بات مذاق مذاق میں سنجیدہ ہو چکی، چھٹیوں کی بہتات نے انتشار زدہ ماحول سے نکالا تو بات عقل کو لگی کہ جسے صرف سازش یا فنڈز لینے کا عالمی بہانہ تصور کیا جارہا تھا ، جسے قرض معافی کےلئے رچایا جانے والا ڈرامہ کہا جا رہا تھا وہ واقعی موت کی دستک ہے اور بات فیصل آباد ،لاہور اور خانیوال تک آ پہنچی ہے۔گھروں میں پڑا راشن ختم ہوا تو آٹے کےلئے لگی قطاریں نظر آئیں۔
کچھ نیم حکیم نسخے بتانے میں مصروف ہیں اور کہیں پیروں نے کورونا تعویز تیار کر لئے ہیں مگر گاہک خوف زدہ ہو کر گھروں میں بند ہیں لہذا گلشن کا کاروبا چلتا نظر نہیں آتا۔ہر طرف موت کی آخری ہچکیوں کی صدائیں ہیں۔ہر طبقہ برابری کی سطح پر خائف ہے۔دعاؤں کے قبولیت کے سب یونٹ لمبی چھٹی پر جا چکے ہیں ۔ہم نے دیکھا ہے کہ شہر کیسے سائیں سائیں کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اذانیں کیسی ہوتی ہیں جو نماز کے لئے نہیں صرف رد بلا کےلئے ہوتی ہیں۔ہم نے کفالت کی ذمہ داری میں ناکام ہوتے خاندانوں کے سربراہوں کی آنکھوں میں شکست بھی پڑھ لی اور بچوں کے معصوم سوالوں سے لاجواب ہوچکی ماؤ ں کی بے بسی بھی دیکھ لی۔
روزانہ کی بنیاد پر منڈی سے فروٹ کی ریڑھی بھر کرشام کو بچوں کی روزی گھر لے جانے والا اب آسمانوں کی تہہ در تہہ پرتوں پر طلب گار نگاہیں ڈال کر اپنی آنکھوں سے موتی نچھاور کرتا ہے اور آئیندہ صبح کی روشن امید لئے جاگتے رات بسر کرتا ہے۔عمر بھر سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنے والوں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا کہ مجبوری میں تو حرام بھی حلال ہوتا ہے والا فلسفہ اب قابل عمل ہوچکا ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ پیٹ کا دوزخ بھی غیر معمولی حالات میں بھوک پر سمجھوتا کرنا سیکھ رہا ہے۔ہر سمت ایک ہو کا عالم ہےاور اس درجہ خوف کے سائے مسلط ہیں کہ خود سے بھی ڈر لگتا ہے۔جنگ میں بھی شائد تالا بندی کا یہ ماحول نہ رہا ہو جو اب ہے کہ بات موت کی نہیں بے چار گی اور لارچارگی کی ہے جب مرنے والے کے منہ میں ایک گھونٹ پانی ڈالنے والا کوئی نہ ہو اور بعد از مرگ کوئی اپنا اس کی تدفین میں شامل نہ ہو، ایسی موت سے خوف آتا ہے جس کی کوئی مسیحائی بھی نہ کرسکے اور جو کرنا چاہے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر کرے۔
سڑکیں تجاوزات سے خالی ہیں تو میدان لگنے لگی ہیں،انسانی سمندر نظر آنے والے بازار اب زمانہ قدیم کے وہ قلعے لگتے ہیں جن پر آسیب کا سایہ ہو اور کوئی دیو وہاں کے آدم زاد نگل گیا ہو۔لاک ڈاؤن کے بغیر کوئی چارہ بھی نہ تھا کہ کبوتر بلی کو اپنے سر پر دیکھ کر جب آنکھیں بند کرتا ہے تو ایک لمحہ کےلئے سہی موت ٹل تو جاتی ہے۔
دفاتر میں ان فائلوں پر گرد جمتی جارہی ہے جن کےلئے صاحب کو لاکھوں روپے بطور ٹپ بھی مل چکے تھے،وبا کے دنوں میں عذاب سے بچنے کےلئے رشوت کا نام ٹپ ہی لیا جانا چاہئیے ۔کتنے عدالتی آرڈر عملدرآمد کے منتظر ہیں مگر کہیں سے توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جارہی،ترقیاتی منصوبے ادھورے ہو کر بھی پورے سمجھے جارہے ہیں۔یہ لاک ڈاؤن جسے آغاز میں تفریح کا سبب سمجھا جارہا تھا اب مصیبت کا دیباچہ لکھتے نظر آتا ہے۔
ابھی لاک ڈاؤن کا پہلا ہفتہ اپنی تلخ تکمیل کو پہنچنے والا ہے اور بھوک گلی کوچوں میں رقص کرتی نظر آتی ہے کیونکہ ہم کسی بحران،قحط،وبا اور مصیبت کے لئے تیار ہی نہیں تھے ہم ہر بلا کو دو رکعت نوافل کی ادائیگی اور بابا جی کی درگاہ پر حاضری سے ٹالتے تھے اب پہلی بار ایسی وبا ہمارے مقابل تھی جس کا کوئی دین مذہب اور پیر مرشد نہ تھا اس لئے کاٹ پلٹ کے سب داؤ ناکام جارہے تھے۔
لاک ڈاؤن کا پہلا ہفتہ ہمارے اعصاب اور عقیدے بھسم کرتا نظر آرہا تھا کہ پہلے تو دریاؤں کی طغیانی،زلزلے،آندھیاں اور بارشوں کی شدت ہم تعویزوں سے قابو کرتے تھے ۔ اب کیا کریں ؟
فیس بک کمینٹ

