میں رس میں پھنسی ایمبولینس چنگھاڑتی رہے گی مگرہمیں کیا ایمبولینس میں اکھڑتی سانسوں والا مریض ہماراکیالگتاہے ۔
فروٹ کی ریڑھی سے ہرپھل خریدیں اورگھر آکرتولیں ۔میں یہ کرچکی ہوں ۔اورکمال کی بات یہ ہے کہ فروٹ والے نے سبز پگڑی پہن رکھی تھی ۔
جانتی ہوں آج میں بہت سخت لکھ رہی ہوں مگریہ فورم گردو پیش کاہے اس لئے مطمئن ہوکرلکھ رہی ہوں ۔کیونکہ اس کے مدیر رضی الدین رضی کڑواسچ لکھتے بھی ہیں اوریہ برداشت بھی کرتے ہیں ۔بات ویلنٹائن سے شرو ع ہوئی تھی اورموضوع ہی بدل گیا ۔سرخ گلابوں سے ہم کوڑے کے ڈھیروں پرجاپہنچے ۔مگراصل بات یہی ہے ۔ہمارااصل مسئلہ اخلاقیات ہے ،ہمیں استاد اورطبیب بھی دونمبرنصیب ہیں ،ڈاکٹروہ دوائیں لکھے گاجو کمپنی اسے سب سے زیادہ حصہ دے گی ستم ظریفی اس پریہ کہ غیر ضروری دوائیں لکھ دے گا،غیر ضروری ٹیسٹ لکھ دے گاکیونکہ لیبارٹری سے مک مکا ہے ۔اوریہ مذاق کی بات نہیں ہے لمحہ فکریہ ہے کہ اب دودھ کے لئے گائے بھینس کے محتاج نہیں رہے کیمیکلزملاکردودھ بنالیتے ہیں ،چائے کی کینٹین سے چائے منگوائی توایک ملازم واقف تھاوہ بولاچائے کے لئے انتظارکرناپڑے گاکیونکہ کینٹین کے پیچھے مالک دودھ بنارہاہے ۔ہم چند وکیل اکٹھے بیٹھے منہ کھولے ایک دوسرے کو تک رہے تھے کہ یہ ملازم کیاکہہ گیا۔اتنی بڑی بے تکی بحث کے بعد میں یہی کہوں گی کہ بیشمار مسجدوں ،علماءکے لشکروں کے باوجود ہم ذلیل ورسواءکیوں ہیں ،ہراخلاقی برائی میں معتوب کیوں ٹھہرے مجھے صرف ایک ہی وجہ سمجھے میں آئی کہ ہماری تربیت یہ کی گئی کہ صرف نما ز،روزہ، حج عبادت ہے۔کم تولو ،جھوٹ کاکاروبار کرومگر نمازیں پوری ہوں ،بے شک ناحق قتل کرو مگرعمرہ حج ضرورکرو،گناہ دھل جائے گا۔میرارب کائنات کامالک ہے وہ تمہاری عبادتوں کاکب محتاج ہے اس تواپنی کمزور لاچار مخلوق کے لئے دلدارچاہیں اوریہ دلدارہوتے ہیں گوکہ چند ہیں مگر ہوتے ہیں کبھی ایدھی جیسا،رانجھا کبھی مدرٹریساکبھی روتھ فاﺅجیسی ہیر۔

