نام ور مزاحمتی شاعر مبارک قاضی کے انتقال کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو بلوچستان کے میر تقی میر تھے ۔ جیسے ہم اردو کے مزاحمتی شاعروں میں فیض ، فراز اور جالب سے محبت کرتے ہیں بلوچستان کے عوام اسی طرح مبارک قاضی کو مبارک سمجھتے تھے ۔
کسی اور کی تو بات ہی چھوڑیں میں جو شعر و ادب اور صحافت سے جڑا رہتا ہوں اور خود کو باخبر بھی سمجھتا ہوں، مجھے بھی آج ان کے انتقال کے بعد انہیں جاننے اور پڑھنے کا موقع ملا ۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ بلوچستان سے ہماری یہ لاتعلقی ہی تو دوریاں بڑھا رہی ہے ۔ مبارک قاضی کا تعلق پسنی تھا وہ شاعری کے دس مجموعوں کے خالق تھے ۔ وہ ماں بولی اور دھرتی سے محبت کرتے تھے اور تلاشیاں لینے اور ناکے لگانے والوں کے خلاف آواز بلند کرتے تھے ۔
ان کی یہی آواز لوگوں کے دلوں تک پہنچتی تھی اور ان کے اشعار اور گیت لوگ ترانوں کی طرح گاتے تھے ۔ پسنی ایک پسماندہ اور غربت زدہ علاقہ ہے ۔ مبارک قاضی 1972 میں میٹرک کے بعد تعلیم کے لیے کراچی چلے گئے اور سندھ مسلم کالج میں داخلہ لیا لیکن تعلیم پوری نہ کرسکے اور واپس پسنی آ گئے۔ وہ چھ مہینے تک محکمہ ماہی گیری میں لیبارٹری اسسٹنٹ رہے۔ 1978 میں مبارک نے دوبارہ پڑھنے کا ارادہ کیا اور کراچی چلے گئے۔ وہاں سے انٹر کرنے کے بعد بی اے کرنے کے لیے اردو آرٹس کالج میں داخلہ لیا۔ 1983 میں بی اے کرنے کے بعد 1984 میں کوئٹہ کا رخ کیا اور بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یوں 1986 میں ایم اے آئی آر کیا۔
انہیں حق گوئی کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں وہ 1980 میں مچھ جیل میں بھی رہے ۔ ان کی یہ جد و جہد اور طاقت ور لوگوں کے خلاف مزاحمت تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ بلوچ نوجوانوں کے آئیڈیل تھے ۔ اور شاید اسی لیے ہم جیسے بزدل ان سے بے خبر تھے۔ آج شام شاعر کا جنازہ بہت دھوم سے اٹھایا گیا اور جنازے میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو جانتی تھی کہ ان کے ساتھیوں کے اغوا کیے جانے پر ابھرنے والی مبارک قاضی کی آ واز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے ۔
مبارک قاضی کی شاعری کے چند تراجم آپ سب کی نذر:
مبارک قاضی کی غزلیں:
پھول پرندے بادل خوشبو کچھ بھی نہیں
کچھ بھی نہیں سیلاب نہ آنسو کچھ بھی نہیں
جس کا جو بھی جی چاہے قانون وہی
نہ پیمانہ کوئی ترازو کچھ بھی نہیں
میں اک ایسے پریم نگر آ پہنچا ہوں
بوجھل پلکیں بکھرے گیسو کچھ بھی نہیں
میں نے اپنے اندر جھانکا تو دیکھا
چاروں سو سب کچھ ہے ہرسو کچھ بھی نہیں
کوہ قاف سے آئی ہے وہ شہزادی
اس پہ چلے گا سحر نہ جادو کچھ بھی نہیں
ان بوسیدہ ہڈیوں میں کیا رکھا ہے
عمر رواں نہ زور نہ بازو کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔۔
قوم دربدر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
بے خبر راہبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
دھوپ کی صورت کبھی دیکھی نہیں مَیں نے
اَبر میں اَمبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
مَیں نے کب کیا ہے بھلا وقت کا حساب
وہ مِری دلبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
جانے کون دیس پہ چھائے ہیں اَبر و باد
گھر آگ کی نذر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
ہم نے شجاعت سے لیے ہیں یہ کوہسار
یہ ہمارا گھر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
چل دیا ہے قاضیؔ مکاں سے، پہ جانے
کب مجھ سے پیشتر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
۔۔۔۔۔
نظم اُونٹ کی فریاد اے خدا
اے منصف و پروردگار
اے ہست کے سرّنہاں کے رازدار
آج کے دن بخش دے اِس گوسفندِ چارہ خور کو اے خدا
مَیں ترا فریادی ہوں
تجھ سے میری دست بستہ عرض ہے
کچھ سوالوں کے مجھے دے دے جواب
اے خدا
کچھ دنوں سے اپنی بستی میں عجب صورت سپاہی آئے ہیں
مار ڈالا ہے جنہوں نے مات و طفلِ شیر خوار،
پیر مرد و نوجواں قتل کر کے
برہنہ پھینکا اُنہیں اور کتنوں کو وہ اغوا کر گئے
(کون جانے اب وہ زندہ ہیں کہ مر گئے)
ساری بستی کو لگا کر آگ
پھر مال و اسباب ساتھ اپنے لے گئے
کچھ بھی نہ باقی رہا
ایک مَیں بس اپنے چھ بچوں کے سنگ
باقی بچا جا بہ جا سرگرداں
اب مَیں پھر رہا دیدنی کوئی نہ مردِ مہرباں
کوچ کر گئے ساکناں اے خدا!
اے منصف و پروردگار
اے مہربان
اے خدا
مَیں ششدر و حیران ہوں کہ کیا کروں
کہ اب دری لشکر ہر گلی ہر گھر ہے
میری کھوج میں آسماں پہ اُڑ رہے جنگی جہاز
گُل زمیں پہ توپ و ٹینک
اے ہست کے سرّنہاں کے رازدار!
پروردگار
کچھ سوالوں کی اجازت دے مزید
مَیں نے کس کو جنگ کی دی تربیت کس کیمپ میں؟
مَیں نے کس بازار میں جا کر جلائی ہیں بسیں؟ م
میں نے کس جرنیل کے گھر کو اُڑایا بم سے ہے؟
مَیں نے کس زردار کے بچّے کو اغوا ہے کیا؟
مَیں نے کس دن ریل کی پٹری اُڑائی ہے بھلا؟
مَیں نے کب لُوٹی ہے بینک؟ اے خدا!
کام اپنا اور کیا؟
بندگی مالک کی بس!
جو بھی اُس کا حکم ہو
ہم بجا لاتے ہیں وہ
اور ترا بندہ حفیظ و الامان
اے خدا صد شکر مَیں انساں نہیں!
(بلوچی سے ترجمہ: عمران ثاقب)

