کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی موجودگی کسی بھی شہر کے لیے اورکسی بھی خطے کے لیے باعث اعزازہوتی ہے ۔وہ جب بات کریں تومحسوس ہوتاہے کہ جیسے ہمارے ساتھ ایک پورا زمانہ ہم کلام ہے ۔تحریر وتقریر ہویازندگی کے دیگرمعمولات ان کی حیثیت جداگانہ ہوتی ہے ۔
اگرچہ ہم فی زمانہ سبھی کوعالم کہہ دیتے ہیں ، دانشور کالفظ بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور استاد تواب ہمیں جابجادکھائی دیتے ہیں لیکن اس شہر میں ایک ہی ایسی ہستی موجودہے جسے علم ودانش اوراستاد کے منصب کے حوالے سے ہم نے ہمیشہ احترام دیااوران کی بے پناہ محبتیں بھی سمیٹیں ۔
جی ہاں ہم ڈاکٹراسد اریب کاذکر کررہے ہیں ،ڈاکٹرصاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ گاہے گاہے سب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ہم اپنی مصروفیت یاروایتی تساہل کے باعث اگرکبھی ان سے رابطے میں کوتاہی بھی کریں توان کی جانب سے محبت بھرافون موصول ہوجاتاہے اوروہ اس انداز میں ملنے کی خواہش ظاہرکرتے ہیں کہ پھر انکار کی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔بہت دنوں سے ڈاکٹراسداریب کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔اس دوران ہماری کچھ کتابیں بھی شائع ہوئیں اورکچھ کتابیں ہم نے بھی شائع کیں دیگراحباب تک تووہ کتابیں پہنچ گئیں لیکن ڈاکٹر اسد اریب جیسے اساتذہ کی خدمت ہم خودجاکر اپنی کتابیں پیش کرناچاہتے تھے ۔ اس دوران روز مرہ کی مصروفیات آڑے آتی رہیں ۔پھر گزشتہ ہفتے ہمیں ڈاکٹرصاحب کے ساتھ کچھ لمحات گزارنے کاموقع ملا اورپھر احساس ہوا کہ ہم نے ملاقات میں اتنی تاخیرکیوں کردی ۔ڈاکٹرصاحب کی تین کتابیں اب ہمارے مطالعے کی میز پرموجودہیں ہم ان تمام کتابوں پرالگ الگ بات کریں گے اورتفصیل سے بات کریں گے لیکن سردست ان کتابوں کامختصر تعارف آپ کی نذر ہے۔”شاعر ہو ،مت چپکے رہو“کے نام سے ڈاکٹرصاحب اپنا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پرلائے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کبھی خود کو بطور شاعر متعارف نہیں کرایا لیکن ایک دو محفلوں میں ہم ان کا کلام سن چکے ہیں سو ڈاکٹر صاحب کی شاعری ہمارے لیے تو خبر نہیں۔
ازسرنوَ ،نقدِانیس 56برس بعد ترمیم ،اضافے اوراصلاح کے ساتھ شائع کی گئی ہے ،میر انیس اورا ن کے مرثیوں کے حوالے سے یہ کتاب بلاشبہ سند کادرجہ رکھتی ہے اورسب سے اہم کتاب لغات العزاءہے ، یہ اپنی نوعیت کامنفرد کام ہے اس میں ایسے بہت سے لفظوں کی تفصیل اورتشریح کی گئی ہے جومجالس اعزاءمیں استعمال ہوتے ہیں عزا داری اب ہماری تہذیب اورسماجی عمل کاحصہ بن چکی ہے ۔یہ کتاب عزاداری کی تناظرمیں کربلا کی ایک مختصر تاریخ کی حیثیت بھی رکھتی ہے ۔ان تمام کتب پرہم الگ الگ تفصیلی بات بھی کریں گے۔بلا شبہ ڈاکٹراسد اریب کی یہ کتابیں ملتان کے ادبی منظر نامے میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں ۔۔
فیس بک کمینٹ

