اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں کہا ہےکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان سانحہ اے پی ایس کیس میں عدالت کے طلب کرنے پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان فواد چوہدری سے گفتگو کرتے رہے، جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ آئیں۔جسٹس اعجاز نے کہا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے حکام کے خلاف کاروائی ہو۔وزیراعظم عمران خان نے کیس کی سماعت کےدوران روسٹرم پر آکر کہا کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔وزیراعظم نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے۔وزیراعظم نے عدالت کو بتایاکہ واقعہ کے دن ہی پشاور گیا تھا، اسپتال جا کر زخمیوں سے بھی ملا، واقعہ کے وقت ماں باپ سکتے میں تھے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جو بھی مداوا کرسکتی تھی کیا، والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے آرمی پبلک سکول حملہ ازخود کیس میں وزیراعظم عمران خان کو ذاتی حیثیت میں آج (بدھ) ہی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔سپریم کورٹ میں آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کر رہا ہے ۔
خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بدھ کی صبح ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعطم عمران خان کو ذاتی حثیت میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو گا۔جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی گذشتہ سماعتوں کے دوران دی گئی ہدایات سے آگاہ کیا تھا، جس کا جواب اٹارنی جنرل نے نفی میں دیا اور کہا کہ وہ ابھی اس ضمن میں وزیر اعظم سے ہدایت لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران اس سانحے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے سنہ 2014 میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کے علاوہ اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان اور صوبہ خِیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کے خلاف اس کیس کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔
فیس بک کمینٹ

