منزل اگر نہیں ہے کوئی راستہ تو ہو
اپنے بھٹکتے رہنے کا کوئی سلسلہ تو ہو
میری تلاش میں کرے خود کو کوئی تلاش
میری طرح سے خود کو کوئی ڈھونڈتا تو ہو
اُس کا وصال معجزے سے کم سہی مگر
اِس معجزے سے بڑھ کے کوئی معجزہ تو ہو
میں اک چراغ اور تُو خوشبو بھری ہوا
پھر بھی میں چاہتا ہوں ترا سامنا تو ہو
جو مل چکا ہے کھو کے اسے پھر کریں تلاش
جیون گزارنے کا کوئی مشغلہ تو ہو
ہم بھی ضرور لوٹ کے گھر جائیں شام کو
لیکن ہماری راہ کوئی دیکھتا تو ہو
( دن بدلیں گے جاناں ۔۔ مطبوعہ مئی 1995 ء )
فیس بک کمینٹ

