جس ملک میں لوگ پٹرول کی قیمت بڑھنے کی افواہ سن کر چار لیٹر پٹرول ڈالونے کے لئے شدید گرمی اور حبس میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے محض اس لئے لائن لگا کر کھڑے رہتے ہیں کہ صرف ایک بار کے لئے سوروپے بچ جائیں لیکن اس حکومتی اقدام پراحتجاج نہیں کرتے۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا ۔۔
جہاں پر شدید گرمی اور حبس میں حکمرانوں ،سرکار ی افسروں اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پروٹوکول کے لئے دو دو گھنٹے سڑکیں بند کردی جائیں اور لوگ چلچلاتی دھوپ میں کھڑے اپنا جسم کھجلاتے رہیں اور احتجاج کا ایک نعرہ تک بھی نہ لگائیں۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا ۔۔
جہاں لوگ تھانہ کچہری میں لتر کھانے کے بعد رشوت دیکر اور حبس بے جا کے کئی دن حوالات میں گزارکر خاموشی سے اپنے گھر آجائیں اور ان کے گھر وا لے پڑوسی رشتہ دار ایک لمحہ کے لئے بھی صدائے احتجاج بلند نہ کریں۔
کہتے ہیں کہ وہاں اِنقلاب آئے گا۔۔
جہاں لوگ مہنگائی غربت اور بے روز گار ی کو اپنا نصیب سمجھ لیں ،جہاں لو گوں کو یہ تعلیم دی جائے کہ’’ اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھنا بلکہ نیچے والے کو دیکھنا ہے‘‘ چاہے اوپر والے کی کمائی کتنی ہی حرام کی کیوں نہ ہو اور اس کا گریبان پکڑنے کے بجائے اپنے حالات پر صبر اور شکر کرنا ہے۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں پر لوگ چار سالہ بچی کے ساتھ ریپ کے خلاف احتجاج نہ کریں ،جہاں پر لوگ سالہا سال عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے رہیں اور ہر پیشی پر جج کے ریڈر اور وکیل کے منشی کو فیس کے علاوہ دوچارسوروپے دیکر گھر آجائیں اور اس بوسیدہ ظالمانہ نظام کے خلاف اُف تک نہ کریں۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں پر لوگ سیاسی جماعتوں اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے تباہی و بربادی کا ذمہ دار سمجھیں اور پھر سارادن انہی چوروں لٹیروں کے گن گائیں ان کی لوٹ مار اور چوریوں کے وکیل بنے رہیں نہ صرف یہ بلکہ ان کی خاطر بچپن کی دوستیاں رشتہ داریاں اور رابطے تک ختم کرلیں۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں پر لوگوں کے سامنے انتخابی دھاندلیاں ہوں ،آدھی رات کو آرٹی ایس سسٹم بند کردیا جائے،راتوں رات انتخابی نتائج تبدیل کردیے جائیں،ملک کے نوے فیصد لوگ یہ بات کہہ رہے ہوں کہ دھاندلی ہوئی ہے اور پھر اسی دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کو اپنی قسمت کا مالک بنا لیا جائے۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں سو ڈیڑھ سو خاندان پون صدی سے چہرے اور پارٹیاں بدل کر حکومتیں کررہے ہوں ،ان کے بچے اور خاندان مغربی ممالک میں عیش کریں ،جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کچرے میں سے اپنا رزق تلاش کرکے کھاتی ہو اور حکمرانوں کے کتے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہوں اور عوام انہی عیاشوں کی خاطر سڑکوں پر ڈنڈے کھانے میں فخر محسوس کریں اور آنسو گیس کے شیل برداشت کررہے ہوں ۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف بات کرنا کفر ان نعمت اور ناشکری سمجھا جاتا ہواور مذہب کے نام پر لوگ زندہ جلادیے جائیں۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں من پسند لیڈر کی ہر جائز و ناجائز بات کا دفاع کیا جائے ،جہاں جج محض اشرافیہ کے اشاروں پر کسی کوصادق اور امین قرارد یں تو کسی کو پھانسیاں، اور ان فیصلوں پر بات کرنا توہین عدالت ہو اور اسے جرم گردان کر لوگوں کو کال کوٹھریوں میں ڈال دیا جائے ،”توہین “ کے مرتکب لوگوں کو سر عام کوڑے مارے جائیں اور معاشرہ خاموش تماشائی بنا رہے ۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔
جہاں پر لاکھوں لوگوں کا مجمع ایک دھوکہ باز لیڈر اور جاہل مولوی کی بات پر بنا سوچے سمجھے ایمان لے آئے ،جہاں لوگ سیاسی لوٹوں کو بر ا بھلا کہیں اور جہاں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں 80فیصد سے زائد ہوں ہی لوٹے اور پھرلوگ انہی لوٹوں کو ووٹ دیں انہیں سر آنکھوں پر بٹھا ئیں انہی اپنا نجات دہندہ سمجھیں ۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آجائے گا۔۔
جہاں ملاوٹ ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری کو نہ صرف جائز سمجھا جائے بلکہ ان پیسوں سے حج عمرہ اور قربانی ادا کی جائے،جہاں رشوت اور لوٹ کھسوٹ کو اوپر کی کمائی سمجھا جائے، جہاں ایماندار اور شریف آدمی کو اس کی اولاد تک بدھو سمجھے جہاں حرام کی کمائی باعث عزت و احترام ہو، جہاں لوگ بیٹیوں کے رشتے دیتے وقت حرام کمانے والے کو شریف اور دیانتدار پر ترجیح دیں، جہاں جھوٹے مکار خوشامدی اور چرب زباں تجزیہ نگار کہلا ئیں، جہاں سچ بولنے والا عالم دین اورحق بات کہنے والا صحافی دووقت کی روٹی کو ترسے۔
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئےگا۔۔
جہاں پر لوگ کرپٹ اور بدمعاش حکمرانوں کو اپنے گنا ہوں کی سزا سمجھتے ہوں ۔اور انہی اس پر صبر اور شکر کرنے کا درس دیا جاۓ
کہتے ہیں کہ وہاں انقلاب آئے گا۔۔!
رہنے دو پانڈے جی کس کو بے وقوف بناتے ہو۔!
فیس بک کمینٹ

