سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک بحث ہے کہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور وہ ہے یونیورسٹی آف لاہور کے اس جوڑے کے بارے میں کہ جس کی آپس میں گلے ملتے، اور لڑکے کی لڑکی کو پروپوز کرتے تصاویر اور ویڈیوز پر بات ہو رہی ہے ۔۔ بتایا گیا ہے کہ ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں کھلے عام لڑکی کو پروپوز کیا جس کے جواب میں لڑکی نے ہاں کر دی، جس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے سب کے سامنے گلے ملے جس پر ارد گرد کے سٹوڈنٹس نے تالیاں بجائیں ساتھ کے ساتھ تصاویر اور وڈیوز بھی بنائیں، اس کے بعد کی اطلاعات یہ تھیں کہ ان دونوں کو یونیورسٹی انتظامیہ نے نکال دیا ہے، معمول کے مطابق پاکستانی َسوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوا اور ایک ایسی بحث چل نکلی کہ جو اب کئی روز گزر جانے کے باوجود تھم نہ سکی، یونیورسٹی انتظامیہ اور مذہبی حلقوں کا خیال ہے کہ اس طرح کی حرکات کی نہ تو ہمارا کلچر اجازت دیتا ہے نہ مذہب، اس طرح سے سرعام لڑکے اور لڑکیوں کا گلے ملنا ایک دوسرے کو پروپوز کرنا غیر شرعی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے، اس طرح کی حرکتیں معاشرے کا توازن بگاڑ دیتی ہیں، انکے خیال میں اس طرح کے حرکتیں کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں، جبکہ دوسری طرف ایک طبقہ ہے کہ جس میں اداکار، سماجی کارکنان، میڈیا اور سپورٹس سلیبریٹیز ہیں جنہوں نے اس جوڑے کے حق میں بات کی ہے جن میں وسیم اکرم کی اہلیہ، شہزاد رائے، ماہرہ خان یہاں تک کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر عاقل، بالغ انسان کا حق ہے کہ وہ جس سے چاہے شادی کرے اور جیسے دل کرے اس سے محبت کا اظہار کرے…..
سب سے پہلے تو یہ کہ میرا دل ہر کچھ دن کے بعد اس معاشرے کے توازن کے صدقے جانے کو کرتا ہے کہ جو عورتوں کے نظر آتے ٹخنوں، انکے نیل پالش لگے ناخنوں، انکے دوپٹوں کے ادھر ادُھر ہو جانے اور نا جانے کس کس بات سے بگڑ جاتا ہے، لیکن یہی توازن یہاں کے بازار میں ملاوٹ کرتے دکانداروں، ناپ تول میں کمی کرتے ناجائز منافع خور تاجروں، رشوت خور سرکاری افسروں، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں ، ووٹ چور حکمرانوں، محافظوں کے بھیس میں پھرتے درندوں، مذہب کا لبادہ اوڑھے جنسی بد حواسوں کی حرکات سے کبھی خراب نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو وہ کم از کم کسی کو کھٹکتا نہیں ہے۔۔
دوسری بات یہ کہ ہمارے یہاں کی ساری اعلیٰ اخلاقی قدروں کو عورت کی شلوار کے ازار بند سے باندھ دیا گیا ہے، یہ وہ ملک ہے کہ جہاں اگر خدانخواستہ کسی کی جواں سال بچی فوت ہو جائے تو وہ اس بچی کو دفنانے کے بعد چار راتیں اس کی قبر کا پہرہ یہ سوچ کر دیتا ہے کہ اس اعلیٰ اخلاقی توازن رکھنے والے معاشرے کا کوئی وزن دار معزز اسکی قبر کھود کر اپنی پیاس ہی نہ بجھا لے…..
یہ وہ معاشرہ ہے کہ جہاں بکری، بلی، کتیا، گدھی بھی محفوظ نہیں ہے لیکن یہ تمام شاید وہ باتیں ہیں کہ جو ہمارے جیسے معاشروں کا توازن برقرار رکھتی ہیں….. یہ وہ معاشرہ ہے کہ جہاں ایک حکومت ایک ریپ کے بعد قتل ہوئی زینب کے نام کا بل پاس کرتی ہے اور اسی حکومت کا وزیر کہتا ہے کہ اس ملک میں عورتیں محفوظ ہیں……
یہ وہ ملک ہے کہ جہاں ملالہ کو لگنے والی گولی اور اسامہ بن لادن کی کاکول اکیڈمی کے ساتھ والے گھر میں موجودگی دونوں کو بھائی لوگ سچ نہیں مانتے ….
یہ وہ ملک ہے کہ جہاں کے لوگ عاصمہ جہانگیر، بینظیر بھٹو، کلثوم اور مریم نواز، گلالئی اسماعیل، جلیلہ حیدر، ملالہ یوسفزئی اور منیبہ مزاری کو شک جبکہ پرویز مشرف کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں…..
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق یہ وہ ملک ہے کہ جہاں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ عورتیں صرف غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں (یہ وہ تعداد ہے جس کی رپورٹس درج کرائی گئی ہیں) ، سال 2018 میں صرف صوبہ سندھ میں 140 عورتوں کی قرآن پاک سے شادی کرائی گئی، صرف صوبہ سندھ میں 419 عورتوں کو کاروکاری کیا گیا، 79 ونی کی نظر ہوئیں اور سال 2019 میں 600 سے زائد ہندو بچیوں سے زبردستی اسلام قبول کرایا گیا…. سال 2017 میں صوبہ پنجاب میں 824 نا بالغ بچیوں کا وٹہ سٹہ ہوا، 2017 ہی میں صرف لاہور شہر میں 62 عورتوں پر تیزاب پھینکا گیا جس میں سے صرف تین کیسز کے ملزمان حراست میں لئے گئے لیکن سزا تاحال ایک کو نہ ہو سکی، سن 2020 میں جبکہ لوگ گھروں میں تھے پاکستان میں 11486 ایسی ڈکیتیاں رپورٹ ہوئیں کہ جن میں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے علاوہ گھروں میں موجود عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی لیکن اہلخانہ نے جنسی جرائم کی دفعات پولیس رپورٹ میں شامل کرانے سے انکار کر دیا… مشہورِ زمانہ سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس کے مجرمان شاید فرانس کے پریشر سے پکڑے اور انہیں آج سزا بھی ہو گئی ۔ عملدرآمد کب ہو گا کسی کو خبر اور اعتبار نہیں ۔ لیکن یہ وہ تمام باتیں ہیں کہ جن سے معاشرے کا توازن با لکل خراب نہیں ہوتا……
جہاں عورتوں، اقلیتوں اور بچوں کی حقوق کی صورتحال کی یہ صرف ایک جھلک ہو اس معاشرے کے توازن کے بارے میں بھائیوں کی رائے میں ایک جوڑے کے سرعام اظہارِ محبت سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جہاں عورتوں اور بچوں کے لیے انکے اپنے گھر، سکول، بس، ویگن، سکول جانے کا رکشہ، محلہ، کھیلنے کا میدان یہاں تک کہ قبر بھی محفوظ نہیں ہے اس معاشرے کے لوگوں کی رائے میں ایک لڑکی اور لڑکے کا گلے ملنا مشکلات پیدا کر دیتا ہے…..
جو ملک ان لوگوں (کہ جن کا نام تک لکھنے کی اجازت نہیں ہے) کی پالیسیوں کی وجہ سے گرے لسٹ سے ہوتا ہوا بلیک لسٹ ہونے جا رہا ہو اس کے لوگوں کی نظر میں اسکی ساکھ کو ایک رشتہ ہو جانے سے خطرہ ہو تو یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہوتی کہ کیوں اس تیزی سے ہم تنزلی کی طرف جا رہے ہیں؟؟
تب ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا آدمی کہ جس کی دنیا بھر میں شہرت ایک پلے بوائے کی ہے، جس کی (ہمارے پیمانے کے مطابق) ناجائز اولاد ہے، جس کی گرل فرینڈز کی لسٹیں انڈین صحافی اسکے منہ پر بتائیں اور وہ جواب میں کہے کہ یہ تو آپ نے کم بتایا ہے، اور اس جیسا آدمی یہاں ریاستِ مدینہ بنانے کی باتیں کرے اور ریاستی اداروں سمیت سب اس پر یقین بھی کریں تو مجھے تو کم از کم کوئی حیرت نہیں ہوتی ….
ہم سب جانتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے کے ارد گرد یہاں کس طرح کا طوفان برپا کیا جاتا ہے حالانکہ یورپ اور امریکہ میں اب ویلنٹائن ڈے کی کوئی اوقات ہی نہیں بچی لیکن اس معاملے میں ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ ہیں محبت کا دن اور ہم؟؟ استغفار….. ہمیں تو یومِ تیزاب گردی، یومِ اغواء برائے تاوان، یومِ ملاوٹ، یومِ دہشتگردی، یومِ منافع خوری، یومِ تسلط، یومِ خجالت، یومِ نجاست، یومِ نخوست، یومِ وٹہ سٹہ، یومِ ونی، یومِ کاروکاری، یومِ دل آزاری، یومِ بےایمانی، یومِ جھوٹ، یومِ فرقہ پرستی اور یومِ نفرت وغیرہ وغیرہ منانے چاہیں ہمارا کیا تعلق محبت سے، الفت سے، جذبات سے ہم کون ہیں کہ جو کسی سے محبت کر سکیں ہم تو ان بادشاہوں کی رعایا ہیں کہ جنہوں نے اپنی محبوبہ کے نام پر محل تو بنائے لیکن انہی مزدوروں کے ہاتھ بھی کٹوا دئیے کہ جنہوں نے وہ محل بنایا تھا۔
اس سب میں منظر صرف ایک خوبصورت تھا اور وہ تھے وہ بچے جو ان محبت کرنے والوں کی محبت کو تالیاں بجا کر سلیبریٹ کر رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے اللہ کرے کہ یہاں کا ہر بچہ اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ نفرت کے سودا گروں کے پاس انکے خلاف کیا کیا کچھ ہے صرف محبت کرے تو شاید اس معاشرے کا ذہنی توازن ٹھیک ہو جائے….
آخر میں منٹو کا ایک جملہ اور ٹاٹا بائے بائے منٹو نے کہا تھا کہ میں ادیب اور افسانہ نگار ہوں میرا کام معاشرے کی پھٹی ہوئی چولی کو سینا نہیں ہے یہ کام درزیوں کا ہے، میں جو دیکھتا ہوں لکھ دیتا ہوں اسی طرح آج جب بھی میں اس معاشرے کی پھٹی اور ادھڑی ہوئی حیا کی چولی اٹھا کر دیکھتا ہوں تو مجھے اس چولی کے پیچھے وہی کچھ نظر آتا ہے جو میں نے لکھ دیا ہے اگر یہ سب پڑھنا اور قبول کرنا آپ کے لیے نا قابلِ برداشت ہے تو منٹو ہی کے بقول یہ معاشرہ نا قابلِ برداشت ہے نا کہ میری تحریر……
فیس بک کمینٹ

