ملتان ( ندیم قیصر سے) علمدار حسین اسلامیہ کالج اور آثار قدیمہ کے اٹلی پراجیکٹ کی زد میں قلعہ کہنہ کے پہلو میں واقع دو تاریخی تعلیمی اداروں کی قدیم عمارات بھی آگئیں جنہیں محفوظ کرنے کی بجائے گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایک صدی سے قائم گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ گرلز اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ میں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ و طالبات کو دیگر کالج اور سکول میں ضم کرنے یا نئی بلڈنگز تعمیر کر کے وہاں شفٹ کرنے کے بارے میں باقاعدہ سرکاری سروے کا بھی آغاز کردیا گیا۔ جس پر ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات میں بے چینی پھیل گئی۔ہفتے کے روز ضلعی انتظامیہ ۔ بلڈنگز اور محکمہ مال کے حکام نے سروے کے سلسلے میں دورے کیے اور اٹلی پراجیکٹ میں مذکورہ تعلیمی اداروں کی عمارات کو شامل کیے جانے کی صورت میں متبادل مقامات بارے تعلیمی حکام سے رائے بھی مانگی گئی ہے۔
ان تعلیمی اداروں کی تاریخی حیثیت کو ختم کیے جانے کی صورت میں ممکنہ عوامی ردعمل کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق سرکاری طور پر لکھاریوں اور دانشوروں کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا جائے گا تاکہ وہ سرکاری اقدام کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کر سکیں۔
اٹلی پراجیکٹ کی ممکنہ زد میں آنیوالے گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ اسلامیہ گرلز ہائی سکول کی تاریخی عمارات دونوں پاکستان کے مشہور سیاسی خانوادے گیلانیہ کی تعلیمی میراث سمجھی جاتی ہیں ۔ گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج تو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے والد کے نام سے موسوم ہے اور علمدار حسین گیلانی 50 ء کی دہائی میں سیاسی حکومت کے صوبائی وزیر بھی رہے تھے۔ علمدار حسین کالج کی تاریخ کے مطابق اس تاریخی عمارت میں 1924ء میں اسلامیہ سکول قائم تھا جسے 1970ء میں انٹر کالج کا درجہ دیا گیا اور بعد میں ڈگری کالج کے طور پر اپگریڈ کردیا گیا مجموعی طور پر پچھلے 63 برسوں سے گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج کی حیثیت برقرار ہے۔اسی طرح اسلامیہ گرلز سکول دولت گیٹ کی تاریخی حیثیت بھی پون صدی قدیم ہے ۔
فیس بک کمینٹ

