” سنو! تم کل سے نظر نہیں آ رہے… کہاں تھے؟”
میں actually ممّا کے ساتھ الحمراء گیا ہوا تھا. وہاں فیسٹیول تھا ۔
وہ ہے نا وہ اردو پوئٹ….. کیا نام ہے اُس کا…
او گاڈ آئی فورگوٹ!
وہ جس کے نام میں ایک ہی ورڈ دو بار آتا ہے”
"فیض احمد فیض”
وہی…
فیض احمد فیض…
ممّا کہتی ہیں. He was a revolutionary poet..
پتہ ہے… بہت ہارڈ ہے… اُس کی لینگویج….
او مائی گاڈ!
اوپر سے گزر جاتی ہے. کچھ پلّے نہیں پڑتا..
فرینکلی اسپیکنگ… ممّا کے بھی پلّے نہیں پڑتا.. مگر وہ اُس کو لائیک کرتی ہیں.
کہتی ہیں سمجھ میں آتا تو اور مزہ دیتا..
ممّا ہر سال اس کے فیسٹیول کو آرگنائز کرنے میں سب سے آگے ہوتی ہیں۔۔
ممّا کو ایک ہی شعر اُس کا سمجھ میں آیا ہے.
وہ کیا ہے کہ
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا …
یو نو دکھ؟ Distress, sorrow, sadness
تو وہ پوئٹ کہتا ہے
اور بھی دکھ ہیں ان دی ورلڈ…
محبت means لو کے سوا،
اینڈ راحتیں مطلب۔۔… comfort, joy, pleasure
اور بھی ہیں…
وہ کیا ورڈ تھا
ہاں یاد آیا.. وصل..
ممّا سے اس کا مطلب پوچھا. ان کو خود کو پتہ نہیں تھا.
شی سیڈ.. وصل perhaps، ڈیٹ مارنے کو کہتے ہیں.
گاڈ نوز…
یہ جتنا بھی اردو پوئٹس ہیں نا یہ ڈیٹ مارنے کے لئے بے چین رہتے ہیں.
بٹ ان کا beloved ان کو لفٹ نہیں کراتا…
ہاہاہاہا… پُوور گائیز!!
پتہ ہے وہ فیسٹیول میں جو بھی ڈوڈ اسٹیج پر آتا. مائک پر ایسی موٹی موٹی باتیں کرتا. نہ میری سمجھ میں آتیں… نہ ممّا کی…
میں تو اپنے موبائل پر گیم کھیلتا رہا اور ممّا اپنے فرینڈز کو موبائل سے ٹویٹس کرتی رہیں .
واٹ اے بورنگ فیسٹیول.
کچھ سنگرز نے بھی بور کیا.
ممّا ان کی بور سنگنگ پر بھی یوں شو کر رہی تھیں کہ جیسے انجوائے کر رہی ہیں اور جیسے سب سمجھ میں بھی آ رہا ہے….
آئی تھنک سمجھ میں تو اُن پوور سنگرز کو بھی کچھ نہیں آ رہا ہوگا کہ کیا گا رہے ہیں. ہاہاہاہا …
ممّا کہتی ہیں فیض جو ہے نا وہ بہت revolutionary poet تھا.
اگر سمجھ میں آ جاتا تو پاکستان میںrevolution آجاتا.
یہاں کی misery یہی ہے کہ جو سمجھ میں آتا ہے وہ revolutionary نہیں ہوتا..
اور جو revolutionary ہوتا ہے وہ سمجھ میں نہیں آتا.
پوور کنٹری ….!!!!”
فیس بک کمینٹ

