اردو میری محبوب زبان ہے۔ اردو میری گُھٹی میں پڑی ہے۔ میں نے جب بولنا شروع کیا تھا تو پہلا لفظ جو میرے منہ سی نکلا تھا، وہ تھا ماں پھر ابا، امی، باجی، آپی وغیرہ۔
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا تو مجھے اردو میں لکھنا سکھایا گیا تھا۔ میں نے سب سے پہلے جو حروف لکھے وہ اردو کے تھے یعنی ا ب پ ت ٹ ث وغیرہ۔ اس کے بعد الف انار ب بکری اردو میں پڑھا۔ میں نے رشتوں کی پہچان اردو کے الفاظ سے کی، دادا دادی، نانا نانی، ماموں ممانی، چچا چچی، تایا تائی، پھوپھا پھوپھی، بہن بھائی وغیرہ۔
اردو زبان کے توسط سے مجھے دیگر زبانوں کا پتاچلا، عربی فارسی پنجابی سرائیکی سندھی، پشتو، بلوچی، کشمیری ہندی انگریزی و دیگر زبانوں کی پہچان ہوئی۔
اردو سے محبت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں مادری اور علاقائی زبانوں کا منکر ہوں۔ مجھے ہر شخص کی مادری اور علاقائی زبان سے محبت ہے۔ بہترین تعلیم بھی مادری زبان میں ہی دی جا سکتی ہے۔ ہر ملک میں علاقائی زبانیں موجود ہوتی ہیں اور بولی جاتی ہیں مگر ہر ملک کی ایک قومی اور دفتری زبان ہوتی ہے جس میں وہاں کے باشندے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور امورِ مملکت چلاتے ہیں۔ ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے مگر دفتری زبان انگریزی ہے۔
اردو ایسی زبان ہے جو تقریباً سارے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ دنیا میں تقریباً ایک ارب کے قریب اردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ موجود ہیں۔
اردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے راستے میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ 2015 میں اردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے بارے فیصلہ دے چکی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کا کیس چل رہا ہے۔ لمبی لمبی پیشیاں دے کر کیس کو طول دیا جا رہا ہے۔ ایک نہ ایک دن حکومتِ وقت کو اردو زبان کا نفاذ کرنا پڑے گا۔ یہ تو تھا حکومتِ وقت کا رویہ، اب چلتے ہیں ان پڑھے لکھے طبقے کی طرف جو اردو کے نمائندہ کہلاتے ہیں۔ ان میں اردو کے اساتذہ و پروفیسر اور بڑے بڑے شاعر، ادیب اور صحافی شامل ہیں۔
گو کہ سوشل میڈیا پر اردو لکھنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے مگر پھر بھی میں بہت سارے اہلِ علم اساتذہ، شاعروں اور ادیبوں کو جانتا ہوں جو سارا دن اردو بولتے ہیں، اردو میں لیکچر دیتے ہیں، اردو میں شاعری کرتے ہیں، کئی کئی مجموعے اردو میں چھپ چکے ہیں مگر فیس بک یا سوشل میڈیا پر پوسٹ لکھتے ہوئے انگریزی یا رومن اردو کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے تمام اہلِ علم سے گزارش ھے کہ وہ تھوڑی توجہ دے کر اپنے موبائل یا لیب ٹاپ پر ”اردو کی بورڈ“انسٹال کروا لیں۔ آپ کی وجہ سے اردو کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں اردو کا شاعر اور پروفیسر، مگر اردو لکھنے سے قاصر۔ یہی المیہ ہے جس کی طرف آج کے کالم میں توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔ از راہِ کرم اردو کے ساتھ وفا کیجیے۔ یہ بھی آپ سے وفا کرے گی۔
رہی بات انگریزی کی تو یہ زبان نہ کبھی ہماری تھی نہ ہے اور نہ ہو گی۔ اس زبان کو لازمی کی بجائے آپشنل کر دیں تو بہت سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ جس نے پڑھنی ہو پڑھے جس نے نہ پڑھنی ہو اس پر زبردستی مسلط نہ کی جائے۔ ہمارے پاس ایسے ایسے قابل جوہر موجود ہیں جو چند ماہ کے اندر ان تمام کتب کو اردو میں ترجمہ کر دیں گے جو ہمارے تعلیمی اداروں کے سلیبس میں مروج ہیں۔ موجودہ حکومت سے میری پر زور گزارش ہے کہ وہ جاتے جاتے ایک اچھا فیصلہ کر جائے اور اردو کے نفاذ کا حکم جاری کر جائے وگرنہ وقت گزر جائے گا اور آپ کی حکومت بھی گزر جائے گی۔ سنہری موقع ہے عوام سے دعائیں لینے کا۔
فیس بک کمینٹ

