ہم اشتراکی نظام کے داعی اس لیے بھی ہیں کہ یہ نظام سرحدوں سے ماورا ہے اور اس کی منزل عالمی مساوی اشتراکیت ہے۔ پچھلے دنوں افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو ایک روزہ عالمی کرکٹ ورلڈکپ کے مقابلے میں بآسانی شکست دے دی۔ میچ کے اختتام پر افغانستان کی طرف سے میچ کے بہترین کھلاڑی نے اپنا انعام پاکستان سے جبری طور پر نکالے جانے والے افغان مہاجرین کے نام کر دیا۔ اس اعلان پر پاکستان میں بہت شور مچا اور ریاستی جبر کے حامی حلقوں نے اس کی بھرپور مذمت کی۔
پاکستان میں غیرقانونی طور پر رہائش پذ یر غیر ملکی افراد کی اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ان افغانوں کو پاکستان سے واپس ”باعزت طریقے سے“ اپنے وطن لوٹنے کے لیے 31 اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ ریاستی مہم جوئی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زائد افغان پناہ گزین پاکستان چھوڑ کر افغانستان جا چکے ہیں۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کئی عشروں سے آباد ہیں۔ ان کی آمدورفت کا سلسلہ افغانستان کے مخدوش اور غیریقینی سیاسی اور زمینی حالات کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ میں شوکت خانم ہسپتال میں ملازمت کے دوران کئی ایسے افغانوں سے ملا ہوں جو پاکستان میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے اور انہوں نے کبھی افغانستان دیکھا تک نہیں۔ اس صورتحال میں ان افغانوں کو زمین بدر کرنا ظلم ہے، زیادتی ہے۔
پاکستانی ریاست کے تلوے چاٹنے والے محب وطن سندھی، پختون اور بلوچ قوم پرستوں کا اصرار ہے کہ پاکستان میں موجود افغان معاشی لحاظ سے ان کی دھرتی پر بوجھ ہیں اور ان میں سے کئی تو ہندوستان کے جاسوس اور انتہاپسند دہشت گرد ہیں۔ یہ سوچ بہت سطحی اور جاہلانہ ہے۔ عظیم مدبر اور سیاستدان خان عبدالغفار باچا خان جنہیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا ہے، اپنی وفات کے وقت پشاور میں تھے۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے آبائی شہر جلال آباد افغانستان میں دفن کیا جائے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افغانوں نے شرکت کی جن میں اس وقت کے کمیونسٹ رہنما اور افغان صدر محمد نجیب اللہ بھی شامل تھے۔ باچا خان کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں آباد پختون ایک ہیں اور کوئی عارضی سرحد انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی۔
سچ تو یہ کہ پاک افغان سرحد کے اطراف میں آباد پختون ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال میں میرے پاس کچھ بچے ایسے آتے تھے جن کے والدین افغانستان میں ہوتے اور انہیں پاکستان میں آباد قریبی رشتہ دار یا دوست علاج کے لیے یوں لے کر آتے جیسے وہ ان کی سگی اولاد ہوں۔ والدین کے ان بچوں کے ہمراہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہوتی کہ ان کے لیے پاسپورٹ بنوانا، اس پر ویزا لگوانا اور سینکڑوں میل کا سفر کرنا بہت مہنگا ہوتا اور وہ یہ اخراجات برداشت نہ کر سکتے۔
پاکستان میں کسی مجبوری کے تحت آنا افغانوں کے لیے ہمیشہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ مطلوبہ دستاویزات ادھوری ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے انہیں قدم قدم پر دھتکارا جاتا ہے اور بےعزت کیا جاتا ہے۔ کینسر کا علاج کئی مہینوں پر محیط ہوتا ہے اور غریب افغانوں کو اپنے ویزے کی تجدید کے لیے ہر ماہ پاک افغان سرحد پر حاضری دینا پڑتی ہے۔ طورخم بارڈر سے آنے والے ایک بچے کے والدین نے مجھے بتایا تھا کہ سرحد پر ہونے والی کسی جھڑپ کے دوران وہ گولیوں کی بارش میں اپنے بچے کو لے کر بھاگے تھے۔
اس وقت ملک بھر بالخصوص کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں ترقی پسند سیاسی اور سماجی کارکنان افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے جبری بےدخلی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ ہمیں پاکستانی افغانوں اور ان کی حمایت میں آواز بلند کرنے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان افغان شہریوں کی پاکستان سے جبری بےدخلی بند کرے اور ایک ایسا طریقہء کار پیش کرے کہ افغان مہاجرین پاکستان کی شہریت حاصل کر سکیں۔ افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے علاوہ انگلستان اور سری لنکا جیسی سابق عالمی چیمپین ٹیموں کو ہرا کر ثابت کر دیا ہے کہ افغان قوم بہت باصلاحیت ہے اور وہ کسی بھی سرزمین کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

